اعتدال اور ہمارا معاشرہ

آج کل کے پر فتن دور میں دنیا معتدل بندے کو رہنے نہیں دیتی اس پر طرح طرح کے جھوٹے الزامات اور بہتان لگا دیے جاتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے اسے مجروح قرار دیا جائے لیکن اس کام میں زیادہ ہاتھ مذہبی لوگوں اور مذہبی جماعتوں کا ہوتا ہے جب کہ یہی لوگ اپنے دروس میں یہی بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ “کسی پر جھوٹی تہمتیں اور بہتان نہ لگایا کریں۔”

لیکن عملی زندگی میں یہ باتیں ان کی الٹ ہی ہوتی ہیں۔

اصل میں یہ جھوٹی تہمتیں اور بہتان تراشیاں صرف اپنی شخصیت پرستی کے دفاع میں کی جاتیں ہیں تاکہ ان کی شخصیت پرستی محفوظ رہے۔ اور ان کے چندے میں کوئی کمی نہ آئے۔

اللہ ہمیں ایسی شخصیت پرستی سے محفوظ رکھے اور صرف اپنی ذات اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کی وجہ سے محبت کرنے والا اور بغض رکھنے والا بنائے۔

آمین