درس 040: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 040: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبٌ فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ (وَمِنْهَا): غَسْلُ الْيَدَيْنِ إلَى الرُّسْغَيْنِ قَبْلَ إدْخَالِهِمَا فِي الْإِنَاءِ لِلْمُسْتَيْقِظِ مِنْ مَنَامِهِ

دونوں ہاتھوں کے دھونے کا بیان

وضو کی سنتوں میں سے دونوں ہاتھوں کا گٹوں تک دھونا ہے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے، اس شخص کے لئے جو نیند سے جاگا ہو۔

وَقَالَ قَوْمٌ: إنَّهُ فَرْضٌ، ثُمَّ اخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، مِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إنَّهُ فَرْضٌ مِنْ نَوْمِ اللَّيْلِ، وَالنَّهَارِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إنَّهُ فَرْضٌ مِنْ نَوْمِ اللَّيْلِ خَاصَّةً

بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں:یہ عمل فرض ہے، پھر اسکی فرضیت کے سلسلے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا: یہ عمل رات اور دن کی نیند سے اٹھنے کے بعد فرض ہے اور بعض نے کہا کہ یہ عمل صرف رات کی نیند سے اٹھنے کے بعد فرض ہے۔

وَاحْتَجُّوا بِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «إذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ» ، وَالنَّهْيُ عَنْ الْغَمْسِ يَدُلُّ عَلَى كَوْنِ الْغَسْلِ فَرْضًا.

ان فقہائے کرام نے دلیل میں نبی کریم ﷺ کی وہ حدیث بیان کی ہے کہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے تو اپنے ہاتھوں کو برتن میں ہرگز نہ ڈالے یہاں تک کہ وہ اسے تین بار دھولے، اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ اسکے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ۔ ہاتھ نہ ڈالنے کی ممانعت دھونے کی فرضیت پر دلالت کرتی ہے۔

(وَلَنَا) أَنَّ الْغَسْلَ لَوْ وَجَبَ لَا يَخْلُو إمَّا أَنْ يَجِبَ مِنْ الْحَدَثِ، أَوْ مِنْ النَّجَسِ

ہماری دلیل یہ ہے کہ ہاتھوں کا دھونا اگر فرض ہوگا تو دو حال سے خالی نہیں ہوگا یا تو حدث کی وجہ سے فرض ہوگا یا نجاست کی وجہ سے۔

وَلَا سَبِيلَ إلَى الْأَوَّلِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَجِبُ الْغَسْلُ مِنْ الْحَدَثِ إلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، فَلَوْ أَوْجَبْنَا عَلَيْهِ غَسْلَ الْعُضْوِ عِنْدَ اسْتِيقَاظِهِ مِنْ مَنَامِهِ مَرَّةً، وَمَرَّةً عِنْدَ الْوُضُوءِ، لَأَوْجَبْنَا عَلَيْهِ الْغَسْلَ عِنْدَ الْحَدَثِ مَرَّتَيْنِ

پہلی صورت لائقِ اعتبار نہیں اسلئے کہ حدث کی وجہ سے ہاتھوں کا دھونا ایک بار ہی فرض ہے، تو اگر ہم عضو کا دھونا ایک بار سوکر اٹھنے کے وقت فرض قرار دیں اور دوسری بار وضو کے وقت فرض قرار دیں تو لازم آئے گا کہ ہم نے متوضی پر حدث کے وقت دوبار عضو دھونا فرض قرار دیا۔

وَلَا سَبِيلَ إلَى الثَّانِي؛ لِأَنَّ النَّجَسَ غَيْرُ مَعْلُومٍ بَلْ هُوَ مَوْهُومٌ وَإِلَيْهِ أَشَارَ فِي الْحَدِيثِ حَيْثُ قَالَ.

«فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ» ، وَهَذَا إشَارَةٌ إلَى تَوَهُّمِ النَّجَاسَةِ، وَاحْتِمَالِهَا فَيُنَاسِبُهُ النَّدْبُ إلَى الْغُسْلِ، وَاسْتِحْبَابُهُ لَا الْإِيجَابُ؛ لِأَنَّ الْأَصْلَ هُوَ الطَّهَارَةُ، فَلَا تَثْبُتُ النَّجَاسَةُ بِالشَّكِّ، وَالِاحْتِمَالِ، فَكَانَ الْحَدِيثُ مَحْمُولًا عَلَى نَهْيِ التَّنْزِيهِ لَا التَّحْرِيمِ

دوسری صورت بھی لائقِ اعتبار نہیں اسلئے کہ ہاتھوں پر نجاست کا لگنا غیر معلوم ہے بلکہ موہوم ہےاور حدیث میں اسی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ نہیں جانتا کہ اسکے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری، اور یہ نجاست کے توہم اور اس کے احتمال کی طرف اشارہ ہے تو مناسب ہے کہ ہاتھوں کا دھونا مندوب اور مستحب ہو نہ کہ فرض۔ اسلئے کہ اصل طہارت ہے تو نجاست شک اور احتمال سے ثابت نہیں ہوتی، لہذا حدیث کراہتِ تنزیہی پر محمول ہے نہ کہ تحریمی پر۔

وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِي وَقْتِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ أَنَّهُ قَبْلَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ أَوْ بَعْدَهُ؟ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْوَالٍ: قَالَ بَعْضُهُمْ قَبْلَهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَعْدَهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَبْلَهُ، وَبَعْدَهُ تَكْمِيلًا لِلتَّطْهِيرِ.

ہاتھوں کا گٹوں تک دھونے سے متعلق مشایخ کا اختلاف ہے کہ اسے استنجا سے پہلے پانی کے ساتھ دھویا جائے یا استنجا کے بعد ۔اس میں تین اقوال ہیں: بعض نے فرمایا کہ پہلے دھویا جائے، بعض نے فرمایا بعد میں اور بعض نے فرمایا پہلے بھی دھویا جائے اور بعد میں بھی تاکہ تکمیلِ طہارت ہوجائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے چھٹی سنت *غَسْلُ الْيَدَيْنِ إلَى الرُّسْغَيْن* بیان کی ہے۔

*غسل الیدین الی الرسخین کی شرعی حیثیت*

*رُسخ* ہتھیلیوں اور کلائیوں کے درمیانی جوڑ کو کہتے ہیں،اردو میں گٹےکہتے ہیں۔

وضو کی ابتدا میں غیر نجس ہاتھوں کا گٹوں تک تین بار دھونا عام حالات میں سنتِ غیر موکدہ ہے۔ (رد المحتار عن النہر)

اگر نیند سے اٹھے ہوں اور ہاتھوں پر نجاست لگنے کا احتمال پایا جاتا ہو تو دھونا سنتِ موکدہ ہے۔ (رد المحتار عن النہر)

اگر واقعۃ ہاتھوں پرنجاست لگی ہو تو حسبِ مقدار دھونا فرض و واجب ہے۔

ہمارے بعض فقہائے کرام مثلا امام ابن ہمام اس ابتدائی دھونے کو فرض کا حصہ شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں دراصل یہ فرض ہی کا حصہ بس اتنے حصہ کو*شروع میں* دھونا سنت ہے، البحرالرائق وغیرہ نے اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے، لیکن جو ہم نے بیان کیا وہ زیادہ جامع ہے، سنت کی نیت سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں گے اگرچہ اتنے حصہ کا فرض بھی پورا ہوجائے۔

*یہ سنت سوکر اٹھنے کے بعد ہے یا عام حالات میں بھی سنت ہے۔۔؟؟*

فقہائے کرام فرماتے ہیں حدیث شریف میں *سوکر اٹھنے والے* کی قید اتفاقی ہے، لہذا کوئی سوکر اٹھا ہو یا نہ اٹھا ہو ہاتھوں کاگٹوں تک دھونا سنت ہے۔

حدیث پاک کا اول حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ عمل واجب ہو اور آخری حصہ واجب کی نفی پردلالت کرتا ہے، لہذا واجب کی نفی سے اس عمل کا مسنون و مستحب ہونا ثابت ہوجائے گا۔ (البنایہ)

نیز حدیث شریف میں شک اور احتمال کی علت بیان ہوئی ہے کہ *نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری* تو جب نجاست کا احتمال موجود ہو تو گٹوں تک دھونا سنتِ موکدہ ہوگا اور شک و احتمال نہ ہو تو سنتِ غیر موکدہ۔

*وضو کی پہلی سنت۔۔؟؟*

قلب کے اعتبار سے نیت پہلی، زبان کے اعتبار سے تسمیہ پہلی اور فعل کے اعتبار سے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا پہلی سنت ہے۔

*ہاتھ میں گٹوں کی قید*

حدیث شریف میں *ید* کا لفظ آیا ہے، اس کی حد گٹوں تک ہے، اسلئے کہ جب شریعت میں* ید* مطلق آتا ہے تو یہی حد مراد ہوتی ہے۔ جیسے قرآن مجید نے چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا۔۔۔ یعنی چوری کرنے والے اور کرنے والیوں کا ہاتھ کاٹ دو۔(البنایۃ شرح الہدایہ) ہاں کسی دلیل سے حد کا تعین ہوجائے تو علیحدہ بات ہے۔

*فرضیت میں اختلاف*

امام داؤد اور ان کے اصحاب کا قول یہ ہے کہ چاہے دن سے سوکر اٹھے یا رات سے ہاتھ دھونا مطلقا فرض ہے۔

امام احمد اور ان کے اصحاب کا قول یہ ہے کہ رات کی نیند سے اٹھنے والے پر ہاتھوں کا دھونا فرض ہے اور اسکے علاوہ میں سنت ہے۔

*فرض نہ ہونے کی دلیل۔۔!*

علامہ کاسانی نے فرض کے قائلین کی دلیل دی اور احناف کی جانب سے اس کا جواب بھی دیا۔ فرماتے ہیں:

ہاتھ کا دھونا دو وجہ سے ہوگا۔۔۔ یا تو حدث (یعنی وضو ٹوٹنا) پایا جائے گا۔۔۔ یا نجاست پائی جائے گی۔

*اگر حدث کی وجہ سے ہاتھ دھونے کو فرض قرار دیں تو ایک بار سوکر اٹھنے پر فرض قرار دیا جائے گا اور ایک بار وضو کرتے وقت، حالانکہ حدث دور کرنے کے لئے ہاتھ کا ایک بار دھونا کافی ہے۔ لہذاحدیث سے فرضیت کا مفہوم نکالنا درست نہیں ہے۔

*اگر نجاست کی وجہ سے ہاتھ دھونے کو فرض قرار دیں تو نجاست کا یقین ہونا ضروری ہے کہ کہاں لگی ہے جبکہ اس صورت میں نجاست معلوم نہیں جیسا کہ حدیث کے الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے ہیں، صرف شک و احتمال کی بنیاد پر حکم دیا گیا ہے اور احتمال سے یقینی حکم یعنی طہارت زائل نہیں ہوتا لہذا حدیث کا درست مفہوم یہی ہے کہ سوکر اٹھنے کے بعد ہاتھوں کا دھونا مسنون و مستحب ہےاوراس کا ترک کرنا مکروہ تنزیہی ہے مکرہ تحریمی یا حرام نہیں ہے۔اگر نجاست کا شک موجود ہو تو سنت کی تاکید ہوگی اور شک نہ ہو تو تاکید بھی نہیں ہوگی۔

*استنجا سے پہلے یا بعد میں۔۔!*

ہاتھوں کا دھونا استنجا سے پہلے بھی سنت ہے اور بعد میں بھی، یہی قول زیادہ درست ہے۔

*بے وضو برتن میں ہاتھ کیسے ڈالے ۔۔؟*

برتن دو طرح کا ہوگا۔۔۔

1- ایک جانب سے پانی نکل سکتا ہوگا جیسے لوٹا۔

2- اوپر سطح سے کھلا ہوا ہموار ہوگا کہ برتن الٹاکر پانی نہیں نکالا جاسکتا۔

*پہلی صورت:* الٹے ہاتھ سے برتن پکڑ کر پہلے سیدھا ہاتھ گٹوں تک تین بار دھوئے پھر الٹا ہاتھ تین بار۔

*دوسری صورت:* دو حال سے خالی نہیں ہوگی، برتن سے پانی نکالنے کے لئے کوئی ڈول موجود ہوگا ۔۔یا۔۔ نہیں ہوگا۔

اگر ڈول موجود ہے تو سیدھے ہاتھ سے ڈول میں پانی بھر کر پہلے الٹا ہاتھ گٹوں تک دھوئے پھر سیدھا ہاتھ دھوئے تین تین بار۔

اگر ڈول موجود نہیں ہےتو الٹے ہاتھ کی چار انگلیوں کو ڈول بنانے کی نیت سے برتن میں ڈالے، خیال رہے ہتھیلی نہ لگے اور سیدھے ہاتھ کو تین بار دھوئے اب سیدھا ہاتھ گٹوں تک برتن میں ڈال سکتا ہے، اس سے الٹا ہاتھ دھوئے۔

*بے وضو ڈول کی نیت سے برتن میں ہاتھ ڈالے گا اگر ہاتھ دھونے کی نیت سے برتن میں ہاتھ ڈالا تو پانی مستعمل ہوجائے گا۔

(خلاصہ الفقہ علی المذاہب الاربعہ)

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.