مکان میں جانے کے لئے اجازت لینا

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو اور اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو اندر مت جائو جب تک تمہیں اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جائو تو واپس چلے آئو یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں کے اندر چلے جائو جن میں کوئی رہتا نہیں ہے اور ان میں تمہارا سامان موجود ہے اور اللہ جانتا ہے تمام ان باتوں کو جن کو تم ظاہر کرتے ہو اور جن کو تم چھپاتے ہو۔‘‘

مسئلہ: جب کوئی شخص دوسرے کے مکان پر جائے تو پہلے اندرآنے کی اجازت حاصل کرے پھر جب اندر جائے تو پہلے سلام کرے پھر اس کے بعد بات چیت شروع کرے اور اگر جس شخص کے پاس گیا ہے وہ مکان سے باہر ہی مل گیا ہو تو اب اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں، سلام کرے پھر کلام شروع کر دے۔

مسئلہ: کسی کے دروازے پر جا کر آواز دی اور اس نے اندر سے کہا ’’کون‘‘ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے کہ ’’میں‘‘ جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ ’’میں‘‘ کہہ کر جواب دیتے ہیں، اس جواب کو حضور اقدس ا نے ناپسند فرمایا، بلکہ جواب میں اپنا نام ذکر کرے کیوں کہ ’’میں‘‘ کا لفظ تو ہر شخص اپنے کو کہہ سکتا ہے پھر یہ جواب ہی کب ہوا؟

مسئلہ: اگر تم نے کسی کے گھر پر جا کر اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی اور گھر والے نے اجازت نہ دی تو ناراض ہونے کی ضرورت نہیں خوشی خوشی وہاں سے واپس چلے آئو، ہو سکتا ہے وہ اس وقت کسی ضروری کام میں مشغول ہو اور اس کو تم سے ملنے کی فرصت نہ ہو۔

مسئلہ: اگر ایسے مکان میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہو کہ ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ‘‘ فرشتے اس سلام کا جواب دیں گے۔ (درِ مختار: جلد:۵، صفحہ:۲۲۷ و ردالمحتار) یا اس طرح کہے ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ‘‘ کیوں کہ حضور اقدسﷺ کی روحِ مبارک مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرما ہوا کرتی ہے۔

سلام کے مسائل

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ اَوْ رُدُّوْہَآ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ حَسِیْباً

(پارہ:۵، رکوع:۸)

اور جب تم کو کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی لفظ تم بھی کہہ دو بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

مسئلہ: سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے۔

مسئلہ: سلام کرنے والے کو چاہئے کہ سلام کرتے وقت دل میں یہ نیت کرے کہ ’’اس شخص کی جان، اس کا مال، اس کی عزت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں خلل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں‘‘

مسئلہ: عورت ہو یا مرد سب کے لئے سلام کرنے اور جواب دینے کا اسلامی طریقہ یہی ہے کہ ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ‘‘ کہے اور جواب میں ’’وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ‘‘ کہے اس کے سوا دوسرے سب طریقے غیر اسلامی ہیں۔اگر کوئی دوسرے کا سلام لائے تو جواب میں یہ کہنا چاہئے ’’عَلَیْکُمْ وَ عَلَیْہِمُ السَّلاَمُ‘‘

مسئلہ: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ اور جواب میں وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ کہناکافی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ سلام کرنے والا اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ کہے اور جواب دینے والا بھی یہی کہے۔ سلام میں اس سے زیادہ الفاظ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

مسئلہ: سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ کا لفظ بھی سلام ہے مگر چوں کہ یہ لفظ شیعوں میں مذہبی نشان کے طور پر رائج ہو گیا ہے کہ اس لفظ کے سنتے ہی فوراً ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ شخص شیعہ مذہب کا ہے۔ لہٰذا سنیوں کو سلام میں اس لفظ سے بچنا ضروری ہے۔

مسئلہ: سلام کا جواب فوراً ہی دینا واجب ہے بلا عذر تاخیر کی تو گنہگار ہوا اور یہ گناہ سلام کا جواب دینے سے دفع نہیں ہو گا بلکہ توبہ کرنی ہو گی۔

مسئلہ: ایک جماعت دوسری جماعت کے پاس آئی اور ان میں سے کسی ایک نے بھی سلام نہ کیا تو سب سنت چھوڑنے کے الزام میں گرفتار ہوئے اور اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی سلام کر لیا تو سب بری ہو گئے۔ لیکن افضل یہ ہے کہ سب ہی سلام کریں۔ یوں ہی ایک جماعت میں سے کسی نے بھی سلام کا جواب نہ دیا تو واجب چھوڑنے کی وجہ سے سب گنہگار ہوئے اور اگر ایک شخص نے بھی سلام کا جواب دے دیا تو پوری جماعت الزام سے بری ہو گئی مگر افضل یہی ہے کہ سب سلام کا جواب دیں۔

مسئلہ:: ایک شخص شہر سے آرہا ہے اور دوسرا شخص دیہات سے آرہا ہے دونوں میں سے کون کس کو سلام کرے؟ بعض نے کہا کہ شہری دیہاتی کو سلام کرے اور بعض کا قول ہے کہ دیہاتی شہری کو سلام کرے اور اس مسئلہ میں سب کا اتفاق ہے کہ چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے، چھوٹا بڑے کو سلام کرے، سوار پیدل کو سلام کرے، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں، ایک شخص پیچھے سے آیا یہ آگے والے کو سلام کرے۔

مسئلہ: کافر کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف ’’عَلَیْکُمْ‘‘ کہے اور اگر ایسی جگہ گزرتا ہو جس جگہ مسلمان اور کفار دونوں جمع ہوں تو السلام علیکم کہے اور مسلمانوں پر سلام کرنے کی نیت کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے ملے جلے مجمع کو ’’اَلسَّلاَمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الہُدیٰ‘‘ کہہ کر سلام کرے۔

مسئلہ: اذان و اقامت اور جمعہ و عیدین کے خطبہ کے وقت سلام نہیں کرنا چاہئے۔

مسئلہ: اعلانیہ فسق و فجور کرنے والوں کو سلام نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر کسی کے پڑوس میں فساق رہتے ہوں اور یہ اگر ان سے سختی برتتا ہے تو وہ اس کو پریشان کرتے ہوں اور ایذا دیتے ہوں اور اگر یہ ان سے سلام و کلام جاری رکھتا ہے تو وہ اس کو ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہوں تو ایسی صورت میں ظاہری طور پر ان فساق کے ساتھ سلام و کلام کے ساتھ میل جول رکھنے میں یہ شخص معذور سمجھا جائے گا۔

مسئلہ: کسی سے کہہ دیا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا اور اس نے سلام پہنچانے کا وعدہ کر لیا تو اس پر سلام پہنچانا واجب ہے اور اگر سلام پہنچانے کا وعدہ نہیں کیا تھا تو سلام پہنچانا اس پر واجب نہیں۔

مآخذ و مراجع:(۱)قرآنِ کریم (۲)بہارِ شریعت (۳)عالمگیری (۴)درِ مختار (۵)رد المحتار (۶)خانیہ