وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِهِ  الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ  مَّاتَ  اَوْ  قُتِلَ  انْقَلَبْتُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْؕ-وَ  مَنْ  یَّنْقَلِبْ  عَلٰى  عَقِبَیْهِ  فَلَنْ  یَّضُرَّ  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاؕ-وَ  سَیَجْزِی  اللّٰهُ  الشّٰكِرِیْن(۱۴۴)

اورمحمدتو ایک رسول ہیں (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷ ) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو اُلٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا (ف۲۵۸)

(ف256)

اور رسولوں کی بِعثت کا مقصُوْد رسالت کی تبلیغ اور حجّت کا لازم کردینا ہے نہ کہ اپنی قوم کے درمیان ہمیشہ موجود رہنا۔

(ف257)

اور اُنکے متبعین اُن کے بعد اُن کے دین پر باقی رہے

شانِ نزول جنگِ اُحد میں جب کافروں نے پُکارا کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے اور شیطان نے یہ جھوٹی افواہ مشہور کی تو صحابہ کو بہت اِضطراب ہوا اَور اُن میں سے کچھ لوگ بھاگ نکلے پھر جب ندا کی گئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف رکھتے ہیں تو صحابہ کی ایک جماعت واپس آئی حضور نے انہیں ہزیمت پر ملامت کی اُنہوں نے عرض کیا ہمارے ماں اور باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی شہادت کی خبر سُن کر ہمارے دِل ٹوٹ گئے اور ہم سے ٹھہرا نہ گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیاکہ انبیاء کے بعد بھی اُمّتوں پر اُن کے دین کا اتباع لازم رہتا ہے تو اگر ایسا ہوتا بھی تو حضور کے دین کا اتباع اور اس کی حمایت لازم رہتی۔

(ف258)

جو نہ پھرے اور اپنے دین پر ثابت رہے ان کو شاکرین فرمایا کیونکہ اُنہوں نے اپنے ثبات سے نعمتِ اسلام کا شکر ادا کیا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امینُ الشاکرین ہیں۔

وَ  مَا  كَانَ  لِنَفْسٍ  اَنْ  تَمُوْتَ  اِلَّا  بِاِذْنِ  اللّٰهِ  كِتٰبًا  مُّؤَجَّلًاؕ-وَ  مَنْ  یُّرِدْ  ثَوَابَ  الدُّنْیَا  نُؤْتِهٖ  مِنْهَاۚ-وَ  مَنْ  یُّرِدْ  ثَوَابَ  الْاٰخِرَةِ  نُؤْتِهٖ  مِنْهَاؕ-وَ  سَنَجْزِی  الشّٰكِرِیْنَ(۱۴۵)

اور کوئی جان بے حکم خدا مرنہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اورجو دنیا کا انعام چاہے(ف۲۶۱) ہم اس میں سے اُسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اُسے دیں(ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں

(ف259)

اس میں جہاد کی ترغیب ہے ،اور مسلمانوں کو دُشمن کے مقابلہ پر جری بنایا جاتا ہے کہ کوئی شخص بغیر حکمِ الٰہی کے مر نہیں سکتا چاہے وہ مہالک و معارک میں گھس جائے اور جب موت کا وقت آتا ہے تو کوئی تدبیر نہیں بچاسکتی۔

(ف260)

اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔

(ف261)

اور اس کو اپنے عمل وطاعت سے حصولِ دنیا مقصُود ہو۔

(ف262)

اس سے ثابت ہوا کہ مدار نیّت پر ہے جیسا کہ بخاری و مسلم شریف کی حدیث میں آیا ہے۔

وَ  كَاَیِّنْ  مِّنْ  نَّبِیٍّ  قٰتَلَۙ-مَعَهٗ  رِبِّیُّوْنَ  كَثِیْرٌۚ-فَمَا  وَ  هَنُوْا  لِمَاۤ  اَصَابَهُمْ  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  وَ  مَا  ضَعُفُوْا  وَ  مَا  اسْتَكَانُوْاؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)

اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے تو نہ سُست پڑے اُن مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں

(ف263)

ایسا ہی ہر ایماندار کو چاہئے۔

وَ  مَا  كَانَ  قَوْلَهُمْ  اِلَّاۤ  اَنْ  قَالُوْا  رَبَّنَا  اغْفِرْ  لَنَا  ذُنُوْبَنَا  وَ  اِسْرَافَنَا  فِیْۤ  اَمْرِنَا  وَ  ثَبِّتْ  اَقْدَامَنَا  وَ  انْصُرْنَا  عَلَى  الْقَوْمِ  الْكٰفِرِیْنَ(۱۴۷)

وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جمادے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶)

(ف264)

یعنی حمایت دین و مقاماتِ حرب میں اُن کی زبان پر کوئی ایسا کلمہ نہ آتا جِس میں گھبراہٹ پریشانی اور تزلزل کاشائبہ بھی ہوتابلکہ وہ استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہتے اور دُعا کرتے۔

(ف265)

یعنی تمام صغائر و کبائر باوجود یکہ وہ لوگ ربّانی یعنی اتقیا تھے پھر بھی گناہوں کا اپنی طرف نسبت کرنا شانِ تواضع و انکسار اور آدابِ عبدیت میں سے ہے۔

(ف266)

اس سے یہ مسئلہ معلُوم ہوا کہ طلب ِحاجت سے قبل توبہ و استغفار آدابِ دُعا میں سے ہے۔

فَاٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  ثَوَابَ  الدُّنْیَا  وَ  حُسْنَ  ثَوَابِ  الْاٰخِرَةِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَ۠(۱۴۸)

تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں

(ف267)

یعنی فتح و ظفر اور دشمنوں پر غلبہ۔

(ف268)

مغفرت و جنّت اور استحقاق سے زیادہ انعام و اکرام۔