پھر کہتے ہیں ہمارے پیچھے ہی پڑ گئے ہو اور میسجز میں ان کے چمچوں کی چیخ و پکار قابل دید ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور بےایمان اتنے ہیں کہ ہر غلط عمل کا جواز پیدا کر لیتے ہیں.. باتیں آپ ان سے جتنی مرضی کرا لیں گھما پھرا کر یہ آپکو قائل کر لیں گے کہ محفل نعت کے سٹیج پر گلوکاری کرنا شریعت کی رو کے عین مطابق ہے اور اتنے پکے طریقے سے ٹوپی گھمائیں گے کہ آپ کو گمان ہو گا کہ واقعی ہی یہ اس لمحے کا تقاضہ تھا اور اگر ایسا نہ کرتے تو خدانخواستہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جاتے.

آفرین ہے ساتھ کھڑے پیر صاحب پہ بھی جو سختی کے ساتھ اس موقع پر پاک نبیﷺ کی شریعت عملدرآمد کروانے کے بجائے اپنے ہاتھوں اور سر کی جنبش سے مجمعے کو باور کروانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ نجانے اس گانے کو سن کر روحانیت کی کتنی منازل طےفرما گئے ہیں.

ساتھ کھڑا تیسرا جانور جس کے اندر کا مراثی فوراً اچھل کر باہر آہ گیا اور بےقرار ہو کر مائیک آن کرنے کا اشارہ کر رہا ہے وہ بھی اس بےضمیر مجمعے کو ہاتھ آٹھا کر ساتھ گانا گانے کی تلقین کر رہا ہے. عام طور پر نعت خواں حضرات ہاتھ اٹھوا کر سبحان اللہ کہنے کو کہتے ہیں لیکن اس جانور کو کون سمجھائے کہ محفل نعت کے آداب کیا ہوتے ہیں..

ارے کوئی تو آواز بلند کرتا، کتنے سو کا مجمع ہے کوئی ایک اٹھ کر کہہ دیتا کہ میرے پاک نبیﷺ کی محفل کا یوں تقدس پامال مت کرو، ساونڈ والے آپ ہی مائیک آف کر دیتے اور اپنی حلال کی کمائی کو ان کی شعبدہ بازی کے ذریعے آلودہ ہونے سے بچا لیتے.

میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اب بھی علماء کرام، پیران عظام اور مجمعے میں موجود غیور مسلمانوں نے ان کی موقع پر ہی سرزنش نہ کی اور ان کو کان سے پکڑ کر سٹیج سے نہ اتارا تو آئندہ چند برسوں میں اہلسنت کا سٹیج مکمل طور پر میوزک کنسرٹ میں بدل جائے گا اور ثواب کی نیت سے شرکت کرنے والے واپسی پر گناہوں کے انبار اٹھا کر لے جائیں گے….

لیکن شاید اکثریت کو فرق نہیں پڑتا پر میں بھی صرف اُس اقلیت سے مخاطب ہوں جو آج بھی ناموس رسالت ﷺ کیلئے اٹھ کھڑے ہو جائیں تو ان مراثیوں کی نسلیں بھی محفل نعت کے سٹیج پر بےادبی کرنے کے بارے میں سوچ کر ہی کانپ جائیں.. عشق کے گھڑ سواروں سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ سے کوسوں دور رہیں اور یہاں اپنی شاہسواری کے جلوے مت بکھیرے گا.. ہمیں اپنے اصل کی طرف لوٹ جانے دو آپکو رب کا واسطہ ہے.

اس کو شئر کیجیے شاید کسی بانی محفل، میلاد کمیٹی یا نعتیہ ادارے کا ایمان جاگ جائے اور وہ عوامی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر خالصتا نبی کریم ﷺ کی ذات کی خاطر ان سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیں. لیکن کوئی بائیکاٹ کرے یا نہ کرے ہمارا حوصلہ نہیں ٹوٹے گا.. یا رسول اللہ ﷺ میرے آنسو اور کیفیت گواہ ہے کہ میں کس کرب کیساتھ یہ سب تحریر کر رہا ہوں اور اس پوسٹ کو پڑھنے والا ہر شخص گواہ ہے کہ آپکے اس غلام نے آپکی تعظیم کی خاطر اپنی بساط کے مطابق آواز بلند کی تھی.

اللہ ہم سب کو حق لکھنے اور بولنے کی توفیق عطا فرمائے.