حدیث نمبر :484

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں جس کا گوشت کھایا جائے۔ اور جابر کی روایت میں ہے کہ جس کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب سے کوئی حرج نہیں ۱؎

شرح

۱؎ یعنی حلال چرندوں کا پیشاب پاک ہے۔اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے حلال جانوروں کے پیشاب کو پاک مانا مگر ہمارے امام صاحب کے ہاں ناپاک ہے ،انکی دلیل وہ حدیث ہے جو باب “عذابِ قبر” میں گزرچکی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیشاب کی چھینٹوں سے بچو کہ عمومًا عذابِ قبر اس سے ہوتا ہے۔اورجسکی قبر پرکھجور کی تر شاخ گاڑھی تھی اس کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ اونٹوں کا چرواہا تھا۔اس میں حرج سے مراد سخت حرج ہے یعنی جیسے حرام جانوروں کا پیشاب نجاست غلیظہ ہوتا ہے کہ ایک درہم کی بقدر لگنے سے کپڑا نجس ہوجاتا ہے، ایسا حلال جانوروں کا پیشاب نہیں بلکہ وہ نجاست خفیفہ ہے کہ چہارم کپڑا آلود ہوتوناپاک ہوگا۔لہذا یہ حدیث امام صاحب کے خلاف نہیں ۔عرینہ والوں کی حدیث کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں کا پیشاب کی اجازت دی،اس کی تحقیق اسی حدیث کےماتحت کی جائے گی۔ان شاءاللّٰہ یہاں صرف اتنا عرض کئے دیتے ہیں کہ سخت ضرورت کے موقع پر دواءً حرام چیز کا استعمال جائز ہے۔