“مجھے سیدنا معاویہ ؓ کا نظام معلوم نہیں “

آئیں ہم بتاتے ہیں..

منافقین کی سازشوں کی بدولت مسلمانوں کی خانہ جنگی کی کیفیت کو ایسا ختم کیا کہ ۲۰ سال تک کسی فتنہ پرور کو فتنہ انگیزی کا موقعہ نہ مل سکا اور فتوحات کا جو سلسلہ سیدنا عثمان ؓ کی شھادت پر رکا تھا وہ پھر سے جاری ہوا یہانتک کہ آدھی دنیا پر نظامِ مصطفی قائم ہو گیا..

اسلامی بحریہ قائم کی، جہاز سازی کے کارخانے بنائے اور دنیا کی سب سے زبردست رومن بحریہ کو شکست دی..

آب پاشی اور آب نوشی کے لئے دورِ اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی..

ڈاک خانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا..

پہلا اقامتی ہسپتال سیدنا حضرت امیر معاویہ ؓنے دمشق میں قائم کیا..

احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا…

انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا..

دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا…

بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک و نفع کے جاری کر کے تجارت و صنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کئے…

سرحدوں کی حفاظت کے لئے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں…

آپ ؓ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گا …

“سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سے حضور اکرم کی 163، ایک سو تریسٹھ احادیث مروی ہیں۔ سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے آئینہ اخلاق میں اخلاص، علم و فضل، فقہ و اجتہاد، تقریر و خطابت، غریب پروری، خدمت خلق، مہمان نوازی، مخالفین کے ساتھ حسن سلوک، فیاضی و سخاوت، اصابت رائے، عفو و درگزر، اطاعت الٰہی، اطاعت رسول ، اتباع سنت، جوش قبول حق، تحمل و بردباری، تقویٰ اور خوف الٰہی کا عکس نمایاں نظر آتا ہے”

جو کہتا ہے مجھے نظامِ معاویہ ؓ معلوم نہیں… اسلامی تاریخ کے اتنے عظیم حکمران کے نظامِ حکومت سے ناواقف شخص حکمرانی کا حق ہی کیونکر ہو سکتا ہے؟؟

مفتی محمد اظہار القیوم صدیقی

دارالافتاء اھلسنت سانگلہ ہل