روزہ کے فضائل احادیث کی روشنی میں

مشک سے زیادہ خوشبودار: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’وَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ‘‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بوٗ اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ بہتر ہے۔ (بخاری شریف)

میں ہی اس کا بدلہ دوں گا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ’’اَلصِّیَامُ لِیْ وَ اَنَا اُجْزِیْ بِہٖ وَ الْحَسَنَۃَ بِعَشَرِ اَمْثَالِہَا‘‘ روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی ان کا بدلہ دوں گا اور دوسری نیکیوں کا اجر دس گنا کر دوں گا۔ (بخاری شریف)

روزہ اللہ کا یا اللہ کے لئے: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! نماز، حج و زکوٰۃ یہ عبادتیں بھی بندہ اللہ ہی کے لئے کرتا ہے لیکن ان اعمال کی جزاء حصولِ رضائے الٰہی کا ذریعہ تو ہے لیکن مولیٰ کا حصول صرف روزے کی جزاء میں ہے، آخر ایسا کیوں؟

اس کی چند وجہیں ہیں:

٭ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو اس کی ادائیگی صلوٰۃ کو لوگ دیکھتے ہیں، بندہ حج کرتا ہے تو اس کے ارکان کی ادائیگی کو لوگ دیکھتے ہیں، بندہ زکوٰۃ دیتا ہے تو اس سے بھی لوگ باخبر ہوتے ہیں لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اس کا علم روزہ دار اور پروردگار کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہوتا۔ بندہ وقتِ سحر گھر والوں کے ساتھ سحری کر بھی لے لیکن لوگوں کی نظروں سے اونجھل ہوکر دن کے اجالے میں اگر کھا لے تو کسی کو اس کی کیا خبر؟

لیکن بندہ اپنے مولیٰ کی خوشی کی خاطر اور اس کے خوف سے نہ چھپ کر کھاتا ہے اور نہ اپنی پیاس کو بجھانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ دامنِ صبر کو تھام کر اپنے مولیٰ کی رضا کی خاطر خواہشاتِ نفس کو پوری نہیں کرتا۔ اللہ عز وجل کو بندے کا یہ عمل اتنا پسند آتا ہے کہ رب جزاء میں خود اپنی ذات کو پیش کر دیتا ہے۔ اس لئے کہ روزہ میں رائی کے دانے کے برابر بھی ریا کا دخل نہیں ہوتا اور اللہ کی بارگاہ میں وہی عبادت قابلِ قبول ہے جو ریا سے پاک ہو۔

٭ استغناء اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور بندہ روزہ رکھ کر استغناء کی صفت کو اپناتا ہے تو وہ ایک گونہ صفتِ خداوندی کا مظہر ہوجاتا ہے۔

٭ باطل خدائوں کی عبادت قیام، رکوع، سجود، طواف، نذر و نیاز اور ان کی خاطر لڑائی سے کی گئی لیکن کسی باطل خدا کے لئے کبھی روزہ نہیں رکھا گیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’روزہ خصوصاً میرے لئے ہے۔

٭ قیامت کے دن دیگر عبادات لوگوں کے حق میں حقداروں کو دے دی جائیں گی لیکن روزہ کسی کو نہیں دیا جائے گا جیسا کہ ایک حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’کُلُّ الْعَمَلِ کَفَّارَۃٌ اِلَّا الصَّوْمَ، اَلصَّوْمُ لِیْ وَ اَنَا اُجْزِیْ بِہٖ‘‘ بنی آدم کا ہر عمل اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے سوائے روزہ کے، روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا۔

مقعدِ صدق میں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب فرشتہ روزہ لے کر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ روزے سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کیا میرے بندے نے تیری تکریم و تعظیم کی؟ روزہ عرض کرتا ہے الٰہی! اس نے مجھے اپنے نفس کے نہایت ہی اعلیٰ مقام میں رکھا، مجھے نماز و تراویح سے راحت بہم پہنچائی اور میری خدمت کے لئے تمام دن کمر بستہ رہا، اپنی نگاہ کو حرام سے بچایا، کان کو باطل کی آواز سے باز رکھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم اسے مقعد صدق میں اتار کر اس کی عزت و قدر افزائی کریں گے۔

روزہ دار کہاں ہیں؟: حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جنت کا ایک دروازہ جسے ’’ریّان‘‘ کہا جاتا ہے، اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے سوا کوئی اور داخل نہ ہوگا۔ قیامت کے دن ندا دی جائے گی کہ روزے دار کہاں ہیں تو وہ آئیں گے اور جب داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند ہو جائے گا اور پھر اس سے کوئی دوسرا داخل نہ ہو سکے گا۔ (بخاری شریف)

پورے سال روزے کی خواہش: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کے بندے رمضان کی فضیلت جان لیں تو میری امت تمام سال روزہ سے رہنے کی خواہش مند ہوتی۔ (بیہقی)

روزے ڈھال ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے کون و مکاں ا نے ارشاد فرمایا ’’روزے ڈھال ہیں‘‘۔ (مسلم شریف)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! محدثین کرام نے اس حدیث کی چند تشریحات کی ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں۔

٭ روزہ دار کے سامنے جب کسی گناہ کا محرک آتا ہے تو روزہ اس کے لئے ڈھال بن جاتا ہے اور وہ اس گناہ سے رک جاتا ہے۔

٭ جہنم کی آگ کے لئے روزہ ڈھال بن جاتا ہے اور روزہ دار کی مغفرت کرادیتا ہے۔

٭ روزہ کے سبب سے انسان اپنے نفس کے شر سے محفوظ رہتا ہے اور اپنے نفس اور بدن کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ اس لئے فرمایا گیا روزہ ڈھال ہے۔

ستر سال کی مسافت پر: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک دور رکھے گا۔ (مسلم شریف)

صحت مند ہو جائو گے: حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا :جہاد کرو مال غنیمت پائوگے اورروزہ رکھو صحت مند ہو جائوگے اور سفر کرو مالدار ہو جائوگے۔ (الترغیب والترہیب )

تین چیزیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے تین چیزوں کی حفاظت کی وہ یقینا اللہ کا دوست ہے اور جو ان تینوں کو ضائع کر دیتا ہے یقین جانو کہ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں روزہ، نماز اور غسل جنابت۔ (روح البیان)

روزہ دار کے لئے دو خوشیاں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’روزہ دار کے لئے دوخوشیاں ہیں، (۱)جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے، (۲)جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ (بخاری شریف، ص:۲۵۵)

چار آدمیوں کی مشتاق: اللہ تعالیٰ کی بہشتیں چار آدمیوں کی مشتاق رہتی ہیں:

٭ رمضان کے روزے رکھنے والے۔

٭ قرآن کی تلاوت کرنے والے۔

٭ زبان کی حفاظت کرنے والے۔

٭ بھوکے ہمسایوں کو کھانا کھلانے والے۔

روزہ دار کا استقبال: جب قیامت میں اللہ تعالیٰ اہلِ قبور کو قبروں سے اٹھنے کا حکم دے گا تو ملائکہ کو فرمائے گا کہ اے رضوان میرے روزہ داروں سے آگے چل کر ملو کیوں کہ وہ میری خاطر بھوکے، پیاسے رہے۔ اب تم بہشت کی خواہشات کی تمام اشیاء لے کر ان کے پاس پہونچ جائو۔ اس کے بعد وہ رضوان زور سے پکار کر کہے گا، اے جنت کے غلمان و ولدان! نور کے بڑے بڑے تھال لائو، اس میں دنیاکی ریت کے قطرات، بارش کی بوندوں، آسمان کے ستاروں اور درختوں کے پتوں کے برابر میوہ جات اور کھانے پینے کی لذیذ اشیاء جمع کر کے روزہ داروں کے سامنے رکھ دی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا جتنی مرضی ہو کھائو پیو، یہ ان روزوں کی جزاء ہے جو تم نے دنیا میں رکھے۔

ایک عجیب الخلقت فرشتہ: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’میں نے شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ پر ایک فرشتہ دیکھاجسے میں نے اس سے قبل نہیںدیکھا تھااس کے طول وعرض کی مسافت لاکھ سال کے برابر تھی، اس کے ستر ہزار سر تھے اورہرسر میں ستر ہزار منھ اور ہرمنھ میں ستر ہزار زبانیں اورہرسر پر ستر ہزار نورانی چوٹیاں تھیں اورہر چوٹی کے سر پر بال میں لاکھ لاکھ موتی لٹکے ہوئے تھے ہر ایک موتی کے پیٹ کے اندر بہت بڑادریا ہے اور ہر دریا کے اندر بہت بڑی مچھلیاں ہیں اور ہر مچھلی کاطول دو سال کی مسافت کے برابر اورہر مچھلی کے پیٹ میں لکھا ہے’’ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘ اوراس فرشتے نے اپنا سر اپنے ایک ہاتھ پر رکھا ہے اوردوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ پر ہے اور وہ ’’ حَظِیْرَۃُالقُدْس‘‘ یعنی بہشت میں ہے۔ جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتا ہے تو اس کی پیاری آوازسے عرش الٰہی خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا توانھوں نے عرض کیاکہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے پیدا کیا تھا۔ پھر میں نے کہا اس کی لمبائی اورچوڑائی کہاں سے کہاں تک ہے جبرئیل نے عرض کیااللہ تعالیٰ نے بہشت میں ایک چراگاہ بنائی ہے اور یہ اسی میں رہتا ہے اس فرشتے کواللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ آپ کے اورآپ کی امت کے ہر اس شخص کے لئے تسبیح پڑھے جو روزہ رکھتے ہیں۔

میں نے اس فرشتے کے آگے دوصندوق دیکھے اوردونوں پرہزار نورانی تالے تھے۔ میں نے پوچھا جبرئیل !یہ کیا ہے؟انہوں نے کہااس فرشتے سے پوچھئے میں نے اس عجیب وغریب فرشتے سے پوچھاکہ یہ صندوقیں کیسی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ اس میں آپ کی روزہ رکھنے والی امت کی برأت (چھٹکارہ)کاذکر ہے۔ آپ کواورآپ کی امت کے روزہ رکھنے والوں کو مبارک ہو۔ ‘‘

روزہ کی حکمتیں: روزہ رکھ کر جب انسان کھانے، پینے اور عمل تزویج (جماع) کو چھوڑ دیتا ہے، برے اخلاق اور بری عادتوں کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے اپنی فطرت اور خلقت کے تقاضوں سے ممکن اور شرعی حد تک الگ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں نفسِ امارہ کے مطالبات کو مسترد کر دیتا ہے تو انسان اخلاقِ باری سے متخلق اور صفاتِ الٰہیہ سے متصف ہوجاتا ہے، اس سے بڑھ کر روزے کی اور کیا فضیلت ہوگی کہ روزہ بندے کو مولیٰ کے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اصطلاحِ شرع میں ’’صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک بنیت عبادت کھانے پینے اور عمل تزویج (جماع) سے اپنے آپ کو روکنا‘‘ اس کو روزہ کہتے ہیں۔

معزز قارئین! اگر ہم دیگر عبادات کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ کچھ کرنے کا نام ہے، مثلاً نماز قیام، رکوع، سجود وغیرہ کی ادائیگی کا نام ہے، حج اللہ عزوجل کی رضا کے لئے طوافِ کعبہ، وقوفِ منیٰ و عرفہ، سعی وغیرہ کا نام ہے۔

لیکن روزہ کھانے پینے اور جماع سے بچنے کا نام ہے آخر ایسا کیوں؟

در حقیقت اللہ عزوجل اپنے بندوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے کہ میرے بندو! تمہارے پاس بھلے ہی حلال کھاناہو اور حلال مشروبات ہوں اور تمہاری منکوحہ تمہاری نظر کے سامنے ہو پھر بھی ماہ رمضان المبارک میں میری خوشی کی خاطر ان چیزوں سے صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک رکے رہو۔ بندہ اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ان چیزوں سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اپنی اس اطاعت کے عوض اس کے سونے جاگنے کو بھی عبادت میں شمار فرما دیتا ہے اور بوقتِ افطار اس کی دعاء کو شرفِ قبولیت سے نوازتا ہے۔

جب ایک بندے کی صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک حلال کھانے پینے سے رکنے کی عادت بن جاتی ہے تو وہی بندہ ماہِ رمضان المبارک کے گزر جانے کے بعد حرام کھانے کی طرف اور حرام پینے کی طرف اور غیر عورتوں کی طرف اپنی طبیعت کو مائل نہیں کرتا بلکہ ماہِ رمضان المبارک کی تربیت اسے یاد دلاتی ہے کہ جب تنہائی میں بھوک اور پیاس مٹانے کے لئے ماکولات و مشروبات نگاہوں کے سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی اللہ کے دیکھنے کے تصور سے اور اس کے خوف سے اپنے آپ کو روکے رکھا تو اب ماہِ رمضان المبارک کے گزر جانے کے بعد حرام کی طرف میں کیسے بڑھوںکیوں کہ جو خدا ماہِ رمضان المبارک میں ہمارے گھر کی تنہائی کو دیکھ رہا تھا وہی خدا آج بھی دیکھ رہا ہے اور بس بندہ اپنے آپ کو خوفِ خدا کی وجہ سے حرام ماکولات و مشروبات اور غیر محرم کی طرف غلط قدم اٹھانے سے روک لیتا ہے۔

یاد رکھیں! اگر ماہِ رمضان المبارک کی اس تربیت کا فائدہ ہم نے نہ اٹھایا اور روزہ کے فلسفے کو ہم نہ سمجھے تو ہم سے بڑا کم عقل کوئی نہیں۔

بظاہر روزہ مذکورہ تین چیزوں سے اپنے آپ کو روکنے کا نام ہے لیکن اس کے علاوہ بھی روزے کی حفاظت کے حوالے سے رحمتِ عالم ا کے ارشادات موجود ہیں ہمیں چاہئے کہ ان ارشادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے روزوں کی حفاظت کریں اور خوب سے خوب روزے کی برکتیں حاصل کریں۔

روزہ کے فوائد: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے، اس کے ہر کام اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور شامل ہوتی ہے، یہ اور بات ہے کہ انسان کا ذہن اس کو نہ سمجھ سکے مگر اس کا کوئی بھی حکم حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اس نے ہمیں روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔ بظاہر اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا ہے، لیکن اس میں ضرور فائدے ہیں۔ جیساکہ مفسرینِ کرام نے بیان فرمایا ہے۔

(۱)اللہ تبارک و تعالیٰ نے روزہ کا ایک فائدہ تقویٰ بیان فرمایا ہے ’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوآ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے اگلوں پر فرض کئے گئے تھے، اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ’’اَلتَّقْویٰ ہٰہُنَا‘‘ تقویٰ یہاں ہے۔

تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حصول کے بعد انسان گناہ کرنے سے ڈرتا ہے اور خوفِ الٰہی کی وجہ سے گناہ سے جھجک محسوس کرتا ہے۔

انسان کے دل میں گناہوں کی اکثر خواہشات حیوانی قوت کی زیادتی سے پیدا ہوتی ہیں، روزہ رکھنے سے حیوانی قوت کی کم ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جو نوجوان مالی مجبوریوں کی وجہ سے نکاح نہیں کر سکتے اور ساتھ ہی نفسانی خواہشات پر قابو بھی نہیں رکھتے ان کا علاج رسول اللہ ا نے روزہ بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ شہوت کو توڑنے اور کم کرنے کے لئے روزہ بہترین چیز ہے۔

(۲) جس طرح ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے اسی طرح کھانے پینے کی قدر بھی روزہ رکھنے سے ہوتی ہے، شکم سیر ہو کر کھانا کھانے والے امیروں کو روزہ رکھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب چند گھنٹوں کی اختیاری بھوک کی یہ کیفیت ہے تو جو غریب ہیں ان کی ہفتوں کی اضطراری بھوک کا کیا عالم ہوگا۔

لہٰذا روزہ اس لئے فرض کیا گیا کہ صاحبِ استطاعت مسلمانوں کو غیر مستطیع انسانوں کی بھوک اور پیاس کا اندازہ ہو سکے اور وہ ان کی امداد و اعانت پر آمادہ ہو سکیں۔

(۳) غریب اور فاقہ کش لوگ سارا سال بھوک اور پیاس میں گزارتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی مشابہت قائم کرنے کے لئے ایک ماہ سارے مسلمانوں پر بھوک اور پیاس کی کیفیت طاری کر دی۔

(۴) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان نعمتوں میں سے کھانا، پانی اور بیوی یہ ایسی نعمتیں ہیں جو انسانوں کی روزانہ کی ضرورتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں نعمتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ کتنے لوگ اللہ کی اطاعت میں چند ساعت ان نعمتوں کے استعمال سے ہاتھ روک کر اللہ کی بندگی اور اللہ کی محبت میں ساری چیزیں قربان کرنے کا جذبۂ صادق رکھتے ہیں۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری