یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا  اَضْعَافًا  مُّضٰعَفَةً۪-  وَّ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰)

اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اور اللہ سے ڈرو اُس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے

(ف234)

مسئلہ : اس آیت میں سود کی ممانعت فرمائی گئی مع توبیخ کے اس زیادتی پر جو اس زمانہ میں معمول تھی کہ جب میعاد آجاتی تھی اور قرضدار کے پاس ادا کی کوئی شکل نہ ہوتی تو قرض خواہ مال زیادہ کرکے مدّت بڑھا دیتا۔ اور ایسا بار بار کرتے جیسا کہ اس ملک کے سودخوار کرتے ہیں اور اس کو سود در سود کہتے ۔

مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ کبیرہ سے آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔

وَ  اتَّقُوا  النَّارَ  الَّتِیْۤ  اُعِدَّتْ  لِلْكٰفِرِیْنَۚ(۱۳۱)

اور اُس آگ سے بچو جوکافروں کے لیے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵)

(ف235)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس میں ایمانداروں کو تہدید ہے کہ سود وغیرہ جو چیزیں اللہ نے حرام فرمائیں ان کو حلال نہ جانیں کیونکہ حرام قطعی کو حلال جاننا کُفر ہے۔

وَ  اَطِیْعُوا  اللّٰهَ  وَ  الرَّسُوْلَ  لَعَلَّكُمْ  تُرْحَمُوْنَۚ(۱۳۲)

اور اللہ و رسول کے فرمان بردار رہو(ف۲۳۶) اس اُمید پر کہ تم رحم کیے جاؤ

(ف236)

کہ رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاعت طاعتِ الٰہی ہے اور رسُول کی نافرمانی کرنے والا اللہ کا فرمانبردار نہیں ہوسکتا۔

(ف237)

توبہ و ادائے فرائض و طاعات و اخلاصِ عمل اختیار کرکے ۔

وَ  سَارِعُوْۤا  اِلٰى  مَغْفِرَةٍ  مِّنْ  رَّبِّكُمْ  وَ  جَنَّةٍ  عَرْضُهَا  السَّمٰوٰتُ  وَ  الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)

اور دوڑو(ف۲۳۷)اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان وزمین آجائیں (ف۲۳۸) پرہیزگاروں کے لیے تیار رکھی ہے (ف۲۳۹)

(ف238)

یہ جنّت کی وُسعت کا بیان ہے اس طرح کہ لوگ سمجھ سکیں کیونکہ اُنہوں نے سب سے وسیع چیز جو دیکھی ہے وہ آسمان و زمین ہی ہے اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین کے طقبے طقبے اور پرت پرت بنا کر جوڑ دیئے جائیں اور سب کا ایک پرت کردیا جائے اس سے جنّت کے عرض کا اندازہ ہوتا ہے کہ جنّت کتنی وسیع ہے ہر قَل بادشاہ نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لکھا کہ جب جنّت کی یہ وسعت ہے کہ آسمان و زمین اس میں آجائیں تو پھر دوزخ کہاں ہے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ سُبحانَ اللہ جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے اس کلام بلاغت نظام کے معنی نہایت دقیق ہیں ظاہر پہلو یہ ہے کہ دورۂ فلکی سے ایک جانب میں دن حاصل ہوتا ہے تو اس کے جانب مقابل میں شب ہوتی ہے اسی طرح جنت جانبِ بالا میں ہے اور دوزخ جہت پستی میں یہود نے یہی سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تھا تو آپ نے بھی یہی جواب دیا تھا اس پر انہوں نے کہا کہ توریت میں بھی اسی طرح سمجھایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت و اختیار سے کچھ بعید نہیں جس شے کو جہاں چاہے رکھے یہ انسان کی تنگی نظر ہے کہ کسی چیز کی وسعت سے حیران ہوتا ہے تو پوچھنے لگتا ہے کہ ایسی بڑی چیز کہاں سمائے گی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ جنّت آسمان میں ہے یا زمین میں فرمایا کون سی زمین اور کون سا آسمان ہے جس میں جنت سما سکے عرض کیا گیا پھر کہاں ہے فرمایا آسمانوں کے اوپر زیرِعرش ۔

(ف239)

اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت ” وَاتَّقُوالنَّارَالَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ ” سے ثابت ہوا کہ جنّت و دوزخ پیدا ہوچکیں موجود ہیں۔

الَّذِیْنَ  یُنْفِقُوْنَ  فِی  السَّرَّآءِ  وَ  الضَّرَّآءِ  وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)

وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں

(ف240)

یعنی ہر حال میں خرچ کرتے ہیں بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے سید عالم نے فرمایا خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا یعنی خدا کی راہ میں دو تمہیں اللہ کی رحمت سے ملے گا۔

وَ  الَّذِیْنَ  اِذَا  فَعَلُوْا  فَاحِشَةً  اَوْ  ظَلَمُوْۤا  اَنْفُسَهُمْ  ذَكَرُوا  اللّٰهَ  فَاسْتَغْفَرُوْا  لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ  مَنْ  یَّغْفِرُ  الذُّنُوْبَ  اِلَّا  اللّٰهُ  ﳑ  وَ  لَمْ  یُصِرُّوْا  عَلٰى  مَا  فَعَلُوْا  وَ  هُمْ  یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)

اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں

(ف241)

یعنی اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہو۔

(ف242)

اور توبہ کریں اور گناہ سے باز آئیں اور آئندہ کے لئے اس سے باز رہنے کا عزم پختہ کریں کہ یہ توبہ مقبولہ کے شرائط میں سے ہے۔

اُولٰٓىٕكَ  جَزَآؤُهُمْ  مَّغْفِرَةٌ  مِّنْ  رَّبِّهِمْ  وَ  جَنّٰتٌ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُ  خٰلِدِیْنَ  فِیْهَاؕ-وَ  نِعْمَ  اَجْرُ  الْعٰمِلِیْنَؕ(۱۳۶)

ایسوں کا بدلہ اُن کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں(نیک لوگوں) کاکیا اچھا نیگ (بدلہ)ہے (ف۲۴۴)

(ف243)

شان نزول: تیہان خرما فروش کے پاس ایک حسین عورت خرمے خریدنے آئی اُس نے کہا یہ خرمے تو اچھے نہیں ہیں عمدہ خرمے مکان کے اندر ہیں اس حیلے سے اس کو مکان میں لے گیا اور پکڑ کر لپٹا لیا اور منہ چُوم لیا عورت نے کہا خدا سے ڈر یہ سنتے ہی اس کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہوا اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حال عرض کیا اس پر یہ آیت ” وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْ” نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ ایک انصاری اورایک ثقفی دونوں میں محبت تھی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کو بھائی بنایا تھا ثقفی جہاد میں گیا تھا اور اپنے مکان کی نگرانی اپنے بھائی انصاری کے سپر د کر گیا تھا ایک روز انصاری گوشت لایا جب ثقفی کی عورت نے گوشت لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو انصاری نے اُس کا ہاتھ چُوم لیا اور چُومتے ہی اس کو سخت ندامت و شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اپنے سر پر خاک ڈالی اور منہ پر طمانچے مارے جب ثقفی جہاد سے واپس آیا تو اس نے اپنی بی بی سے انصاری کا حال دریافت کیا اس نے کہا خدا ایسے بھائی نہ بڑھائے اور واقعہ بیان کیا انصاری پہاڑوں میں روتا استغفار و توبہ کرتا پھرتا تھا ثقفی اس کو تلاش کرکے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا اِس کے حق میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

(ف244)

یعنی اطاعت شعاروں کے لئے بہتر جزا ہے۔

قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِكُمْ  سُنَنٌۙ-فَسِیْرُوْا  فِی  الْاَرْضِ   فَانْظُرُوْا  كَیْفَ  كَانَ  عَاقِبَةُ  الْمُكَذِّبِیْنَ(۱۳۷)

تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا(ف۲۴۶)

(ف245)

پچھلی اُمتوں کے ساتھ جنہوں نے حِرص دنیا اور اس کے لذّات کی طلب میں انبیاء و مرسلین کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلتیں دیں پھر بھی وہ راہ ِراست پر نہ آئے تو انہیں ہلاک و برباد کردیا۔

(ف246)

تاکہ تمہیں عبرت ہو۔

هٰذَا  بَیَانٌ  لِّلنَّاسِ   وَ  هُدًى  وَّ  مَوْعِظَةٌ  لِّلْمُتَّقِیْنَ(۱۳۸)

یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے

وَ  لَا  تَهِنُوْا  وَ  لَا  تَحْزَنُوْا  وَ  اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹)

اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو

(ف247)

اس کا جو جنگِ اُحد میں پیش آیا۔

اِنْ  یَّمْسَسْكُمْ  قَرْحٌ  فَقَدْ  مَسَّ  الْقَوْمَ  قَرْحٌ  مِّثْلُهٗؕ-وَ  تِلْكَ  الْاَیَّامُ  نُدَاوِلُهَا  بَیْنَ  النَّاسِۚ-وَ  لِیَعْلَمَ  اللّٰهُ  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  وَ  یَتَّخِذَ  مِنْكُمْ  شُهَدَآءَؕ-وَ  اللّٰهُ  لَا  یُحِبُّ  الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۴۰)

اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں(ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لیے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو

(ف248)

جنگِ اُحد میں ۔

(ف249)

جنگِ بدر میں باوجود اس کے انہوں نے پست ہمّتی نہ کی اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی و کم ہمّتی نہ چاہئے۔

(ف250)

کبھی کِسی کی باری ہے کبھی کِسی کی ۔

(ف251)

صبرو اخلاص کے ساتھ کہ اُن کو مشقت و ناکامی جگہ سے نہیں ہٹا سکتی اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آسکتی۔

وَ  لِیُمَحِّصَ   اللّٰهُ  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  وَ  یَمْحَقَ  الْكٰفِرِیْنَ(۱۴۱)

اور اس لیے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹا دے (ف۲۵۳)

(ف252)

اور انہیں گناہوں سے پاک کردے۔

(ف253)

یعنی کافروں سے جو مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ تو مسلمانوں کے لئے شہادت و تطہیر ہیں اور مُسلمان جو کُفّار کو قتل کریں تو یہ کُفّار کی بربادی اَور اُن کا استیصال ہے۔

اَمْ  حَسِبْتُمْ  اَنْ  تَدْخُلُوا  الْجَنَّةَ  وَ  لَمَّا  یَعْلَمِ  اللّٰهُ  الَّذِیْنَ  جٰهَدُوْا  مِنْكُمْ  وَ  یَعْلَمَ  الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲)

کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی (ف۲۵۴)

(ف254)

کہ اللہ کی رضاء کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف اُٹھاتے ہیں اِس میں اُن پر عِتاب ہے جو روز اُحد کُفّار کے مقابلہ سے بھاگے۔

وَ  لَقَدْ  كُنْتُمْ  تَمَنَّوْنَ  الْمَوْتَ  مِنْ  قَبْلِ  اَنْ  تَلْقَوْهُ۪-فَقَدْ  رَاَیْتُمُوْهُ  وَ  اَنْتُمْ  تَنْظُرُوْنَ۠(۱۴۳)

اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے

(ف255)

شانِ نزول: جب شہداءِ بدر کے درجے اور مرتبے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان بیان فرمائے گئے تو جو مسلمان وہاں حاضر نہ تھے انہیں حسرت ہوئی اور انہوں نے آرزو کی کہ کاش کِسی جہاد میں انہیں حاضری میسّر آئے اور شہادت کے درجات ملیں اِنہی لوگوں نے حضور سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُحد پر جانے کے لئے اصرار کیا تھا اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔