قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ حَتّٰى تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ ؕ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 68

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ حَتّٰى تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ ؕ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ اے اہل کتاب ! تم (دین برحق کی) کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم نہ کرو اور اس کو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے ‘ اور ان میں سے بہت سے لوگوں کے کفر اور سرکشی کو وہ ضرور زیادہ کر دے گا جو آپ کے رب کی جانب سے آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے ‘ سو آپ کافروں کی قوم پر افسوس نہ کریں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ اے اہل کتاب ! تم (دین برحق کی) کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم نہ کرو اور اس کو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے ‘ اور ان میں سے بہت سے لوگوں کے کفر اور سرکشی کو وہ ضرور زیادہ کر دے گا جو آپ کے رب کی جانب سے آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے ‘ سو آپ کافروں کی قوم پر افسوس نہ کریں۔ (المائدہ : ٦٨) 

شان نزول : 

امام عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ لکھتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رافع بن حارثہ ‘ سلام بن مشکم ‘ مالک بن الصیف اور رافع بن حریمہ آئے اور کہنے لگے یا محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور ان کے دین پر ہیں اور آپ اس تورات پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے پاس ہے اور آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے برحق ہے۔ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! کیا تم نے دین میں کچھ نئی بدعات نکال لی ہیں اور اللہ نے تم سے جو عہد لیے تھے ‘ تم نے ان کا انکار کردیا ‘ اور اللہ نے تم کو جن چیزوں کے بیان کرنے کا حکم دیا تھا ‘ تم نے ان کو چھپالیا ‘ سو میں تمہاری بدعات سے بری ہوں۔ انہوں نے کہا ہم ان چیزوں پر عمل کرتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں اور بیشک ہم ہدایت اور حق پر ہیں اور ہم آپ پر ایمان لائیں گے ‘ نہ آپ کی اتباع کریں گے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ کہئے کہ اہل کتاب تم (دین برحق کی) کسی چیز پر نہیں ہو۔ (الایہ) (السیرۃ النبویہ ‘ ج ٢‘ ص ١٨١۔ ١٨٠‘ جامع البیان ‘ جز ٦‘ ص ٤١٨۔ ٤١٧) 

یہود و نصاری کے کسی عمل کا لائق شمار نہ ہونا : 

اہل کتاب سے مراد یہود اور نصاری ہیں ‘ یہود اس لیے ہیں کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ تورات کے ان احکام پر عمل کریں جن کو منسوخ نہیں کیا گیا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک انجیل پر ایمان لائیں اور آپ کی بعثت کے بعد قرآن کریم پر ایمان لائیں جو تورات اور انجیل دونوں کا محافظ ہے اور قرآن مجید کے احکام پر عمل کریں ‘ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ‘ اور نصاری اس لیے مراد ہیں کہ انہوں نے انجیل کی ان بشارتوں سے اعراض کیا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق دی تھیں۔ 

تم کسی چیز پر نہیں ہو اس کا معنی یہ ہے کہ تم دین برحق کی کسی چیز کے حامل نہیں ہو۔ تم میں تقوی ہے ‘ نہ دیانت ہے ‘ نہ ہدایت ہے اور تم پر جو کتاب نازل کی گی تھی ‘ تم اس کی کسی چیز پر قائم نہیں ہو ‘ جب تک کہ تم تورات اور انجیل کے اصل احکام پر عمل نہ کرو اور قرآن مجید پر ایمان لا کر اس کے احکام پر عمل نہ کرو۔ اس وقت تک تم میں دین داری اور ہدایت کا ایک شمہ بھی نہیں ہوگا اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارا کوئی عمل قابل ذکر اور لائق شمار نہیں ہے ‘ اور دین داری اور صاحب کتاب ہونے کے تمہارے تمام دعوی جھوٹے اور باطل ہیں ‘ خواہ تم دنیا میں اہل کتاب کہلاتے رہو ‘ لیکن آخرت میں تمہارا کوئی عمل مقبول نہیں ہے۔ 

نزول قرآن سے ان کے کفر اور سرکشی کا اور زیادہ ہونا : 

نیز یہ فرمایا کہ قرآن مجید کا نزول ان کے کفر اور سرکشی کو اور زیادہ کرے گا ‘ کیونکہ قرآن مجید نے ان کی شریعت کو منسوخ کردیا ہے ‘ اور ان کی بدعقیدگیوں کو باطل کیا ہے اور ان کا کافر قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ قرآن مجید سے حسد اور بغض رکھتے ہیں اور جوں جوں قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی ہیں ‘ ان کے حسد اور بغض میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ زیادہ شدومد سے قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں۔ نیز یہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور قرآن مجید کی ہر آیت آپ کی نبوت کی دلیل ہے اور اسلام کے دین مستقم ہونے پر برھان ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی ہے ‘ یہ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کا کفر اور زیادہ ہوجاتا ہے۔ نیز کتنے ہی تاریخی حقائق انہوں نے غلط بیان کیے تھے ‘ جن کی قرآن مجید نے تکذیب کردی ‘ اس لیے یہ قرآن مجید کے خلاف اور زیادی سرکشی کرتے ہیں۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چونکہ رحمت غالب تھی ‘ اس لیے ان کے کفر اور سرکشی سے آپ کو رنج اور افسوس ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کافروں کی (اس) قوم پر افسوس نہ کریں ‘ کیونکہ سرکشی ان کی سرشت بن چکی ہے ‘ یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں ہیں ‘ لہذا آپ ان کے انجام بد پر افسوس نہ کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 68

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.