حدیث نمبر :483

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن صحابہ اس کی وجہ سے مسجد نہ دھوتے تھے ۱؎ (بخاری)

شرح

۱؎ اس حدیث کی شرح پہلے گزر چکی۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ کتے کا جسم سوکھا ہو یا گیلا نجس نہیں اور اس کے مسجد میں آجانے کی وجہ سے زمین گندی نہ ہوگی، ہاں کتے کا لعاب ناپاک ہے یا کتانجاست میں بھیگا ہو تب اس کا جسم ناپاک۔خیال رہے کہ اس حدیث میں اسلام کے ابتدائی حالات کا ذکر ہے۔جب مسجد نبوی میں نہ دروازہ تھا نہ کوئی آڑ اور نہ مسجد کےاحترا م کے اتنے سخت احکام تھے، پھر بعد میں مسجد میں دروازے بھی لگائے گئے، کتا تو کیا وہاں نہ سمجھ بچوں کا لانا، نجس کپڑے پہن کر آنا حتّٰی کہ جس کے بدن سے بو آرہی ہو،یاجس نے کچا پیاز اورلہسن کھایا ہو،یا منہ میں بدبو ہو ان کا داخلہ تک منع کردیاگیا،جیساکہ “باب المساجد” میں اس قسم کی بہت سی احادیث آئیں گی۔لہذا اس حدیث کو دیکھ کر اب مسجدوں کو بے آڑ رکھنا یا وہاں ہر گندے اور ناپاک کو آنے دینا درست نہیں،ہاں حکم یہی ہے کہ اگر اتفاقًا مسجد میں کتا گھس جائے جس کے جسم پر ترناپاکی نہ ہو تو اسکو دھونا واجب نہیں ۔