أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَرٰى كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ وَفِى الۡعَذَابِ هُمۡ خٰلِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ ان میں سے زیادہ لوگوں کو دیکھیں گے جو کافروں سے دوستی رکھتے ہیں ‘ وہ کسی بری چیز ہے جو انہوں نے اپنی آخرت کے لیے بھیجی ہے کہ اللہ ان پر ناراض ہوا اور وہ دائمی عذاب میں رہنے والے ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ ان میں سے زیادہ لوگوں کو دیکھیں گے جو کافروں سے دوستی رکھتے ہیں ‘ وہ کسی بری چیز ہے جو انہوں نے اپنی آخرت کے لیے بھیجی ہے کہ اللہ ان پر ناراض ہوا اور وہ دائمی عذاب میں رہنے والے ہوں گے۔ (المائدہ : ٨٠) 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے یا یہ خطاب عام ہے اور ہر مخاطب مراد ہے ‘ اور ان میں سے اس سے مراد اہل کتاب ہیں یا بنواسرائیل اور فرمایا ہے آپ ان میں سے زیادہ لوگوں کو دیکھیں گے اس سے مراد کعب بن اشرف اور اس کے اصحاب ہیں ‘ بعض روایات میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت مکہ گئی تھی ‘ تاکہ ان مشرکین کے ساتھ اشتراک کر کجے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں ‘ لیکن بات نہیں بنی۔ انہوں نے جو کام کیے ہیں ‘ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دائمی عذاب کا موجب ہیں۔ 

حافظ ابن کثیر نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور اللہ کی ناراضگی کے متعلق یہ حدیث نقل کی ہے۔ امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے مسلمانو ! تم زنا سے بچے رہنا ‘ کیونکہ زنا پر چھ چیزیں مترتب ہوتی ہیں۔ تین دنیا میں اور تین آخرت میں ‘ دنیا میں اس فعل سے رونق چلی جاتی ہے۔ تنگ دستی اور مفلسی آتی ہے اور عمر کم ہوتی ہے اور آخرت میں اس فعل کی وجہ سے رب تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ‘ اور حساب سخت ہوتا ہے اور دوزخ میں دائمی عذاب ہوتا ہے۔ (دوام سے مراد لمبا عرصہ ہے) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ امام ابن مردویہ نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کیا ہے لیکن اس کی ہر سند ضعیف ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ‘ ج ٢ ص ٦٢٢) 

میں کہتا ہوں کہ تعدد اسانید کی وجہ سے یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 80