روزہ کی حفاظت: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! روزہ صرف اس لئے فرض نہیں ہوا کہ صبح سے شام تک بھوکا اور پیاسا رہا جائے اور شام کو حلق تک کھانا کھا کر سو جایا جائے بلکہ روزہ کی فرضیت کا اصل مقصد تقویٰ اور طہارتِ قلب ہے اور روزہ نیکی اور پاکیزگیِ قلب کی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے روزوں کی چند چیزوں سے حفاظت کرنا چاہئے جن کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

جھوٹ کے بچو: جھوٹ ایک ایسا گناہ ہے کہ اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے باطل مذاہب کی نظر میں بھی اسے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ ویسے تو ہمیں ہر حال میں جھوٹ سے پرہیز اور گریز کرنا چاہئے لیکن خصوصی طور پر ماہِ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں ہمیں جھوٹ سے بچنا چاہئے کیوں کہ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولتے ہیں تو گویا ہم نے روزہ کے مقصد کو فراموش کر دیا۔ جیسا کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا ’’مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَ الْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَدَعَ طَعَامَہٗ وَ شَرَابَہٗ‘‘ جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل ترک نہ کرے تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کو چھوڑ دے۔ (بخاری شریف)

نا زیبا الفاظ بھی زبان سے ادا نہ ہوں!: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! بعض مالک اپنے نوکروں کو، افسر اپنے ماتحتوں کو، استاذ اپنے شاگردوں کو، ماں باپ اپنی اولاد کو، اولاد اپنے باں باپ کو، بے تکلف دوست اپنے دوستوں کو خواہ مخواہ گالیاں دینے کے عادی ہوتے ہیں، حتی کے آج کے ماحول میں اسے برا تک تصور نہیں کیا جاتا، یہاں تک کہ بعض نوجوانوں کا تکیہ کلام ہی گالی ہوتی ہے کہ ان کی ہر بات گالی گلوچ اور ناشائستہ الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ مگر یاد رکھو! ماہِ رمضان المبارک ان چیزوں سے بھی ہمیں پاک کرنے کے لئے آتا ہے جس سے کسی مسلمان کو ادنیٰ درجہ کی بھی تکلیف ہو۔ ماہِ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں ان چیزوں سے پرہیز کرنے کے کوشش کریں انشاء اللہ تعالیٰ اسی کی برکت سے ہمیشہ کے لئے اس قسم کے الفاظ سے بچنے کا جذبہ اور ذوق دل میں پیدا ہوگا۔

غیبت سے پرہیز: رسول اکرمﷺ کے زمانہ میں دو عورتوں روزہ رکھا اور ایسا ہوا کہ انہیں اس قدر پیاس لگی کہ جان کا خطرہ پیدا ہو گیا، آخر رسول اکرم ﷺ سے روزہ توڑنے کی اجازت مانگی، آپ نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ انہیں کہو جو کچھ کھایا ہے وہ اس میں قے کر دیں، لہٰذا ان کی قے میں خون اور جمے ہوئے خون کے ٹکڑے تھے، لوگوں کو اس پر بے حد تعجب ہوا تو آپ نے فرمایا ان دونوں عورتوں نے اس چیز سے سحری کی جسے اللہ نے حلال کیا ہے اور پھر اس چیز سے توڑ ڈالا جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے یعنی غیبت میں مشغول ہو گئیں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! غیبت ایسا سخت ترین گناہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے ’’اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے ’’وَ لاَ یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضاً اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّأکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتاً فَکَرِہْتُمُوْہُ‘‘ اور کوئی شخص ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے، وہ تو تمہیں ناپسند ہے۔ لہٰذا ہمیں ہمیشہ اور خصوصا ماہِ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں غیبت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

کسی کا دل نہ دکھائو: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! روزہ رکھ کر ہمیں دل آزاری سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔ دل آزاری کئی طریقوں سے ہوتی ہے، کسی کو الٹے سیدھے ناموں سے پکارنا، کسی کا مذاق اڑانا، کسی پر جملے کسنا، کسی کے عیب کے ساتھ اسے منسوب کرنا، کسی کا کوئی سامان ادھر ادھر کر کے اسے ستانا وغیرہ سب دل آزاری کی صورتیں ہیں۔ روزہ رکھ کر ہمیں ان سب چیزوں سے کوسوں دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کیوں کہ روزہ کا ایک مقصد’’ایک دوسرے کی تکالیف کا احساس‘‘ اور ’’آپس میں پیار اور محبت پیدا کرنا ہے‘‘۔ کالجوں، اسکولوں اور مدرسوں کے طلبہ اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں یہ وباء عام ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خوب تمسخر اڑاتے ہیں۔ انہیں جاننا چاہئے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ روزہ کی روحانیت کے خلاف ہے۔ لہٰذا روزہ کی حالت میں دل آزاری سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔

کانوں کی حفاظت کرو: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! یوں تو کانوں کو ہر حال میں بری باتوں کو سننے سے بچانا لازم ہے مگر روزہ کی حالت میں اس کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ جسم کے ہر عضو کا روزہ ہوتا ہے اور کانوں کا روزہ یہ ہے کہ کان کو بُری اور فضول باتوں کے سننے سے بچایا جائے کیوں کہ بُری باتیں سننے کا دل پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے جس سے انسانی خیالات میں گناہوں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔ روزہ دار کے لئے ضروری ہے کہ غیبت، جھوٹی باتیں، لطیفے، فلمی اسٹوریا، فلمی گانے اور فحش باتیں نہ سنے کیوں کہ شریعت میں جن باتوں کا کہنا جائز نہیں ان کا سننا بھی جائز نہیں ہے۔ نعتِ رسول ﷺ اور قرآنِ مقدس کی تلاوت سنیں انشاء اللہ دل کی دنیا روشن ہوگی اور روزہ کے روحانی فوائد حاصل ہوں گے۔

نگاہوں کی حفاظت: اصل روزہ جسم کے ہر عضو کو گناہوں سے بچانا ہے، حالتِ روزہ میں ہمیں اپنی نگاہوں کی بھی حفاظت کرنی لازم ہے۔ اپنی آنکھوں کو غیر محرم عورتوں، ٹی وی، ناچ، گانا، فلم، عریاں تصویریں دیکھنے سے بچانا ہوگا کیوں کہ ان چیزوں کو دیکھنے سے دل میں گناہ کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے اور وہ ہمارے روزہ کی روحانیت کو مردہ کر دیتا ہے۔ لہٰذا اپنی نگاہوں کی مذکورہ بالا چیزوں سے حفاظت کریں۔ قرآنِ مقدس کو دیکھیں اور پڑھیں انشاء اللہ تعالیٰ بے شمار فوائد حاص ہوں گے۔

دل کی حفاظت: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! روزہ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے دل میں ہر طرح کے گناہ سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو۔ انسان جو بھی گناہ کرتا ہے پہلے اس کا تصور اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ اسے کر گزرتا ہے۔ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ صحیح ہو تو پورا بدن صحیح رہے گا اور اگر وہ فاسد ہو جائے تو پورا بدن فاسد ہو جائے گا، وہ دل ہے‘‘ لہٰذا ہمیں اپنے دل کو غلط خیالات سے بچانا چاہئے۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری