مجالسِ کِبار اور دینی مدارس وجامعات

”کِبار‘‘ کبیر کی جمع ہے ‘ عنوان کا معنی ہے: ”بڑوں کی مجالس‘‘اس سے ریاستِ پاکستان کے دو بڑے مراد ہیں ‘ایک چیف ایگزیکٹیو یعنی وزیراعظم جنابِ عمران خان اور دوسرے چیف آف آرمی سٹاف جنابِ جنرل قمر جاوید باجوہ۔ 29مارچ جمعۃ المبارک کے دن چیف آف آرمی سٹاف اور اُن کے ادارے کے اعلیٰ افسران کے ساتھ علمائے کرام کی نشست ہوئی اور ہفتہ30مارچ کو جنابِ عمران خان کے ساتھ اسی طرح کی ایک نشست منعقد ہوئی ‘پہلی نشست کی نسبت اس میں تعدادکم تھی ۔جنابِ جنرل قمر جاوید باجوہ کی علمائے کرام کے ساتھ چند نشستیں پہلے بھی ہوچکی ہیں ‘وہ جب بھی مکالمے کے لیے دعوت دیتے ہیں توطبیعت میں تنائو معلوم نہیں ہوتا ‘ عجلت میں نہیں ہوتے ‘ ریلیکس رہتے ہیں اور کھلے ڈلے انداز میں بے تکلفی کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ ہر بات کو سنتے ہیں اور ہر بات کا جواب دیتے ہیں ۔ اس کے برعکس وزیر اعظم جنابِ عمران خان شاید زیادہ مصروف رہتے ہیں اور طویل مجلس کے عادی نہیں ہیں ‘اس لیے اختصار کو پسند کرتے ہیں ۔ ان مجالس کی ضرورت ‘ پسِ پردہ محرّکات اور تبادلۂ خیال کے حوالے سے چند تاثرات اور مدارس کا موقف پیشِ خدمت ہے:

اس وقت عالمی سطح پر ہمارے وطنِ عزیز کو جو مسائل درپیش ہیں ‘ وہ ہم سب کو معلوم ہیں ‘ اقتصادی مشکلات کے سبب ہم پرکئی طرح کے بین الاقوامی دبائو ہیں ‘ اُن میں سے ایک پاکستان کا فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں ہونا ہے ‘ یعنی ہم واچ لسٹ میں ہیں ‘زیرِ نگرانی ہیں ‘ ہمیں اپنی نیک چلنی کا یقین دلاتے رہنا ہے ‘ کیونکہ بلیک لسٹ ہونے کی صورت میں مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔بھارت کا اصل ہدف پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا ہے ‘یہاں تک کہ کھیل کے شعبے میں بھی‘ اُسے پاکستان کی شرکت گوارا نہیں ہے۔

دونوں بڑے اصحابِ مناصب نے حالات کی حساسیت کی جانب توجہ دلائی۔دونوں بڑوں نے یہ واضح کیا کہ کسی قسم کی عسکریت کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ اسے اسّی کی دہائی کی غلط حکمتِ عملی کہیں یا اُس وقت کی ضرورت‘ بہرحال موجودہ عالمی تناظر میں نہ اس کی گنجائش ہے اور نہ دنیا اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ہم نے کہا: عسکریت ‘ نفرت انگیزی ‘ وطن دشمن اور سماج دشمن کارروائیوں اور انتہا پسندی سے دینی مدارس وجامعات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ بعض مدارس میں خدانخواستہ ایسا ہورہا ہے ‘تو وہ معقول شواہد کے ساتھ ان کی فہرست شائع کرے ‘ ہم ان کا ہرگز دفاع نہیں کریں گے اور ریاست وحکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ماضی کے عسکریت پسند عناصر کے ساتھ حکومت کون سی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے ‘یہ اُس کی حکمت ودانش ‘مصلحت وضرورت اورلمحۂ موجود کے معروضی حالات پر منحصر ہے ‘یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ 

ایک تجویز یہ آئی کہ اس طرح کی تنظیموں کی اوپری سطح کی قیادت؛ اگرذہنی تبدیلی ‘حقائق کے ادراک یا حالات کے جبرکے تحت اپنے بعض پیروکاروں کے ساتھ اپنے ماضی سے رشتہ توڑ لیں ‘صدقِ دل سے نئے حقائق کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرلیں تو انہیں راستہ ملنا چاہیے‘ لیکن ایک مشکل یہ ہے کہ ان کے مختلف کیڈرز میں نئے گینگ لیڈرز پیدا ہوجاتے ہیں‘ کیونکہ ”یہ وہ نشہ نہیں ‘جسے ترشی اتار دے‘‘۔ افغانستان میں طالبان کے غلبے سے پہلے وار لارڈزاور ان کے ذیلی گروپس اس کی نمایاں مثالیں ہیں‘ لہٰذا یہ پانی زیر زمیں چلتے چلتے کہیں نہ کہیں اپنے ظہور کے لیے راستہ بنالیتا ہے‘ پس اس کے لیے صبر آزما اور طویل المدت حکمتِ عملی درکار ہوگی‘درمیان میں امن کے وقفے بھی آئیں گے۔دینی مدارس وجامعات صرف اور صرف تعلیمی وتربیتی ادارے ہیں اور ہمارے ساتھ اسی حیثیت میں مکالمہ کیا جائے۔ دونوں مجالس کے تین شرکاء نے اس پر قومی اخبارات میں لکھا ہے ‘ میں ان باتوں کی تکرار سے؛ حتیٰ الامکان اجتناب کروں گا۔ 

مفتی محمد نعیم صاحب نے تجویز پیش کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے‘ ہم نے بعد میں اُن سے پوچھا : آپ کو یہ تجویز پیش کرنے کا اختیار کس نے دیا ‘ جبکہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کی رکن پانچوں تنظیمات کے قائدین خود موجود تھے۔انہوں نے کہا: ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب میرے برابر میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے کہا: میرا نام تجویز کردیں‘ سو میں نے کردیا۔دراصل اسلام آباد میں مناصب پر رونق افروز بیوروکریٹس بہت ہوشیار ہوتے ہیں ‘وہ ایک منصب کو اپنے پنجوں میں مضبوطی سے پکڑے ہوتے ہیں اور عُقابی نگاہوں سے دوسرے منصب کی تاک میں رہتے ہیںکہ جیسے ہی موقع ملے‘جھپٹ لیں‘ مثلاً: ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی کے ڈاکٹر ضیاء الحق صاحب ”پیغامِ پاکستان‘‘ کے کسٹوڈین بن گئے اور اس کی مارکیٹنگ شروع کردی۔ 

کوئی لاکھ دعویٰ کرتا رہے‘ ہمارا کہنا یہ ہے کہ ابتدائی مسوّدہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان نے مرتّب کر کے دیا تھا‘ اس کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور اخبارات میں شائع بھی ہوچکا ہے۔ 

ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب تمام اقسام کی این جی اوز کے مشترکہ دوست ہیں ۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور یورپ کے مالی وسائل سے مالا مال این جی اوز خود رو گھاس کی طرح منظر عام پر آئیں ‘ کیری لوگر بل کی چار ارب ڈالر گرانٹ کا ایک معتد بہ حصہ تو امریکہ نے خود سوشل سیکٹر کے لیے مختص کردیا تھا؛ اگر2002ء سے اسلام آباد کے تھری سٹار سے فائیو سٹار ہوٹلوں کا ریکارڈ کھنگالا جائے‘تو پتا چلے گاکہ ان این جی اوز کی برکات سے کون کون مستفید ہوچکا۔ ان لبرل این جی اوز کو جن مقاصد کے لیے مالی وسائل دیے جاتے ہیں ‘ اُن میں سے ایک یہ ہے:یہ لوگ امریکہ اور اہلِ مغرب کو یقین دلاتے ہیں کہ دینی مدارس وجامعات اور ملّا نامی مخلوق ساری خرابیوں کی جڑ ہے اور ہم ان کو ترغیب وترہیب کے ذریعے دام میں لارہے ہیں ‘پنجابی محاورے کے مطابق ”بندے دا پتر‘‘ اور اُردو محاورے کے مطابق ”اچھے بچے‘‘ بنارہے ہیں۔ شروع میں ہم نے بھی چند پروگراموں میں شرکت کی ‘ مگر جب اُن کے مالی ذرائع معلوم ہوئے‘تو پتاچلاکہ ان کی دُم واشنگٹن ‘امریکہ‘ یورپ اور کسی نہ کسی مغربی دارالحکومت میں پھنسی ہوتی ہے۔بعض کی کارگزاریاں وائٹ ہائوس کی ویب سائٹ پر سامنے آئیں؛چنانچہ ہم نے اپنی عزت بچانے کے لیے توبہ کرلی ۔ بہت سے سطحی تجزیے پڑھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔

حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل میں دینی مدارس کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک سیمینار تجویز کیا گیا ‘اُس کی سپانسر ایک معروف ایک این جی او تھی ۔ اس میں دووفاقی وزراء جنابِ شفقت محموداور جناب ڈاکٹر پیر نورالحق قادری مدعو تھے ‘ہمیں بھی دعوت ملی ‘ ہم نے کہا: ”این جی اومدارس کی کسٹوڈین کب سے بنی ‘اُسے مدارس کے مسائل حل کرنے کے لیے اختیار کس نے تفویض کیا۔ ظاہر ہے این جی او کو اپنے اسپنسرز کو مطمئن کرنے کیلئے یہ سیشن دکھانا تھا۔ 

ہم نے کہا: وفاقی وزرائے کرام اگر ہم سے مکالمہ چاہتے ہیں ‘تو ہمیں اپنے دفتر میں بلائیں ‘ ہمارے ساتھ اجلاس منعقد کریں ‘ کیا ہماری حکومتوں کو بھی اب این جی اوز چلایا کریں گی ۔ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے ازراہِ کرم خود بھی مجھے ٹیلی فون کیا کہ اصل بات چیت تو آپ لوگوں نے کرنی ہوگی۔ میں نے اُن سے معذرت کی کہ این جی اوکانمک ہم سے ہضم نہیں ہوسکتا‘ ہمارا مسئلہ امریکہ اور یورپ سے نہیں ہے کہ اُن کے ” ریزہ چیں ‘‘لوگوں کے ساتھ مکالمہ کریں ‘ہمارے مسائل کا تعلق ہماری اپنی حکومت سے ہے ‘‘۔اس کے بعد ہمیں معلوم نہیں کہ وہ اجلاس ہوپایا‘ یا نہیں ‘ لیکن اتحادِ تنظیمات ِ مدارس پاکستان کے قائدین نے اس سیمینار میں شرکت سے معذرت کرلی۔جنرل پرویزمشرف کے دور میں مغرب سے وافر پیسہ آیا‘تاکہ پاکستان کے سکولوں کا نصاب بہتر بنایا جائے ‘ دروغ برگردنِ راوی اس منصوبے کے لیے اربوں روپے مختص ہوئے ۔مجھے ایک اجلاس میں شرکت کا موقع ملا ‘مختلف کلاسوں کے لیے اسلامیات اور عربی کے نفاذ کیلئے ایک کمیٹی قائم تھی ‘ اس میں نامی گرامی پی ایچ ڈی سکالرزشامل تھے ۔ میں نے پوچھا: آپ لوگوں نے نماز پڑھنے کا طریقہ کسی کلاس میں سکھایا ہے ‘انہوں نے ایک کلاس کی اسلامیات کی کتاب میں نماز کا عنوان نکالا :اس میں چند لائنیں ان عنوانات پر تھیں: اذان‘ تکبیر‘ قرأ ت‘ رکوع ‘سجود اوربس۔میں نے کہا: ”آپ کو تو یہ پیسہ اس لیے دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے بچوں کو دین کی ضروری تعلیم دے دیں‘ تاکہ انہیں ملّا سے دُور رکھا جاسکے ‘جب آپ نماز ہی نہیں سکھائیں گے ‘تو وہ پکا نمازی بن سکے یا نہ بن سکے ‘ والدین اُسے نماز سکھانے کے لیے ضرورکوئی تدبیر کریں گے ‘کسی مسجد ‘مکتب یا مدرسے میں لازماًبھیجیں گے ‘‘۔ یہ ناتمام کام کرنے کی دانش یہ ہے کہ ایسی تخیُّلاتی نماز کا تصورپیش کیا جائے کہ کوئی مکتبِ فکر ناراض نہ ہو اور بچوں کو نماز بھی نہ آئے ۔ میں نے ان سے کہا: ”جمہوری اقدار کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان میں اکثریت فقہِ حنفی کے ماننے والوں کی ہے ‘آپ فقہِ حنفی کے مطابق؛ نماز کا پورا طریقہ اور ضروری مسائل درج کردیں‘اذان اور نماز میں اہلِ حدیث اور اہلِ تشیُّع کے جو امتیازی مسائل ہیں ‘وہ بھی درج کردیں ‘ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘ لیکن سب کو خوش کرنے کے لیے آپ نماز کا طریقہ ہی نہ سکھائیں تو ان شاء اللہ العزیز!یہ مدارس تاقیامت آباد رہیں گے ‘‘۔ 

میں نے مزیدپوچھا: آپ نے اُمہات المومنین کا تعارف کرایا ہے؟‘ کہنے لگے: ہاں ہم نے ایک کلاس میں حضرت خدیجہؓ اور ایک کلاس میں حضرت عائشہؓ کا مختصر تعارف کرادیا ہے‘ میں نے پوچھا: آپ نے خلافتِ راشدہ کا ذکر کیا ہے ‘ کہنے لگے: خلافتِ راشدہ کا حوالہ دیے بغیر چار کلاسوں میں چاروں خلفائے کرام کا مختصر تعارف کرادیا ہے‘ یہ اس لیے تاکہ ایک مکتبِ فکر ناراض نہ ہو۔ میں نے کہا: آپ نہ توتاریخ کو مسخ کرسکتے ہیں ‘نہ بدل سکتے ہیں ‘ سو ساری دانشوری یہ ہے ۔

میں ٹیکسٹ بک بورڈ یا جماعت ِ اسلامی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی اسلامیات کی کتابوں کوکبھی دیکھتا ہوں ‘تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اُسی کلاس کی نصابی اردو کے مقابلے میں اسلامیات کی اردو زیادہ ثقیل ہوتی ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک کی کتاب میں دوچار پی ایچ ڈی حضرات کے نام لکھ دیے جاتے ہیں‘ اُن کے اعزازیے جاری ہوجاتے ہیں ‘شاید اُن کا کوئی شاگرد یہ کتاب مرتب کر کے دے دیتا ہوگااور ٹائٹل پر اُن کے نام سجادیے جاتے ہیں۔ مختلف درجات کے طلبہ کیلئے کتاب وہ لکھے ‘جسے اُن درجات میں پڑھانے کا کوئی تجربہ ہو اور جو طلبا وطالبات اور معلّمین ومعلّمات کی استعداد کو جانتے ہوں‘ آج کل خود معلّمین ومعلّمات کی اردو کی استعداد واجبی سی ہے ۔کراچی میں نصابی کتابیں تیار کرنے والا ایک پرائیوٹ ادارہ ہے‘اس کی کتابیں نسبتاً بہتر ہیں۔ایک تقریر ہمیں گزشتہ دو عشروں سے مسلسل سننی پڑ رہی ہے ‘موضوع اورسامعین ایک ہوتے ہیں ‘ مقررین وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں‘ مدارس کے طلبا کی ہمدردی میں رچے بسے پرکشش الفاظ کچھ اس طرح ہوتے ہیں:”ہم چاہتے ہیں :مدارس کے طلبا فوج میں جائیں‘ میڈیکل میں جائیں‘ انجینئرنگ میں جائیں‘ زندگی کے تمام شعبوں میں جائیں ‘ وغیرہ ‘‘۔کیا یہ تقریر کوئی جاکر کالجوں اور یونیورسٹیوں میںآرٹس اور سوشل سائنسز یا میڈیکل کے طلبا سے کہتا ہے :ہم چاہتے ہیں ‘آپ انجینئر بھی بنیں ‘ ٹیکنالوجسٹ یا چارٹرڈ اکائونٹینٹ بھی بنیں ‘ وغیرہ۔ دینی مدارس میں طلبا وطالبات خود چل کر آتے ہیں ‘ این جی اوز کی طرح کوئی ادارہ انہیں گھروں سے ترغیب دے کر نہیں لاتا‘ان کے والدین خود بھیجتے ہیں اور ان کے والدین کو پتا ہے کہ وہ کیا پڑھنے جارہے ہیں ۔ یہ نہ پتھر کا دور ہے ‘ نہ ظلمت وجہالت کا‘یہ میڈیا کے سیلاب کا دور ہے ‘سوشل میڈیا کو سب استعمال کرتے ہیں ۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ دینی مدارس فضا میں معلق یا پہاڑوں اور غاروں میں بند ایسے ادارے ہیں کہ جن میں پڑھنے والوں کو باہر کی دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں ہوتی‘ وہ اس چوزے کی مانند ہیں‘ جو ابھی انڈے سے باہر نہیں نکلا‘کھلی فضا کا انہیں ادراک ہی نہیں ‘اُس نابینا کی مانند ہیں‘ جسے رنگوں کا شعور اور تمیز ہی نہیں ہے۔

وفاق المدارس الشیعہ کے قاضی نیاز حسین نقوی کہتے ہیں: ہم نے کب لوگوں سے کہا ہے کہ ہم آپ کوڈاکٹر ‘ انجینئر یا چارٹرڈاکائونٹینٹ بنائیں گے‘ ہم نے تو کہا ہے کہ ہم دین کا علم سکھائیں گے اور اس میں ماہر بنائیں گے ۔ ایران میں دینی مدارس کے علماء نے تمام شعبے سنبھالے اور چلائے ہیں ‘میں خودپچیس سال جج رہا ہوں۔ کیا کسی اسلامی ملک میں جج کے منصب پر فائز ہونے والے علماء لنکن اِن یا ہارورڈ یونیورسٹی یا آکسفورڈ اور کیمبرج سے پڑھ کر آئے ہیں ۔ ہماری بیوروکریسی اور اسٹبلشمنٹ نے اپنی برتری کا سہارا انگریزی زبان کو بنارکھا ہے ‘اُسے ایک طرف کریں اور پھر علماء کے سامنے بٹھائیں ‘ فرق سامنے آجائے گا؛چنانچہ وزیر اعظم جنابِ عمران خان حیرت زدہ رہ گئے کہ علماء جج بھی بن سکتے ہیں؛‘حالانکہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بنچ میں علماء شامل رہے ہیں ۔آج‘ اگر اسلامی فقہ وشریعت کو نافذ کردیا جائے تو یہ علماء ہی اس کے اہل ثابت ہوں گے ۔ فیملی کورٹس کیوں ناکام ہیں ‘ان کے فیصلوں کو معاشرے میں قبولیت کیوں نہ مل سکی‘ اس کا سبب یہی ہے کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا تعلق اسلامی شریعت اور فقہ سے ہوتا ہے اور فیملی کورٹس میں رونق افروز جج صاحبان کودینی مسائل اوراُن کے تقاضوں سے بالکل آگاہی نہیں ہوتی ‘وہ کرائے نامے اور بیع نامے کی طرح محض نام تبدیل کر کے دو صفحوں پرایک لگا بندھا فیصلہ لکھ کر جاری کردیتے ہیں‘ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ یہ حلال وحرام کا مسئلہ ہے ۔ ”دین میں جبر نہیں ‘‘کے عنوان سے میں اُن مجالس کا حوالہ دیے بغیر نفسِ مسئلہ ایک کالم میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں ‘ اسلام آبادہائی کورٹ کا فیصلہ بھی آچکاکہ دو نوں نومسلم لڑکیاں عاقلہ بالغہ تھیں اور قبولِ اسلام کے حوالے سے اُن پر جبر کا کوئی ثبوت نہیں ملا؛ حالانکہ اس پر ہمارے میڈیا نے بے حد شور مچارکھا تھا‘ شاعر نے سچ کہا ہے:؎

وہ بات‘ سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات‘ اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

اس لیے میں نے تجویز پیش کی کہ وزارتِ مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی میں اس کیلئے ایک خصوصی سیکشن قائم کیا جائے ‘ اس میں تمام مذاہب کے نمائندے موجود ہوں ‘ اس مسئلے کوبھی اسی فورم پر پیش کیا جائے اور ثبوت وشواہد سے پہلے جبر کا واویلا مچانے پر پابندی لگائی جائے ‘جبر کا ثبوت مل جائے تو جبر کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ہمارے پاس نومسلموں کے اسلام قبول کرنے کے جتنے واقعات آتے ہیں‘ اُن میں سے بیشتر کا تعلق محبت کی شادی سے ہوتا ہے‘ پس محبت اور جبر دو متضاد چیزیں ہیں۔یہی نہیں‘ مغربی ممالک میں بیشترصورتوں میںقبولِ اسلام کامحرک یہی ہوتا ہے‘میں ایک مرتبہ لیسٹر میں پروفیسر خورشید احمد صاحب کی سربراہی میں قائم اسلامک مشن کے ادارے میں گیا ‘ وہاں نومسلموں کی تربیت کا انتظام تھا ‘ مجھے وہاں بھی یہی بتایا گیا کہ اسّی فیصد اسلام قبول کرنے والوں کا سبب شادی کرنا ہوتا ہے ۔بہت کم ہوتے ہیں‘ جو شعوری طور پر دینِ اسلام کا مطالعہ کریں اور اس کو حق اور سچ مان کر دل وجان سے قبول کریں ۔یہ لوگ کم ہوتے ہیں‘ لیکن ان کا وجود نعمت ِ غیر مترقبہ ہے ‘ یہ حقیقی معنی میں مشنری ہوتے ہیں‘ مغرب کے آئینی و قانونی نظام کے اندر رہتے ہوئے‘ انہیں اپنے حقوق کاا دراک ہوتا ہے اوروہ دفاعی پوزیشن اختیار کر کے نہیں‘ بلکہ پورے ایمان وایقان اور استقامت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ‘ برطانیہ میں یوسف اسلام اور کیلی فورنیا امریکہ میں حمزہ یوسف اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

ایک سوال نصاب پر اٹھایا جاتا ہے اور وہ طبقات اٹھاتے ہیں‘ جنہیں روزِ روشن کی طرح معلوم ہے کہ پاکستان میں ایک نصابِ تعلیم رائج نہیں ۔اکثر اعلیٰ درجے کے انگلش میڈیم سکولوں میں کیمبرج سسٹم ہے‘اے اور اولیول کا نظامِ امتحان ہے ‘ کتب ہانگ کانگ ‘ سنگا پور ‘ برطانیہ وامریکہ وغیرہ سے آتی ہیں یا اُن کا چربہ ہیں۔اُن میں پاکستان کا کوئی حوالہ بھی آپ کو نہیں ملے گا‘ انہی اداروں کے تعلیم یافتہ لوگ ملک میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہوتے ہیں ‘ مگراُن کی کسی کو فکر نہیں ۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار فرو تر ہے‘ سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے بچے بھی پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں میں تعلیم پاتے ہیں‘ یہی حال بیوروکریسی ‘ سیاست دانوں ‘ حکمرانوں اور اشرافیہ کا ہے۔ہمارے دفاعی اداروں کا نرسری سے لے کر یونیورسٹی تک اپنا معیاری اور یکساںنظامِ تعلیم ہے‘ سو اُن کے بچے ان اداروں میں تعلیم پاتے ہیں ۔ حال ہی میں پختونخوا میں ایک سرکاری سروے میں بتایا گیا ہے کہ گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ کی مُعتَد بہ تعداد نصاب پڑھانے کی اہلیت نہیں رکھتی ‘ اردو تو بے انتہا کمزور ہے؛ حالانکہ اس صوبے میں 2013ء سے تحریک انصاف کی حکومت ہے‘وہاں کے بارے میں قوم کو تسلسل کے ساتھ تعلیم وصحت میں بہتری کی نوید سنائی جارہی تھی۔اس کے باوجود سب کو مدارس کی فکر ہے؛ حالانکہ مدارس میں طلبا وطالبات کا تناسب مجموعی قومی تعداد کابمشکل دو یاتین فیصد ہوگا‘ مگر سب کو مدارس کی فکر بے چین کیے رکھتی ہے ‘ اٹھانوے فیصد کی فکر کسی کو نہیں‘ گزشتہ عشرے میں اساتذہ وطلبا کے قتل ‘ اساتذہ طالبات کی بے حرمتی اور دہشت گردی کے واقعات زیادہ عصری تعلیمی اداروں کے بارے میں رپورٹ ہوئے ہیں‘لیکن ہدفِ ملامت دینی مدارس قرار پاتے ہیں۔ دینی مدارس کی عصری تعلیم کے جن شعبوں سے مناسبت ہوسکتی ہے ‘وہ آرٹس اور سوشل سائنسز کی فیکلٹیز ہیں۔ان میں تعلیم پانیوالا محکمۂ تعلیم ‘سول وملٹری سروس ‘ قانون اوردیگرشعبوںمیں جاسکتا ہے۔ہمارے نظامِ تعلیم میں چند مضامین لازمی ہوتے ہیں‘جو میٹرک سے بی اے کی سطح تک شامل ہوتے ہیں‘ باقی متعلقہ شعبے کے اختیاری مضامین ہوتے ہیں ۔انجینئرنگ ‘ میڈیکل‘ ٹیکنالوجیز‘ سائنسز ‘ کامرس ‘آئی ٹی ‘الغرض سب کا شعبہ جاتی نصاب الگ الگ ہے ۔

اس لیے ہم نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ پورے ملک اور قوم کے لیے لازمی مشترکہ نصاب بنالیں ‘ہم بھی اُسے اپنا لیں گے۔ جہاں تک دینی علوم کا شعبہ ہے ‘اُن میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آسکتی ‘ فنون کی کتابوں میں ردّوبدل ہوتا رہتا ہے ‘ یہ ایک جاری عمل ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ ریاست وحکومت کو دینی مدارس وجامعات سے مسئلہ کیا درپیش ہے ‘تاکہ ہم اُن کے تحفظات کا ازالہ کریں ۔حال ہی میں ایک اجلاس میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے پوچھا:ہمیں یہ بتایا جائے کہ حکومت اور اس کے ادارے ہمیں سمجھتے کیا ہیں:ہم حکومت اور اداروں کی نظر میں دہشت گرد ہیں‘ ماہرین تعلیم ہیں‘ معاشرے میں اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیںیا کچھ اور ہیں‘ ازراہِ کرم ہمیں بتادیا جائے ۔حال ہی میںاتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کی پانچ تنظیموں کے تحت پاکستان بھر میں امتحانات منعقد ہوئے ہیں‘ نہایت سکون اور نظم وضبط کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچے۔اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مختلف تعلیمی بورڈز کے امتحانات بھی ہورہے تھے اور الیکٹرانک میڈیا پر سمارٹ موبائل‘ کتابوں ‘مائکرو کاپیوں کے ذریعے نقل کرتے ہوئے دکھایا جارہا تھا اور یہ تماشا مختلف شہروں میں جابجا ہورہا تھا۔پرچے آئوٹ ہونا بھی تقریباً معمول ہے؛ حتیٰ کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پرچہ آئوٹ ہونے کی بنا پر میڈیکل کاانٹری ٹیسٹ ایک بار منسوخ اورایک بار ملتوی کرنا پڑا ‘پاکستان بھر کے سرکاری تعلیمی بورڈز کی داستان یہی ہے۔

الزامی انداز میں بات کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا‘ مجبوراً یہ شِعار اختیار کرنا پڑا ہے ‘ کیونکہ ہم سب ایک قوم کے فرد ہیں ‘اگر کہیں کوئی چیز قابلِ افتخار ہے تو سب کے لیے ہے اور کوئی چیز باعثِ ننگ وعار ہے تو سب کے لیے ہے ‘ہم ایک دوسرے کو ملامت کرکے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ‘سب کو مل کر کمزوریوں پر قابو پانا چاہیے اور ملک کو اصلاح اور ترقی کی شاہراہ پر رواں دواں رکھنا چاہیے۔ آپ ایک ہی طبقے کو طعن وتشنیع کا ہدف بناتے رہیں گے‘ تو ردِّ عمل کا آنا فطری بات ہے۔بائیس کروڑ آبادی کے ملک کو صرف ریاستی طاقت اور جبر سے سدھارا نہیں جاسکتا‘ اس کے لیے اجتماعی اصلاحی اور تجدیدی کاوشوں کی ضرورت ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.