حدیث نمبر :486

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم ایک دن فجرسے پہلے پاخانے گئے میں آپ کے ساتھ ایک برتن لے گیا ۱؎ جب واپس آئے تو آپ کے ہاتھ شریف پر برتن سے پانی ڈالنے لگا آپ نے اپنا ہاتھ اورمنہ دھویا۲؎ آپ پر اونی جبہ تھا آپ کہنیوں سے چڑھانے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی ۳؎ تو آپ نے اپنے ہاتھ شریف جبے کہ نیچے سے نکالے اور جبہ اپنے کندھوں پرڈال لیا ۴؎ کہنیوں تک ہاتھ دھوئے،پھر پیشانی اورپگڑی پر مسح کیا۵؎ پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا فرمایا انہیں رہنے دوکیونکہ میں نے انہیں پاکی پر پہنا ہے۶؎ پھر ان پرمسح فرمالیا،پھرآپ سوار ہوئے اور میں بھی ہم قوم تک پہنچے جونماز کے لیئے کھڑے ہوچکے تھے انہیں عبدالرحمان ابن عوف نماز پڑھا رہے تھے ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۷؎ جب انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا۸؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پائی جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضور انور کھڑے ہو گئے میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا جو رکعت رہ گئی تھی ہم نے پڑھ لی ۹؎(مسلم)

شرح

۱؎ تاکہ حضور پانی سے استنجاء اور وضو کریں۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی خدمت کے لیے حاضر رہنا اور بغیر حکم کے تیاریٔ خدمت کرنا سنت صحابہ ہے اورنمازکی تیاری وقت نمازسے پہلے سنت ہے۔

۲؎ اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ وضو میں دوسرے سے مدد لینا سنت سے ثابت ہے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کو اس طرح وضوکرانا کہ لوٹا خادم کے ہاتھ میں ہوسنت صحابہ ہے۔خیال رہے کہ یہاں کلی اور ناک میں پانی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ یہ دونوں چہرے میں داخل ہیں۔

۳؎ پشمینہ اور انکے لباس پہنناجوکہ صوفیائے کرام کا طریقہ ہے،اسی لئے انہیں صوفی کہا جاتا ہے(صوف والے)۔اس کا ماخذ یہ حدیث ہے حضورکی آستین خوب کشادہ ہوتی تھیں یہ تنگ آستینوں والا جبہ کسی جہاد میں غنیمتًا آیا ہوگا۔یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اس حدیث سے معلوم ہواکفار کے بنائے ہوئے کپڑے اور دوسرے ملک کی وضع کا لباس پہننا جائز ہے،ان کپڑوں پرخوامخواہ ناپاک ہونے کا وہم نہ کرو۔حضرت عمر فاروق نے حَیرہ کے حلے پہننے سے ممانعت فرمائی اورفرمایاسناگیاہے کہ وہ لوگ کپڑے پیشاب سے دھوتے ہیں،ابی ابن کعب نے عرض کیا کہ عہدنبوی میں یہ جوڑے ہم نے بھی پہنے ہیں اورحضورنے بھی تب آپ نے اپنا حکم واپس لیا۔دوسری قوم کا لباس پہننا جائز ہے۔بشرطیکہ وہ کفاریافساق کی علامت نہ ہو۔

۴؎ نیچے قمیض اورتہبندبھی تھا،ورنہ بے پردگی ہوتی۔اس سے معلوم ہواکہ بیک وقت کرتہ واسکٹ اچکن وغیرہ چند کپڑے پہنناجائزہے۔

۵؎ پیشانی سے مراد سر کا اگلا چوتھائی حصہ ہے کہ یہ عمومًا پیشانی کی بقدرہی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ حضور ہمیشہ پورے سر کا مسح ہی کرتے تھے۔چہارم سر کا مسح اس حدیث سے ثابت ہے یہ فرض اور وہ سنت۔سرکار نے عمامہ پر مسح نہیں کیا تھا،بلکہ اسے پکڑا تھا تاکہ گر نہ جائے،حضرت مغیرہ اسے مسح سمجھے۔لہذا یہ حدیث حضرت جابررضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ آپ نے فرمایا عمامہ پر مسح جائز نہیں۔جب تک کہ سر پر ہاتھ نہ پھیرا۔(مرقاۃ)

۶؎ یعنی پہلے وضو کرلیا،پھر موزے پہنے ہیں۔خیال رہے کہ اگر کوئی شخص پہلے پاؤں دھو کر موزے پہن لے پھر وضو کے باقی اعضاء دھوئے تب بھی جائز ہے۔اس حدیث سے یہی ثابت ہورہا ہے کہ فرمایا موزے پہنتے وقت میرا پاؤں پاک تھے۔یہ نہ فرمایا کہ میں باوضو تھا۔

۷؎ یہ اس لئے ہوا کہ جماعت صحابہ کو خیال گزرا کہ حضور نے اورجگہ نمازپڑھ لی ہوگی کیونکہ سرکار ان سے دور تھے اور حالت سفر کی تھی،ورنہ صحابہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر نماز نہ پڑھتے تھے اگرچہ وقت تنگ ہوتا،جیسا کہ بہت سی روایات میں ہے۔

۸؎ کہ پیچھے نہ ہٹو نماز پڑھاتے رہو۔اس سے چند مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صحابہ کرام عین نماز کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ کا خیال رکھتے تھے۔دوسرے یہ کہ صحابہ نماز میں حضور کا ادب کرتے تھے جس سے ان کی نماز ناقص نہ ہوتی،بلکہ کامل ترہوجاتی تھی۔تیسرے یہ کہ اگر عین جماعت نماز کی حالت میں حضورتشریف لے آئیں تو موجودہ امام کی امامت منسوخ ہوگئی اوراس وقت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی امام ہوں گے ورنہ حضر ت عبدالرحمان پیچھے ہٹنے کی کوشش نہ کرتے۔چوتھے یہ کہ اس امام کو اگرحضور امامت کا حکم دیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوکرامامت کرے گا۔پانچویں یہ کہ افضل کی نماز مفضول کے پیچھے جائز ہے۔خیال رہے کہ حضور نے صرف یہ ایک رکعت دوسرے کے پیچھے پڑھی ہے باقی تمام نمازیں پڑھائی ہیں کسی کے پیچھے پڑھی نہیں،ایسا ہی واقعہ صدیق اکبر کو بھی پیش آیا تھا حضورنے انہیں اقامت پر قائم رہنےکا اشارہ کیا تھا مگر صدیق اکبر نہ مانے اور مقتدی بن گئے وہ صدیق اکبر کا ادب تھا اوریہ حضرت عبدالرحمان کی فرمانبرداری،دونوں اﷲ کے پیارے ہیں مگر صدیق صدیق ہی ہیں۔

۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسبوق اپنی باقیماندہ رکعت ادا کرنے کے لئے امام کے دو طرفہ سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوا جیسا کہ”فَلَمَّا سَلِمَ”سے معلوم ہوا۔