افطار کا بیان

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! جب بندہ دن بھر صبر و ضبط کا مظاہرہ کر کے روزہ کو مکمل کرتا ہے اور مغرب کا وقت آتا ہے تو وہ حلال چیزیں جو اس کے لئے روزہ کی حالت میں حرام کر دی گئی تھیں اب پھر سے حلال ہو جاتی ہیں، اور مولیٰ کا بندوں پر اتنا احسان ہوتا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں اپنے بندوں کا رزق بڑھا دیتا ہے، اس ماہ میں امیر ہوں یا غریب سارے لوگ افطاری کے لئے اچھے سے اچھا اہتمام کرتے ہیں۔ آئیے ہم اس سے متعلق چند چیزوں کا ملاحظہ کریں تاکہ مزید اہتمام کے ساتھ افطار کرنے اور دوسروں کو افطار کرانے کا جذبہ ہمارے دلوںمیں پیدا ہو۔

افطار کا معنی: لفظِ افطار یا تو ’’فِطْرَۃٌ‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے عادت، اس معنی کے لحاظ سے اسے افطار اس لئے کہیں گے کہ افطار کے بعدی انسان کو اس کی عادت کے مطابق کھانے پینے اور دیگر اعمال کرنے کی اجازت مل جاتی ہے جو کی وہ حالتِ روزہ میں نہیں کر سکتا تھا۔

یا تو ’’فَطْرَۃٌ‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے شگاف پڑنا، سوراخ ہونا۔ اس معنی کے لحاظ سے افطار کو اس لئے افطار کہتے ہیں کہ دو روزوں کے درمیان افطار کے ذریعے شگاف ہو جاتا ہے۔

افطار کے وقت دعاء کا اہتمام: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! یہ کبھی آپ نے سوچا کہ بندہ پانچوں وقت نماز کے بعد دعاء کرتا ہے، جمعۃ المبارک کی نماز اور بڑی راتوں میں دعاء کرتا ہے لیکن دعاء کی قبولیت کا اطمینان اور اہتمام جو ماہِ رمضان شریف کے افطار کے وقت ہوتا ہے وہ کسی اور وقت میں نہیں ہوتا۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ ایک روزہ دار تجارت کی منڈی میں اگر بیٹھا ہے تو وہ افطار سے چند منٹ پہلے سب کام چھوڑ کر نہایت ہی خشوع اور خضوع کے ساتھ مصروفِ دعاء ہوجاتا ہے۔ اسی طرح گھروں میں خواتین اور بچے، مسجد میں نمازی اور امام سب کے سب دعاء میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ آخر وقتِ افطار دعاء کا اتنا اہتمام کیوں کیا جاتا ہے؟

وجہ ظاہر ہے کہ صبح صادق سے لیکر غروبِ آفتاب تک خشیتِ ربانی کے تصور میں ڈوب کر بندے نے اپنے وجود کو تین چیزوں سے روکے رکھا ہے، جو صرف اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر اور اللہ کے خوف کی وجہ سے اس کے احکام کی بجا آوری میں بندہ اخلاص کے ساتھ یہ وقت گزارتا ہے، اسی لئے بندے کو پورا یقین ہوتا ہے کہ میں نے فرماں برداری میں کوئی کمی نہیں کی تو اب افطار کے وقت میں جو بھی دعاء اپنے رب سے کروں گا مولیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ جیسا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں کی دعاء رد نہیں کی جاتی۔ روزہ دار کی افطاری کے وقت، عادل بادشاہ کی اور مظلوم کی دعاء۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

افطار اور نبی کریم ﷺ کی سنت: سنت یہ ہے کہ افطار میں جلدی کی جائے یعنی جوں ہی افطار کا وقت ہو جائے بلا تاخیر افطار کر لی جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا جب رات آئے اور دن چلا جائے اور سورج پورے طور پر چھپ جائے تو اب روزہ دار اپنا روزہ افطار کرے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا ’’دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ کیوں کہ یہود و نصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے تھے۔‘‘ (ابنِ ماجہ)

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسند وہ ہے جو افطار میں جلدی کرنے والا ہو‘‘ (ترمذی شریف)

افطار کی فضیلت: حضرت شمس الدین دارانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میں دن کو روزہ رکھوں اور رات کو حلال لقمہ سے افطار کروں مجھے زیادہ محبوب ہے کہ رات دن نوافل پڑھتے گزاروں۔

کس چیز سے افطار کرے: حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا ’’جب تم میں کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور یا چھوہارے سے افطار کرے کہ وہ برکت ہے اور اگر نہ ملے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)

سائنس کیا کہتی ہے؟: حکیم محمد طارق چغتائی ’’سنت نبوی اور جدید سائنس‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’چوں کہ دن بھر روزے کے بعد نوانائی کم ہو جاتی ہے اس لئے افطاری ایسی چیز سے ہونی چاہئے جو زود ہضم اور مقوی ہو‘‘

کھجور کا کیمیائی تجزیہ

Proteins 2.0

Fats /

Carbohydrates 24.0

Calories 2.0

Sodium 4.7

Potassium 754.0

Calcium 67.9

Magnesium 58.9

Copper 0.21

Iron 1.61

Phosphorus 638.0

Sulpur 51.6

Chlorine 290.0

اس کے علاوہ اور جوہر (Peroxides) بھی پایا جاتا ہے۔ صبح سحری کے بعد شام تک کچھ کھایا پیا نہیں جاتا اور جسم کی کیلوریز (Calories) یا حرارے مسلسل کم ہوتے رہتے ہیں اس کے لئے کھجور ایک ایسی معتدل اور جامع چیز ہے جس سے حرارت اعتدال میں آجاتی ہے اور جسم گوناگوں امراض سے بچ جاتا ہے۔ اگر جسم کی حرارت کو کنٹرول نہ کیا جائے تو مندرجہ ذیل امراض پیدا ہونے کے خطرات ہوتے ہیں:

٭ لو بلڈ پریشر (Low Blood Pressure) فالج (Paralysis) لقوہ

(Facial Paralysis) اور سر کا چکرانا وغیرہ۔

٭ غذائیت میں کمی کی وجہ سے خون کی کمی کے مریضوں کے لئے افطار کے وقت فولاد

(Iron) کی اشد ضرورت ہے اور وہ کھجور میں قدرتی طور پر میسر ہے۔

٭ بعض لوگوں کو خشکی ہوتی ہے ایسے لوگ جب روزہ رکھتے ہیں تو ان کی خشکی بڑھ جاتی

ہے، اس کے لئے کھجور چوں کہ معتدل ہے اس لئے وہ روزہ دار کے حق میں مفید ہے۔

٭ گرمیوں کے روزے میں روزہ دار کو چوں کہ پیاس لگی ہوتی ہے اور وہ افطار کے وقت

اگر فوراً ٹھنڈا پانی پی لے تو معدے میں گیس، تبخیر اور جگر کی ورم (Liver

Inflamation) کا سخت خطرہ ہوتا ہے، اگر یہی روزہ دار کھجور کھا کر پانی پی لے تو

بے شمار خطرات سے بچ جاتا ہے۔

افطار کے بعد کی دعاء: افطار کرنے کے بعد یہ دعاء پڑھے ’’اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ بِکَ اٰمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ‘‘ اے اللہ میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور تیرے دئے ہوئے سے افطار کیا تو تو مجھ سے اس کو قبول فرما۔

دوسروں کو افطار کرانے کی فضیلت: نسائی وابن خزیمہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ فرما یا جو روزہ دار کا روزہ افطار کرائے یاغازی کا سامان کردے تواسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔ (نسائی شریف )

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری