باب التیمم

تیمم کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ تیمم لغت میں قصد اور ارادے کو کہتے ہیں۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیۡثَ مِنْہُ “۔شریعت میں پاکی کی نیت سے زمین پر دوبارہاتھ مارکرچہرے اور ہاتھوں پر پھیرنے کوتیمم کہتے ہیں۔تیمم جنابت سے بھی ہوتا ہے اور بے وضو سے بھی،دونوں کا طریقہ ایک ہی ہے صرف نیت میں فرق ہے،تیمم صرف جنس زمین سے ہوسکتا ہے۔جنس زمین وہ ہے جو زمین سے پیدا ہو اور آگ میں نہ گلے،نہ راکھ بنے،اس کے مسائل فقہ میں دیکھو۔

حدیث نمبر :494

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم کو دوسروں لوگوں پر تین چیزوں سے بزرگی دی گئی ۱؎ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کی گئیں۲؎ ہمارے لیئے ساری زمین مسجد بنادی گئی ۳؎ اور جب پانی نہ پائیں تو اس کی مٹی پاک کرنے والی کردی گئی ۴؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی یہ تین چیزیں وہ ہیں جو ہماری امت کو ملیں ہمارے سوا کسی کو ان میں سے ایک بھی نہ ملی۔خیال رہے کہ یہ تین حصر کے لیے نہیں کیونکہ اس امت کی اس کے علاوہ اور بہت سی خصوصیات ہیں۔

۲؎ یعنی نمازوں کی صفیں جماعت میں اور غازیوں کی صفیں میدانِ جہاد میں ایسی اعلٰی اور افضل ہیں جیسے مقرب فرشتوں کی صفیں بارگاہِ الٰہی میں بوقتِ عبادت۔

۳؎ کہ ہرجگہ نمازہوسکتی ہے،پچھلی امتوں کی نمازیں صرف گرجوں اور کنیسوں ہی میں ہوسکتی تھیں،زمین میں،پہاڑ،دریائی اورہوائی جہازوغیرہ سب داخل ہیں۔خیال رہے کہ روڑی،قبرستان،بت خانہ،مذبحہ وغیرہ میں نماز درست نہیں۔مگر یہ ایک عارضہ کی وجہ سے ہے اگریہ عارضہ ہٹ جائے تو نمازدرست،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۴؎ پانی نہ پانے سے مراد اس کے استعمال پر نہ قادرہوناہے،خواہ اس لیے کہ پانی موجود نہ ہو یا اس لیے کہ موجود تو ہو،مگر دشمن یا موذی کی وجہ سے استعمال نہ کرسکے۔مٹی سے مرادجنس زمین کی ہر چیز ہے۔ریتا،پتھر،کان کا نمک،پتھری،کوئلہ وغیرہ سب داخل ہیں۔