أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ‌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ وَاُمُّهٗ صِدِّيۡقَةٌ‌  ؕ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ‌ؕ اُنْظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرۡ اَ نّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

مسیح ابن مریم صرف ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بہت رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں بہت سچی ہیں وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ‘ دیکھیے ہم کس طرح وضاحت سے ان کے لیے دلائل بیان کرتے ہیں پھر دیکھیے وہ کیسی اوندھی باتیں کر رہے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مسیح ابن مریم صرف ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بہت رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں بہت سچی ہیں وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ‘ دیکھیے ہم کس طرح وضاحت سے ان کے لیے دلائل بیان کرتے ہیں پھر دیکھیے وہ کیسی اوندھی باتیں کر رہے ہیں۔ (المائدہ : ٧٥) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا نہ ہونے پر دلائل :

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان رسولوں کی جنس میں سے ایک رسول ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ‘ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات پیش کیے ہیں۔ اس طرح ان رسولوں نے بھی معجزات پیش کیے تھے ‘ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مادر زاد اندھے بینا کیے ‘ کوڑھیوں کو شفا دی اور مردوں کو زندہ کیا ‘ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی کو زندہ کیا اور اس کو دوڑتا ہوا اژدھا بنادیا ‘ اور سمندر کو چیر کر اس میں بارہ راستے بنا دیئے اور لاٹھی کو زمین پر مارا تو اس سے چشمے ابلنے لگے اور اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر مرد کے پیدا ہوئے ہیں تو حضرت آدم (علیہ السلام) مرد اور عورت دونوں کے بغیر پیدا ہوئے ‘ جب دوسرے انبیاء معجزہ دکھانے سے خدا نہیں ہوئے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) معجزہ دکھانے سے خدا کیسے ہوسکتے ہیں ؟ 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں دونوں کھانا کھاتے تھے ‘ اس سے مقصود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں کے متعلق عیسائیوں کے اس دعوی کو باطل کرنا ہے کہ وہ دونوں خدا ہیں ‘ اور اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں : 

(١) ہر وہ شخص جس کی ماں ہو ‘ وہ حادث ہوتا ہے ‘ یعنی وہ پہلے موجود نہیں تھا ‘ اس کے بعد موجود ہوا اور جس شخص کی یہ صفت ہو ‘ وہ مخلوق ہے خالق نہیں۔ 

(٢) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں دونوں کھانا کھاتے تھے اور جو شخص اپنی نشو و نما اور بقا میں کھانے کا محتاج ہو ‘ وہ مخلوق ہے خدا نہیں ہے۔ 

(٣) اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں خدا ہوتے تو وہ خلق اور ایجاد پر قادر ہوتے اور جب وہ خلق اور ایجاد پر قادر ہوتے تو کھانے کے بغیر بھوک کی تکلیف کو مٹانے پر قادر ہوتے اور جب وہ ایسا نہ کرسکے تو معلوم ہوا کہ وہ خدا نہیں ہیں۔ 

موجودہ بائبل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پورا شجرہ نسب لکھا ہوا ہے۔ 

یسیوع مسیح ابن داؤد ابن ابراھام کا نسب نامہ : ابراھام سے اضحاق پیدا ہوا اور اضحاق سے یعقوب پیدا ہوا اور یعقوب سے یہوداہ اور اس کے بھائی پیدا ہوئے (الی قولہ) اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا ‘ یہ مریم کا شوہر تھا جس سے یسوع پیدا ہوئے۔ جو مسیح کہلاتا ہے۔ 

پس سب پشتیں ابراھام سے داؤد تک چودہ پشتیں ہوئیں اور داؤد سے لے کر گرفتار ہو کر بابل جانے تک چودہ پشتیں اور گرفتار ہو کر بابل جانے سے لیکر کر مسیح تک چودہ پشتیں ہوئیں۔ (متی کی انجیل ‘ باب ‘ آیت ١٧۔ ١‘ ملخصا ‘ ص ٥‘ مطبوعہ لاہور) 

اب یسوع کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی ‘ تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی ‘ پس اس کے شوہر یوسف نے جو راستباز تھا ‘ اسے چپکے سے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔ وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتہ نے اسے خواب میں دکھائی دے کر کہا : اے یوسف ابن داؤد ! اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر۔ کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے ‘ وہ روح القدس کی قدرت سے ہے۔ اس کے بیٹا ہوگا اور تو اس کا نام یسوع رکھنا ‘ کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات دے گا۔ (متی کی انجیل ‘ باب ١ آیت ٢٢۔ ١٨‘ ص ٥‘ مطبوعہ لاہور) 

غور کیجئے : جس شخص کا پورا شجرہ نسب موجود ہے ‘ جو اپنی ماں مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا ‘ پیدا ہونے سے پہلے موجود نہیں تھا ‘ وہ اپنی پیدائش سے پہلے موجود سارے جہان کا خالق کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور اس کی خدائی اور استحقاق عبادت کب زیبا ہے ؟ 

قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کھانے پینے کا ذکر کر کے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر وہ خدا ہوتے تو کھانے پینے کے محتاج نہ ہوتے۔ ان کے کھانے پینے کا ذکر موجودہ بائبل میں بھی ہے۔ 

وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے یہ یسوع آپ ان کے بیچ آکھڑا ہوا اور ان سے کہا : تمہاری سلامتی ہو، مگر انہوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی روح کو دیکھتے ہیں ‘ اس نے ان سے کہا : تم کیوں گھبراتے ہو ؟ اور کس واسطے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں ؟ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں ‘ مجھے چھو کر دیکھو ‘ کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی ‘ جیسا میں دیکھتے ہو۔ اور یہ کہ اس نے انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے، جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے، انہوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا، اس نے لے کر ان کے روبرو کھایا۔ (لوقا کی انجیل ‘ باب ٢٤۔ آیت ٤٣۔ ٣٦‘ ص ٨١ مطبوعہ لاہور) 

انجیل کے اس اقتباس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ گوشت پوست اور ہڈیوں سے بنے ہوئے انسان ہیں ‘ روح نہیں ہیں اور وہ کھاتے بھی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یقین دلایا ہے کہ وہ مادی انسان ہیں ‘ روح نہیں اور مادہ سے مجرد نہیں ہیں ‘ تو پھر وہ خدا کیونکر ہوسکتے ہیں ؟ نیز انجیل میں ہے اور جب صبح کو پھر شہر کو جا رہا تھا ‘ اسے بھوک لگی (متی کی انجیل ‘ باب ٢١ آیت ١٣‘ ص ٢٥‘ مطبوعہ لاہور) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک لگتی تھی اور وہ کھانے پینے کے محتاج تھے اور جو کسی چیز کا بھی محتاج ہو ‘ وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ 

موجودہ بائبل کے مطالعہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح انسان تھے ‘ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ‘ ان کا جسم انسانوں کی طرح گوشت پوست اور ہڈیوں سے بنا ہوا تھا۔ ان میں تمام انسانی صفات تھیں ‘ انہوں بھوک لگتی تھی ‘ وہ کھاتے پیتے بھی تھے ‘ سوتے جاگتے بھی تھے ‘ انہیں دور سے تکلیف بھی ہوتی تھی ‘ کیونکہ انجیل میں مذکور ہے اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا ” ایلی ایلی لما شبقتنی “ یعنی اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا (متی ‘ باب ٢٧‘ آیت ٤٧‘ ص ٣٣) اب ایسے شخص کے متعلق کوئی صاحب عقل انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسا شخص خدا ہے تمام جہاں کا پیدا کرنے والا ہے ‘ بائبل کے متعلق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں نے پھانسی پر لٹکا دیا اور تین دن تک وہ مردہ رہے ‘ اس کے بعد جی اٹھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسیح خدا تھے تو جب وہ تین دن مردہ رہے ‘ تو انکے بغیر یہ کائنات کیسے چلتی رہی ؟ انجیل میں ہے : 

یاد کرو جب وہ گلیل میں تھا اس نے تم سے کہا تھا ضرور ہے، کہ ابن آدم گنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جائے اور مصلوب ہو اور تیسرے دن جی اٹھے۔ (لوقا کی انجیل : باب ٢٤‘ آیت ٨۔ ٧‘ ص ٨٠‘ مطبوعہ لاہور) 

اس اقتباس میں یہ تصریح بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اب آدم فرمایا تھا ‘ نہ کہ ابن اللہ سو ان کے متعلق الوہیت کا عقیدہ رکھنا اور ان کو خدا یا خدا کا بیٹا کہنا ان پر افتراء اور بہتان ہے اور اس مضمون کی آیات خود ساختہ اور من گھڑت ہیں ‘ جو بعد کے عیسائی مصنفین نے وضع کر کے اللہ کے اصل کلام میں ملا دی ہیں ‘ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہیے کہ موجودہ انجیل میں کچھ عبارات تو وہ ہیں جو دراصل اللہ کا کلام ہیں۔ ہم نے سورة آل عمران کی ابتداء میں ان کی مثالیں دی ہیں اور قرآن مجید ان ہی کا مصدق ہے اور دوسری عبارات وہ ہیں جو عیسائی مصنفین نے بطور خود لکھی ہیں۔ 

حضرت مریم کے نبیہ نہ ہونے پر دلائل : 

اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے اور ان کی ماں بہت سچی ہیں ‘ ان کو صدیقہ اس لیے فرمایا کہ وہ گناہوں سے بہت پاک تھیں ‘ اور اللہ کی عبادت کرنے کی بہت جدوجہد کرتی تھیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام آیات کی تصدیق کی۔ 

شیخ ابن حزم عورتوں کی نبوت کے قائل ہیں۔ وہ حضرت سارہ ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ماں سیدہ مریم کو نبیہ مانتے ہیں ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ان کی طرف وحی کرنے کی نسبت کی گئی ہے۔ جمہور علماء اسلام کے نزدیک یہ وحی بہ معنی الہام ہے ‘ اور نبی صرف مرد ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری “۔ (یوسف : ١٠٩) 

ترجمہ : ہم نے آپ سے پہلے سوائے مردوں کے کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا جن کی طرف ہم بستیوں کے رہنے والوں سے وحی کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 75