الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :498

روایت ہے ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاک مٹی مسلمان کا آب وضو ہے اگرچہ دس سال پانی نہ پائے ۱؎ پھر جب پانی پائے تو اس سے اپنا بدن دھوئے کہ یہ یقینًا بہتر ہے۲؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل روایت کی دس سال کے قول تک۔

شرح

۱؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ تیمم وضو کی طرح طہارت مطلقہ اور کاملہ ہے،لہذا ایک تیمم سے ایک وقت میں بھی چند نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور ایک وقت کے تیمم سے کئی وقت تک نمازیں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو قراردیا تو جووضو کا حکم ہے وہی اس کا حکم ہے۔امام شافعی کے ہاں تیمم ضرورت طہارت ہے کہ وقت نماز نکل جانے سے تیمم ٹوٹ جاتا ہے اور ایک تیمم سے چند نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ ہرنماز کے لیے الگ تیمم کرتے تھے۔یہ استحبابًا تھا جیسے وضو پر وضوکرلینا۔

۲؎ بہترسے مراد اصل ہے یعنی پانی اصل طہارت ہے اور اس کی عدم موجودگی میں تیمم اس کا نائب،جب اصل آگیاتو نائب کی گنجائش نہ رہی۔اس کامطلب یہ نہیں کہ تیمم بھی جائزہےمگر وضوبہتر،رب فرماتاہے :”اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسْتَقَرًّا”۔