سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی قریظہ کے یہودیوں سے معاہدہ فرما رہے تھے کہ صحابی حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے آپ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا آپ نہیں جانتے تھے کہ کس موضوع پر گفتگو ہورہی ہے جب آپ آئے تو عینیہ حضور علیہ السلام کے سامنے ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا جب آپکو معاہدے کا علم ہوا تو آپ نے اُسے کہا کہ "اے بندر کی آنکھ والے اپنی ٹانگیں سمیٹ لو ، تو حضور علیہ السلام کے سامنے ٹانگیں پھیلائے ہوئے ہے بخدا ! اگر حضور یہاں تشریف فرما نہ ہوتے تو میں یہ نیزہ تیرے خصیوں میں سے نکال دیتا ۔

(انظر: سبل الھدی والرشاد، مترجم ،813/4 زاویہ پبلی شرز لاہور)

وہ پوچھنا یہ تھا کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اُس بے ادب یہودی سے ناموس رسالت کی خاطر کوئی سخت بات تو نہیں کی؟

✍ارسلان احمد اصمعی قادری