*خدارا اپنے حصہ کا چراغ جلائیے، اہلسنت کو بربادی سے بچائیے،،، !*

*گزشتہ ہفتے ایک معروف نعت خواں نے محفل نعت کے انداز میں سجائے گئے مذہبی سٹیج پر کہا:*

*”میں پڑھنی حمد سی مگر آمد کوئی ہور ہو گئی اے”*

اور پھر آمد پڑھنا شروع کر دی;

*”اکھیاں اڈیک دیاں دل واجاں مار دا”*

انالله وانا اليه راجعون،،،

*نجانے کیوں وہاں کرسی پر براجمان پیر صاحب اور دیگر سامعین بھی ذرہ برابر نہیں شرمائے.*

*اس صورتحال میں چند گزارشات*

(1) *محافل میلاد کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے پروفیشنل نعت خوانوں کی تعلیم و تربیت انتہائی ضروری ہے۔*

(2) *محافل میں نعت خوانی کا وقت کم اور وعظ و بیان کا وقت زیادہ ہونا چاہیے تاکہ اصلاح عقائد و اعمال زیادہ ہو.*

(3) *نادان سنّیو! مدارس کے بجاۓ پروفیشنل نعت خوانوں پر پیسہ لٹا کر آئندہ نسلوں پر دینی علوم کے دروازے اپنے ہاتھوں سے بند نہ کرو۔*

(4) *بعض محافل پر ایک رات میں اتنا خرچ کردیاجاتا ہے جتنا بعض مدرسوں کا پورے سال کا بجٹ ہوتا ہے۔*

*عوام اہلسنت پر رحم کی اپیل*

(5) *محفلوں کو جہالت،طوالت اور خرافات سے بچانے کے لیے جاہلوں کی”نقابت و نظامت” پر فی الفور پابندی لگائی جاۓ۔*

(6) *ایک لاکھ نعت خواں مل کر بھی ایک “عالم دین” کے برابر نہیں ہوسکتے۔*