یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْۤا  اِنْ  تُطِیْعُوا  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْا  یَرُدُّوْكُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْ  فَتَنْقَلِبُوْا  خٰسِرِیْنَ(۱۴۹)

اے ایمان والواگر تم کافروں کے کہے پر چلے (ف۲۶۹) تو وہ تمہیں اُلٹے پاؤں لوٹا دیں گے (ف۲۷۰)پھر ٹوٹا کھا کے(نقصان اٹھا کے) پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱)

(ف269)

خواہ وہ یہود ونصارٰی ہوں یا منافق و مشرک۔

(ف270)

کفر و بے دینی کی طرف۔

(ف271)

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ کُفّار سے علٰیحدگی اختیار کریں اور ہر گز اُن کی رائے و مشورے پر عمل نہ کریں اور اُن کے کہے پرنہ چلیں۔

بَلِ  اللّٰهُ  مَوْلٰىكُمْۚ-وَ  هُوَ  خَیْرُ  النّٰصِرِیْنَ(۱۵۰)

بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مدد گار

سَنُلْقِیْ  فِیْ  قُلُوْبِ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوا  الرُّعْبَ  بِمَاۤ  اَشْرَكُوْا  بِاللّٰهِ  مَا  لَمْ  یُنَزِّلْ  بِهٖ  سُلْطٰنًاۚ-وَ  مَاْوٰىهُمُ  النَّارُؕ-وَ  بِئْسَ  مَثْوَى  الظّٰلِمِیْنَ(۱۵۱)

کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا

(ف272)

جنگِ اُحد سے واپس ہو کر جب ابوسفیان وغیرہ اپنے لشکریوں کے ساتھ مکّہ مکرّمہ کی طرف روانہ ہوئے تو اُنہیں اس پر افسوس ہوا کہ ہم نے مسلمانوں کو بالکل ختم کیوں نہ کر ڈالا آپس میں مشورہ کرکے اس پر آمادہ ہوئے کہ چل کر اُنہیں ختم کردیں جب یہ قصد پختہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رُعب ڈالا اور انہیں خوفِ شدید پیدا ہوا اور وہ مکہ مکرمہ ہی کی طرف واپس ہوگئے اگر چہ سبب تو خاص تھا لیکن رُعب تمام کُفّار کے دلوں میں ڈال دیا گیا کہ دُنیا کے سارے کفار مسلمانوں سے ڈرتے ہیں اور بفضلہٖ تعالیٰ دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہے۔

وَ  لَقَدْ  صَدَقَكُمُ  اللّٰهُ  وَعْدَهٗۤ  اِذْ  تَحُسُّوْنَهُمْ  بِاِذْنِهٖۚ-حَتّٰۤى  اِذَا  فَشِلْتُمْ  وَ  تَنَازَعْتُمْ  فِی  الْاَمْرِ  وَ  عَصَیْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  مَاۤ  اَرٰىكُمْ  مَّا  تُحِبُّوْنَؕ-مِنْكُمْ  مَّنْ  یُّرِیْدُ  الدُّنْیَا  وَ  مِنْكُمْ  مَّنْ  یُّرِیْدُ  الْاٰخِرَةَۚ-ثُمَّ  صَرَفَكُمْ  عَنْهُمْ  لِیَبْتَلِیَكُمْۚ-وَ  لَقَدْ  عَفَا  عَنْكُمْؕ-وَ  اللّٰهُ  ذُوْ  فَضْلٍ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۵۲)

اور بے شک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے(ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھاچکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اورتم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف ۲۷۸) پھر تمہارا منہ اُن سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بے شک اس نے تمہیں معاف کردیا اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے

(ف273)

جنگ ِاُحد میں۔

(ف274)

کُفّار کی ہزیمت کے بعد حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ جو تیر انداز تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ مشرکین کو ہزیمت ہوچکی اب یہاں ٹھہر کر کیا کریں چلو کچھ مال غنیمت حاصل کرنے کی کوشش کریں بعض نے کہا مرکزمت چھوڑو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتاکید حکم فرمایا ہے کہ تم اپنی جگہ قائم رہنا کسی حال میں مرکز نہ چھوڑنا جب تک میرا حکم نہ آئے مگر لوگ غنیمت کے لئے چل پڑے اور حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ دس سے کم اصحاب رہ گئے۔

(ف275)

کہ مرکز چھوڑ دیا اور غنیمت حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے۔

(ف276)

یعنی کُفّارکی ہزیمت۔

(ف277)

جو مرکز چھوڑکرغنیمت کے لئے چلا گیا۔

(ف278)

جو اپنے امیر عبداللہ بن جبیر کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہ کر شہید ہوگیا۔

(ف279)

اور مصیبتوں پر تمہارے صابر و ثابت رہنے کا امتحان ہو۔

اِذْ  تُصْعِدُوْنَ  وَ  لَا  تَلْوٗنَ  عَلٰۤى  اَحَدٍ  وَّ  الرَّسُوْلُ  یَدْعُوْكُمْ  فِیْۤ  اُخْرٰىكُمْ  فَاَثَابَكُمْ  غَمًّۢا  بِغَمٍّ  لِّكَیْلَا  تَحْزَنُوْا  عَلٰى  مَا  فَاتَكُمْ  وَ  لَا  مَاۤ  اَصَابَكُمْؕ-وَ  اللّٰهُ  خَبِیْرٌۢ  بِمَا  تَعْمَلُوْنَ(۱۵۳)

جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کابدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لیے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد(مصیبت) پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

(ف280)

کہ خدا کے بندو میری طرف آؤ۔

(ف281)

یعنی تم نے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرکے آپ کو غم پہنچا یا تھا اس کے بدلے تم کو ہزیمت کے غم میں مبتلا کیا۔

ثُمَّ  اَنْزَلَ  عَلَیْكُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  الْغَمِّ  اَمَنَةً  نُّعَاسًا  یَّغْشٰى  طَآىٕفَةً  مِّنْكُمْۙ-وَ  طَآىٕفَةٌ  قَدْ  اَهَمَّتْهُمْ  اَنْفُسُهُمْ  یَظُنُّوْنَ  بِاللّٰهِ  غَیْرَ  الْحَقِّ  ظَنَّ  الْجَاهِلِیَّةِؕ-یَقُوْلُوْنَ  هَلْ  لَّنَا  مِنَ  الْاَمْرِ  مِنْ  شَیْءٍؕ-قُلْ  اِنَّ  الْاَمْرَ  كُلَّهٗ  لِلّٰهِؕ-یُخْفُوْنَ  فِیْۤ  اَنْفُسِهِمْ  مَّا  لَا  یُبْدُوْنَ  لَكَؕ-یَقُوْلُوْنَ  لَوْ  كَانَ  لَنَا  مِنَ  الْاَمْرِ  شَیْءٌ  مَّا  قُتِلْنَا  هٰهُنَاؕ-قُلْ  لَّوْ  كُنْتُمْ  فِیْ  بُیُوْتِكُمْ  لَبَرَزَ  الَّذِیْنَ  كُتِبَ  عَلَیْهِمُ  الْقَتْلُ  اِلٰى  مَضَاجِعِهِمْۚ-وَ  لِیَبْتَلِیَ  اللّٰهُ  مَا  فِیْ  صُدُوْرِكُمْ  وَ  لِیُمَحِّصَ   مَا  فِیْ  قُلُوْبِكُمْؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلِیْمٌۢ  بِذَاتِ  الصُّدُوْرِ(۱۵۴)

پھر غم کے بعد تم پرچین کی نیند اُتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵)اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان کہتے کیااس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے؟ تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل کر آتے (ف۲۹۰) اور اس لیے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے (آیت ۱۵۴)(ف۲۹۲)

(ف282)

جو رُعب و خَوف دلوں میں تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے دُور کیا اور امن و راحت کے ساتھ اُن پر نیند اُتاری یہاں تک کہ مسلمانوں کو غنودگی آگئی اور نیند نے اُن پر غلبہ کیا حضرت ابوطلحہ فرماتے ہیں کہ روزِ اُحد نیند ہم پر چھا گئی ہم میدان میں تھے تلوار ہمارے ہاتھ سے چُھوٹ جاتی تھی پھر اُٹھاتے تھے پھر چُھوٹ جاتی تھی۔

(ف283)

اور وہ جماعت مؤمنین صادق الایمان کی تھی۔

(ف284)

جو منافق تھے۔

(ف285)

اور وہ خوف سے پریشان تھے اللہ تعالٰی نے وہاں مؤمنین کو منافقین سے اس طرح ممتاز کیا تھا کہ مؤمنین پر تو امن و اطمینان کی نیند کا غلبہ تھا اور منافقین خوف و ہراس میں اپنی جانوں کے خوف سے پریشان تھے اور یہ آیتِ عظیمہ اور معجزۂ باہرہ تھا۔

(ف286)

یعنی منافقین کو یہ گمان ہورہا تھا کہ اللہ تعالٰی سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد نہ فرمائے گایایہ کہ حضور شہید ہوگئے۔ اب آپ کا دین باقی نہ رہے گا۔

(ف287)

فتح و ظفر قضا و قدر سب اُس کے ہاتھ ہے۔

(ف288)

منافقین اپنا کُفر اور وعدۂ الٰہی میں اپنا مترددہونا اور جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ چلے آنے پر متاسّف ہونا

(ف289)

اور ہمیں سمجھ ہوتی تو ہم گھر سے نہ نکلتے مسلمانوں کے ساتھ اہلِ مکّہ سے لڑائی کے لئے نہ آتے اور ہمارے سردار نہ مارے جاتے ۔ پہلے مقولہ کا قائل عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافق ہے اور اِس مقولہ کا قائل معتب بن قشیر ۔

(ف290)

اور گھروں میں بیٹھ رہنا کچھ کام نہ آتا کیونکہ قضا وقدر کے سامنے تدبیر و حیلہ بے کار ہے۔

(ف291)

اخلاص یا نفاق

(ف292)

اس سے کچھ چھپا نہیں اور یہ آزمائش دُوسروں کو خبردار کرنے کے لئے ہے۔

اِنَّ  الَّذِیْنَ  تَوَلَّوْا  مِنْكُمْ  یَوْمَ  الْتَقَى  الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا  اسْتَزَلَّهُمُ  الشَّیْطٰنُ  بِبَعْضِ   مَا  كَسَبُوْاۚ-وَ  لَقَدْ  عَفَا  اللّٰهُ  عَنْهُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  غَفُوْرٌ  حَلِیْمٌ۠(۱۵۵)

بے شک وہ جو تم میں سے پھر گئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی اُن کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بے شک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا بے شک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے

(ف293)

اور جنگِ اُحد میں بھاگ گئے اور نبیء کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تیرہ یا چودہ اصحاب کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔

(ف294)

کہ اُنہوں نے سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے بَرخلاف مرکز چھوڑا۔