حدیث نمبر :495

روایت ہے حضرت عمران سے فرماتے ہیں کہ ہم حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص کو دیکھا جو الگ تھا قوم کے ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا اے فلاں تجھے قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس نے روکا ۱؎ عرض کیا مجھے جنابت پہنچی اورپانی ہے نہیں تو فرمایا تیرے لیے مٹی ہے۲؎ وہ تجھے کافی ہے۳؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی تو نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟اس عتابانہ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نماز سے علیحدہ بیٹھا رہنا برا ہے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ جو جماعت سے نماز نہ پڑھ سکے وہ جماعت اولٰی کے وقت جماعت کی جگہ نہ بیٹھے کہ اس میں جماعت سے روگردانی ہے بلکہ وہاں سے چلا جائے۔

۲؎ امام شافعی یہاں صعید کے معنی مٹی کرتے ہیں،ان کے نزدیک تیمم صرف مٹی سے ہوسکتا ہے۔امام اعظم و امام مالک صعید کے معنی روئے زمین کرتے ہیں(مَاصَعِدَ عَلَی الْاَرْضِ)،اس لئے ان دو بزرگوں کے ہاں ہر جنس زمین سے تیمم جائز۔ان دو بزرگوں کی دلیل بخاری شریف کی حدیث جابر ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًاوَّطُھُوْرًا”اس میں ہرقسم کی زمین کو مطہر قراردیا گیا۔بخاری شریف کی یہ حدیث “صعید”اورپچھلی حدیث جس میں”تربت” کاذکرہوا،کی تفسیر ہے۔

۳؎ غالبًا ان صاحب کوتیمم کا طریقہ آتا تھا مگر یہ خبر نہ تھی کہ تیمم جنابت سے بھی ہوجاتا ہے،اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طریقہ نہ بتایا۔