وَ  اِذْ  غَدَوْتَ  مِنْ  اَهْلِكَ  تُبَوِّئُ  الْمُؤْمِنِیْنَ  مَقَاعِدَ  لِلْقِتَالِؕ-وَ  اللّٰهُ  سَمِیْعٌ  عَلِیْمٌۙ(۱۲۱)

اور یاد کرو اے محبوب جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مورچوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف226)

بمقام مدینہ طیّبہ بقصد اُحد ۔

(ف227)

جمہور مُفسّرِین کا قول ہے کہ یہ بیان جنگ ِاُحد کا ہے جس کا اجمالی واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شکست کھانے سے کفّار کو بڑا رنج تھا اس لئے اُنہوں نے بقصدِ انتقام لشکرِ گراں مرتب کرکے فوج کَشی کی، جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ملی کہ لشکرِکفّار اُحد میں اُترا ہے تو آپ نے اصحاب سے مشورہ فرمایا اس مشورت میں عبداللہ بن ابی بن سلول کو بھی بلایا گیا جو اس سے قبل کبھی کسی مشورت کے لئے بُلایا نہ گیا تھا اکثر انصار کی اور اس عبداللہ کی یہ رائے ہوئی کہ حضورمدینہ طیبہ میں ہی قائم رہیں اور جب کفّار یہاں آئیں تب اُن سے مقابلہ کیا جائے یہی سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی تھی لیکن بعض اصحاب کی رائے یہ ہوئی کہ مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہئے اور اسی پر انہوں نے اصرار کیا سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف لے گئے اور اسلحہ زیب تن فرما کر باہر تشریف لائے اب حضور کو دیکھ کر ان اصحاب کو ندامت ہوئی اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور کو رائے دینا اور اس پر اصرار کرنا ہماری غلطی تھی اس کو معاف فرمائیے اور جو مرضیء مُبارک ہو وہی کیجئے ۔ حضور نے فرمایا کہ نبی کے لئے سزاوار نہیں کہ ہتھیار پہن کر قبل جنگ اُتار دے مشرکین اُحد میں چہار شنبہ پنج شنبہ کو پہنچے تھے اور رسول ِکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روزبعد نماز جمعہ ایک انصاری کی نماز جنازہ پڑھ کر روانہ ہوئے اور پندرہ شوال ۳ھ؁ روز یک شنبہ اُحد میں پہنچے یہاں نزول فرمایا اور پہاڑ کا ایک درّہ جو لشکرِ اسلام کے پیچھے تھا اس طرف سے اندیشہ تھا کہ کسی وقت دشمن پشت پر سے آکر حملہ کرے اس لئے حضور نے عبداللہ بن زُبیر کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ وہاں مامور فرمایا کہ اگر دشمن اس طرف سے حملہ آور ہو تو تیر باری کرکے اُس کو دفع کردیا جائے اور حکم دیا کہ کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا اور اس جگہ کو نہ چھوڑنا خواہ فتح ہو یا شکست ہو عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جس نے مدینہ طیبہ میں رہ کر جنگ کرنے کی رائے دی تھی اپنی رائے کے خلاف کئے جانے کی وجہ سے برہم ہوا اور کہنے لگا کہ حضور سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو عمر لڑکوں کا کہنا تو مانا اور میری بات کی پروا نہ کی اس عبداللہ بن اُبَیْ کے ساتھ تین سو منافق تھے ان سے اس نے کہا کہ جب دشمن لشکرِ اسلام کے مقابل آجائے اس وقت بھاگ پڑو تاکہ لشکرِ اسلام میں ابتری ہوجائے اور تمہیں دیکھ کر اور لوگ بھی بھاگ نکلیں ۔ مسلمانوں کے لشکر کی کل تعداد معہ ان منافقین کے ہزار تھی اور مشرکین تین ہزار ، مقابلہ ہوتے ہی عبداللہ بن اُبَی منافق اپنے تین سو منافقوں کو لے کر بھاگ نکلا اور حضورکے سات سو اصحاب حضور کےساتھ رہ گئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو ثابت رکھا یہاں تک کہ مشرکین کو ہزیمت ہوئی اب صحابہ بھاگتے ہوئے مشرکین کے پیچھے پڑ گئے اور حضور سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاں قائم رہنے کے لئے فرمایا تھا وہاں قائم نہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے اِنہیں یہ دکھا دیا کہ بدر میں اللہ اورا س کے رسول کی فرمانبرداری کی برکت سے فتح ہوئی تھی یہاں حضورکے حکم کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں سے رُعب و ہیبت دور فرمائی اور وہ پلٹ پڑے اور مسلمانوں کو ہزیمت ہوئی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جماعت رہی جس میں حضرت ابوبکر و علی و عباس و طلحہ و سعد تھے اسی جنگ میں دندانِ اقدس شہید ہوا اور چہرۂ اقدس پر زخم آیا اسی کے متعلق یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی

اِذْ  هَمَّتْ  طَّآىٕفَتٰنِ  مِنْكُمْ  اَنْ  تَفْشَلَاۙ-وَ  اللّٰهُ  وَلِیُّهُمَاؕ-وَ  عَلَى  اللّٰهِ  فَلْیَتَوَكَّلِ  الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۲۲)

جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کر جائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے

(ف228)

یہ دونوں گروہ انصار میں سے تھے ایک بنی سلمہ خَزْرَجْ میں سے اور ایک بنی حارثہ اَوْس میں سے یہ دونوں لشکر کے بازو تھے جب عبداللہ بن ابی بن سلول منافق بھاگا تو انہوں نے بھی واپس جانے کا قصد کیا اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور انہیں اس سے محفوظ رکھا اور وہ حضور کے ساتھ ثابت رہے یہاں اس نعمت و احسان کا ذکر فرمایا ہے

وَ  لَقَدْ  نَصَرَكُمُ  اللّٰهُ  بِبَدْرٍ  وَّ  اَنْتُمْ  اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تَشْكُرُوْنَ(۱۲۳)

اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے (ف ۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو

(ف229)

تمہاری تعداد بھی کم تھی تمہارے پاس ہتھیاروں اور سواروں کی بھی کمی تھی۔

اِذْ  تَقُوْلُ  لِلْمُؤْمِنِیْنَ  اَلَنْ  یَّكْفِیَكُمْ  اَنْ  یُّمِدَّكُمْ  رَبُّكُمْ  بِثَلٰثَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ  الْمَلٰٓىٕكَةِ  مُنْزَلِیْنَؕ(۱۲۴)

جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہار ارب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر

بَلٰۤىۙ-اِنْ  تَصْبِرُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  وَ  یَاْتُوْكُمْ  مِّنْ  فَوْرِهِمْ  هٰذَا  یُمْدِدْكُمْ  رَبُّكُمْ  بِخَمْسَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ  الْمَلٰٓىٕكَةِ  مُسَوِّمِیْنَ(۱۲۵)

ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰)

(ف230)

چنانچہ مؤمنین نے روز بدر صبر و تقوٰی سے کام لیا اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔

وَ  مَا  جَعَلَهُ  اللّٰهُ  اِلَّا  بُشْرٰى  لَكُمْ  وَ  لِتَطْمَىٕنَّ  قُلُوْبُكُمْ  بِهٖؕ-وَ  مَا  النَّصْرُ  اِلَّا  مِنْ  عِنْدِ  اللّٰهِ  الْعَزِیْزِ  الْحَكِیْمِۙ(۱۲۶)

اوریہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لیے اور اسی لیے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲)

(ف231)

اور دُشمن کی کثرت اور اپنی قلّت سے پریشانی او راضطراب نہ ہو۔

(ف232)

تو چاہئے کہ بندہ مسبّب الاسباب پر نظر رکھے اور اسی پر توکل رکھے۔

لِیَقْطَعَ  طَرَفًا  مِّنَ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْۤا  اَوْ  یَكْبِتَهُمْ  فَیَنْقَلِبُوْا  خَآىٕبِیْنَ(۱۲۷)

اس لیے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر(لوٹ) جائیں

(ف233)

اس طرح کہ اُن کے بڑے بڑے سردار مقتول ہوں اور گرفتار کئے جائیں جیسا کہ بدر میں پیش آیا۔

لَیْسَ   لَكَ  مِنَ  الْاَمْرِ  شَیْءٌ  اَوْ  یَتُوْبَ  عَلَیْهِمْ  اَوْ  یُعَذِّبَهُمْ  فَاِنَّهُمْ  ظٰلِمُوْنَ(۱۲۸)

یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا اُن پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں

وَ  لِلّٰهِ  مَا  فِی  السَّمٰوٰتِ  وَ  مَا  فِی  الْاَرْضِؕ-یَغْفِرُ  لِمَنْ  یَّشَآءُ  وَ  یُعَذِّبُ  مَنْ  یَّشَآءُؕ-وَ  اللّٰهُ  غَفُوْرٌ  رَّحِیْمٌ۠(۱۲۹)

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے