أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَـكُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا ‌ؕ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہو جو تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کے مالک نہیں ہیں ‘ اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہو جو تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کے مالک نہیں ہیں ‘ اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (المائدہ : ٧٦) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت گزاری سے ان کے خدا نہ ہونے پر استدلال : 

اس آیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے خدا نہ ہونے پر ایک اور دلیل قائم کی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ذاتی طور پر کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ انہوں نے جو پرندے بنا کر اڑائے ‘ جن مردوں کو زندہ کیا ‘ جن کوڑھیوں کو شفا دی اور جن مادر زاد اندھوں کو بینا کیا ‘ یہ سب کام انہوں نے اللہ کی دی ہوئی قدرت سے کیے ‘ وہ اپنی ذاتی طاقت اور قدرت سے کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کے مالک تھے تو ان کو خدا سے دعا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ پھر ان باتوں کے کوئی آٹھ روز بعد ایسا ہوا کہ وہ پطرس اور یوحنا اور یعقوب کو ہمراہ لے کر پہاڑ پر دعا کرنے گیا ‘ جب وہ دعا کر رہا تھا تو ایسا ہوا کہ اس کے چہرہ کی صورت بدل گئی اور اس کی پوشاک سفید براق ہوگئی۔ (لوقا کی انجیل ‘ باب ٩‘ آیت ٢٩ ‘۔ ٢٨‘ مطبوعہ لاہور) 

اور ان دنوں میں ایسا ہوا کہ وہ پہاڑ پر دعا کرنے کو نکلا اور خدا سے دعا کرنے میں ساری رات گزار دی۔ (لوقا کی انجیل ‘ باب ٦‘ آیت ١٢‘ ص ٥٨‘ مطبوعہ لاہور) 

پھر ایسا ہوا کہ وہ کسی جگہ دعا کر رہا تھا ‘ جب کرچکا تو اس کے شاگردوں میں سے ایک نے اس سے کہا : اے خدا واند ! جیسا یوحنا نے اپنے شاگردوں کو دعا کرنا سکھایا ‘ تو بھی ہمیں سکھا ‘ اس نے ان سے کہا : جب تم دعا کرو تو کہو : اے باپ تیرا نام پاک مانا جائے ‘ تیری بادشاہی آئے ‘ ہماری روز کی روٹی ہمیں ہر روز دیا کر، اور ہمارے گناہ معاف کر ‘ کیونکہ ہم بھی اپنے ہر قرضدار کو معاف کرتے ہیں اور ہمیں آزمائش میں نہ لا۔ (لوقا کی انجیل ‘ باب ١١‘ آیت ٤۔ ١‘ ص ٦٥‘ مطبوعہ لاہور) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ساری ساری رات دعا کرنا ‘ بکثرت دعا کرنا اور اپنے پیروؤں کو بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کی تعلیم دینا ‘ اس کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے ‘ اور نہ ان کے پیروکار ان کو ایسا جانتے تھے ‘ اور نہ ان کو خدا سمجھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کی عبادت کرتے تھے ‘ اور یہ کہتے تھے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں ‘ پھر ابلیس اسے ایک بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی سب سلطنتیں اور ان کی شان و شوکت اسے دکھائی ‘ اور اس سے کہا : اگر تو مجھے جھک کر سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں گا۔ یسوع نے اس سے کہا : شیطان دور ہو ‘ کیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ (متی کی انجیل ‘ باب ٤‘ آیت ١١۔ ٨‘ ص ٧‘ مطبوعہ لاہور) 

پولس رسول یسوع مسیح کے متعلق لکھتے ہیں : 

اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہابہاکر اس دعائیں اور التجائیں کیں ‘ جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا ‘ اور خدا ترسی کے سبب سے اس کی سنی گئی ‘ اور باوجود بیٹا ہونے کے اس نے دکھ اٹھا اٹھا کر فرمانبرداری کی۔ (عبرانیوں کے نام پولس رسول کا خط ‘ باب ٥‘ آیت ٨۔ ٧‘ ص ٢١٤‘ مطبوعہ لاہور) 

اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ پولس رسول کے نزدیک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بہت عبادت گزار ‘ فرمانبردار اور رو رو کر اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے ‘ اور جو تمام جہان کا خدا ہو ‘ اور اپنی قدرت سے نفع اور نقصان کا مالک ہو ‘ وہ کسی کی عبادت اور فرمانبرداری کرنے اور کسی سے رو رو کر دعائیں کرنے سے پاک اور منزہ ہوتا ہے۔ 

نیز پولس رسول لکھتے ہیں :

ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو ‘ جو رحمتوں باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے۔ (کرنتھیوں کے نام پولس رسول کا دوسراخط ‘ باب ١‘ آیت ٣‘ ص ١٦٨‘ مطبوعہ لاہور) 

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ پولس رسول کے نزدیک یسوع مسیح خدا نہ تھے ‘ بلکہ یسوع مسیح خدا خدا کو ماننے والے تھے۔ اسی کی وہ عبادت کرتے تھے ‘ اسی کی فرمانبرداری کرتے تھے اور اسی سے رو رو کر دعائیں کرتے تھے۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پولس رسول کا اور ہم سب کا خدا ہے۔ اس کو باپ کہنا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا بیٹا اور خداوند کہنا ‘ یہ سب عیسائی علماء کی بعد کی تحریفات ہیں۔ باپ ہونا اور بیٹا رکھنا مخلوق کی صفات ہیں ‘ اللہ عزوجل اس سے بلند ہے ‘ اس کی صفات وہی ہیں جو صرف اس کے شایان شان ہیں اور مخلوق کے لیے ممکن نہیں ہیں ‘ جیسے وہ عبادت کا مستحق ہے ‘ اس کا کوئی شریک اور مثیل نہیں ‘ وہ واجب الوجود اور قدیم بالذات ہے۔ اس کی ہر صفت مستقل اور غیر سے مستغنی ہے ‘ اور وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 76