یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَكُوْنُوْا  كَالَّذِیْنَ  كَفَرُوْا  وَ  قَالُوْا  لِاِخْوَانِهِمْ  اِذَا  ضَرَبُوْا  فِی  الْاَرْضِ   اَوْ  كَانُوْا  غُزًّى  لَّوْ  كَانُوْا  عِنْدَنَا  مَا  مَاتُوْا  وَ  مَا  قُتِلُوْاۚ-لِیَجْعَلَ  اللّٰهُ  ذٰلِكَ  حَسْرَةً  فِیْ  قُلُوْبِهِمْؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحْیٖ  وَ  یُمِیْتُؕ-وَ  اللّٰهُ  بِمَا  تَعْمَلُوْنَ  بَصِیْرٌ(۱۵۶)

اے ایمان والو ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا جب وہ سفر یا جہاد کو گئے(ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے نہ مارے جاتے اس لیے کہ اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے اور اللہ جلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

(ف295)

یعنی ابن ابی وغیرہ منافقین ۔

(ف296)

اوراِس سفر میں مر گئے یا جِہاد میں شہید ہوگئے ۔

(ف297)

موت و حیات اُسی کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو مسافر و غازی کو سلامت لائے اور محفوظ گھر میں بیٹھے ہوئے کو موت دے اُن منافقین کے پاس بیٹھ رہنا کیا کسی کو موت سے بچا سکتا ہے اور جہاد میں جانے سے کب موت لازم ہے اور اگر آدمی جہاد میں مارا جائے تو وہ موت گھر کی موت سے بدرجہابہتر لہذا منافقین کا یہ قول باطل اور فریب دہی ہے اوران کا مقصد مسلمانوں کو جہاد سے نفرت دلانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ارشا دہوتا ہے۔

وَ  لَىٕنْ  قُتِلْتُمْ  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَوْ  مُتُّمْ  لَمَغْفِرَةٌ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  رَحْمَةٌ  خَیْرٌ  مِّمَّا  یَجْمَعُوْنَ(۱۵۷)

اور بے شک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ (ف۲۹۸) تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے

(ف298)

اور بالفرض وہ صورت پیش ہی آجائے جس کا تمہیں اندیشہ دلایا جاتا ہے۔

(ف299)

جو راہِ خدا میں مرنے پر حاصِل ہوتی ہے۔

وَ  لَىٕنْ  مُّتُّمْ  اَوْ  قُتِلْتُمْ  لَاۡاِلَى  اللّٰهِ  تُحْشَرُوْنَ(۱۵۸)

اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰)

(ف300)

یہاں مقاماتِ عبدیّت کے تینوں مقاموں کا بیان فرمایاگیا پہلا مقام تو یہ ہے کہ بندہ بخوفِ دوزخ اللہ کی عبادت کرے اُسکو عذابِ نار سے امن دی جاتی ہے اس کی طرف” لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہ "میں اشارہ ہے دُوسری قسم وہ بندے ہیں جو جنّت کے شوق میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس کی طرف "ورَحْمَۃٌ ” میں اشارہ ہے کیونکہ رحمت بھی جنت کا ایک نام ہے تیسری قِسم وہ مخلص بندے ہیں جو عشقِ الٰہی اور ا سکی ذاتِ پاک کی محبت میں اِس کی عبادت کرتے ہیں اور اُن کا مقصُود اُس کی ذات کے سوا اور کچھ نہیں ہے اِنہیں حق سبحانہ، تعالیٰ اپنے دائرۂ کرامت میں اپنی تجلّی سے نوازے گا اِس کی طرف ” لَاِالَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ”میں اشارہ ہے۔

فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ-وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ۪-  فَاعْفُ  عَنْهُمْ  وَ  اسْتَغْفِرْ  لَهُمْ  وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِۚ-فَاِذَا  عَزَمْتَ  فَتَوَكَّلْ  عَلَى  اللّٰهِؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  یُحِبُّ  الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)

تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں

(ف301)

اور آپ کے مزاج میں اِس درجہ لُطف و کرم اور راْفت ورحمت ہوئی کہ روزِ اُحد غضب نہ فرمایا۔

(ف302)

اور شدّت و غِلظت سے کام لیتے۔

(ف303)

تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔

(ف304)

کہ اُس میں اُن کی دِلداری بھی ہے اور عزّت افزائی بھی اور یہ فائدہ بھی کہ مشورہ سنّت ہوجائے گا اور آئندہ امّت اِس سے نفع اُٹھاتی رہے گی۔ مشورہ کے معنٰی ہیں کِسی امر میں رائے دریافت کرنا

مسئلہ : اِس سے اِجتہاد کا جواز اور قِیاس کا حجّت ہونا ثابت ہوا۔(مدارک و خازن)

(ف305)

توکل کے معنی ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کردینا مقصُود یہ ہے کہ بندے کا اعتماد تمام کاموں میں اللہ پر ہونا چاہئے

مسئلہ: اس سے معلوم ہوا ہے کہ مشورہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔

اِنْ  یَّنْصُرْكُمُ  اللّٰهُ  فَلَا  غَالِبَ  لَكُمْۚ-وَ  اِنْ  یَّخْذُلْكُمْ  فَمَنْ  ذَا  الَّذِیْ  یَنْصُرُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِهٖؕ-وَ  عَلَى  اللّٰهِ  فَلْیَتَوَكَّلِ  الْمُؤْمِنُوْنَ (۱۶۰)

اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے

(ف306)

اور مددِ الٰہی وہی پاتا ہے جو اپنی قوّت وطاقت پر بھروسہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت کا اُمّیدوار رہتا ہے۔

وَ  مَا  كَانَ  لِنَبِیٍّ  اَنْ  یَّغُلَّؕ-وَ  مَنْ  یَّغْلُلْ  یَاْتِ  بِمَا  غَلَّ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ  تُوَفّٰى  كُلُّ  نَفْسٍ  مَّا  كَسَبَتْ  وَ  هُمْ  لَا  یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے(ف ۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا

(ف307)

کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے اور انبیاء سب معصوم ہیں اور اِن سے ایسا ممکن نہیں نہ وحی میں نہ غیر وحی میں اور جو کوئی شخص کچھ چھپا رکھے اُس کا حکم اِسی آیت میں آگے بیان فرمایاجاتاہے۔

اَفَمَنِ  اتَّبَعَ  رِضْوَانَ  اللّٰهِ  كَمَنْۢ  بَآءَ  بِسَخَطٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  مَاْوٰىهُ  جَهَنَّمُؕ-وَ  بِئْسَ  الْمَصِیْرُ(۱۶۲)

تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا(ف ۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (حقدار بنا)(ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا بُری جگہ پلٹنے کی

(ف308)

اور اِس کی اطاعت کی نافرمانی سے بچا جیسے کہ مہاجرین و انصارو صالحین امت۔

(ف309)

یعنی اللہ کا نافرمان ہوا جیسے منافقین و کُفّار۔

هُمْ  دَرَجٰتٌ  عِنْدَ  اللّٰهؕ-وَ  اللّٰهُ  بَصِیْرٌۢ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ(۱۶۳)

وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے

(ف310)

ہر ایک کی منزلت اور اس کا مقام جُدا نیک کا الگ بد کا الگ۔

لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ(۱۶۴)

بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳)بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہے(ف۳۱۴)اور انھیں پاک کرتا(ف۳۱۵)اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے(ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے (ف۳۱۷)

(ف311)

منّت نعمتِ عظیمہ کو کہتے ہیں اور بے شک سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت نعمتِ عظیمہ ہے کیونکہ خلق کی پیدائش جہل و عدمِ دَرَایَت و قلتِ فہم و نقصانِ عقل پر ہے تو اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں مبعوث فرما کر انہیں گمراہی سے رہائی دی اور حضور کی بدولت انہیں بینائی عطا فرما کر جہل سے نکالا اور آپ کے صدقہ میں راہ ِراست کی ہدایت فرمائی اور آپ کے طفیل میں بے شمار نعمتیں عطا کیں۔

(ف312)

یعنی اُنکے حال پرشفقت و کرم فرمانے والا اور اُن کے لئے باعثِ فخرو شرف جس کے احوال زُہد وَرَع راست بازی دیانت داری خصائلِ جمیلہ اخلاقِ حمیدہ سے وہ واقف ہیں۔

(ف313)

سیّدِ عالم خاتَم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

(ف314)

اور اُس کی کتابِ مجید فرقانِ حمید اُنکو سُناتاہے باوجود یہ کہ اُن کے کان پہلے کبھی کلامِ حق ووحیِ سماوی سے آشنا نہ ہوئے تھے۔

(ف315)

کُفرو ضلالت اور ارتکاب ِمحرمات و معاصی اور خصائلِ ناپسندیدوملکاتِ رذیلہ و ظلماتِ نفسانیہ سے۔

(ف316)

اور نفس کی قوت عملیہ اور علمیہ دونوں کی تکمیل فرماتا ہے۔

(ف317)

کہ حق و باطِل و نیک و بدمیں امتیاز نہ رکھتے تھے اور جہل و نابینائی میں مبتلا تھے۔

اَوَ  لَمَّاۤ  اَصَابَتْكُمْ  مُّصِیْبَةٌ  قَدْ  اَصَبْتُمْ  مِّثْلَیْهَاۙ-قُلْتُمْ  اَنّٰى  هٰذَاؕ-قُلْ  هُوَ  مِنْ  عِنْدِ  اَنْفُسِكُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  عَلٰى  كُلِّ  شَیْءٍ  قَدِیْرٌ(۱۶۵)

کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اُس سے دُونی تم پہنچاچکے ہو (ف ۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بے شک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

(ف318)

جیسی کہ جنگِ اُحد میں پہنچی کہ تم میں سے ستّر قتل ہوئے ۔

(ف319)

بدر میں کہ تم نے ستّر کو قتل کیا ستّر کو گرفتار کیا۔

(ف320)

اور کیوں پہنچی جب کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں۔

(ف321)

کہ تم نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی کے خلاف مدینہ طیّبہ سے باہر نِکل کر جنگ کرنے پر اصرار کیا پھر وہاں پہنچنے کے بعد باوجود حضور کی شدید ممانعت کے غنیمت کے لئے مرکز چھوڑا یہ سبب تمہارے قتل و ہزیمت کا ہوا۔

وَ  مَاۤ  اَصَابَكُمْ  یَوْمَ  الْتَقَى  الْجَمْعٰنِ  فَبِاِذْنِ  اللّٰهِ  وَ  لِیَعْلَمَ  الْمُؤْمِنِیْنَۙ(۱۶۶)

اور وہ مصیبت جو تم پر آئی(ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف ۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لیے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی

(ف322)

اُحد میں۔

(ف323)

مؤمنین و مشرکین کی۔

وَ  لِیَعْلَمَ  الَّذِیْنَ  نَافَقُوْا ۚۖ-وَ  قِیْلَ  لَهُمْ  تَعَالَوْا  قَاتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَوِ  ادْفَعُوْاؕ-قَالُوْا  لَوْ  نَعْلَمُ  قِتَالًا  لَّا  اتَّبَعْنٰكُمْؕ-هُمْ  لِلْكُفْرِ  یَوْمَىٕذٍ  اَقْرَبُ  مِنْهُمْ  لِلْاِیْمَانِۚ-یَقُوْلُوْنَ  بِاَفْوَاهِهِمْ  مَّا  لَیْسَ   فِیْ  قُلُوْبِهِمْؕ-وَ  اللّٰهُ  اَعْلَمُ  بِمَا  یَكْتُمُوْنَۚ(۱۶۷)

اور اس لیے کہ پہچان کرادے ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور اُن سے (ف۳۲۵) کہا گیا کہ آؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں اپنے منہ سے کہتے ہیں جو اُن کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپا رہے ہیں (آیت ۱۶۷)(ف۳۲۸)

(ف324)

یعنی مؤمن و منافق ممتاز ہوگئے۔

(ف325)

یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین سے۔

(ف326)

مسلمانوں کی تعداد بڑھاؤ اور حفاظت دین کے لئے ۔

(ف327)

اپنے اہل و مال کو بچانے کے لئے۔

(ف328)

یعنی نفاق

اَلَّذِیْنَ  قَالُوْا  لِاِخْوَانِهِمْ  وَ  قَعَدُوْا  لَوْ  اَطَاعُوْنَا  مَا  قُتِلُوْاؕ-قُلْ  فَادْرَءُوْا  عَنْ  اَنْفُسِكُمُ  الْمَوْتَ  اِنْ  كُنْتُمْ  صٰدِقِیْنَ (۱۶۸)

وہ جنہوںنے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ مارا کہنا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱)

(ف329)

یعنی شہدائے اُحد جونسبی طور پر ان کے بھائی تھے ان کے حق میں عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین نے۔

(ف330)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں نہ جاتے یا وہاں سے پھر آتے۔

(ف331)

مروی ہے کہ جس روز منافقین نے یہ بات کہی اسی دن ستر منافق مر گئے۔

وَ  لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًاؕ-بَلْ  اَحْیَآءٌ  عِنْدَ  رَبِّهِمْ  یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)

اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲)ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں(ف۳۳۳)

(ف332)

شان نزول: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت شہداء احد کے حق میں نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں جنتی میوے کھاتے ہیں طلائی قنادیل جو زیر عرش معلّق ہیں ان میں رہتے ہیں جب انہوں نے کھانے پینے رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی۔(ابوداؤد)

اس سے ثابت ہوا کہ ارواح باقی ہیں جسم کے فنا کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں۔

(ف333)

اور زندوں کی طرح کھاتے پیتے عیش کرتے ہیں۔ سیاق آیت اس پر دلالت کرتا ہے کہ حیات روح و جسم دونوں کے لئے ہے علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور زمانہ صحابہ میں اور اس کے بعد بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو انکے جسم تر و تازہ پائے گا۔(خازن وغیرہ)

فَرِحِیْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖۙ-وَ  یَسْتَبْشِرُوْنَ  بِالَّذِیْنَ  لَمْ  یَلْحَقُوْا  بِهِمْ  مِّنْ  خَلْفِهِمْۙ-اَلَّا  خَوْفٌ  عَلَیْهِمْ  وَ  لَا  هُمْ  یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰)

شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم

(ف334)

فضل و کرامت اور انعام و احسان موت کے بعد حیات دی اپنا مقرّب کیا جنت کا رزق اور اس کی نعمتیں عطا فرمائیں اور ان منازل کے حاصل کرنے کے لئے توفیق شہادت دی۔

(ف335)

اور دنیا میں وہ ایمان و تقوٰی پر ہیں جب شہید ہوں گے ان کے ساتھ ملیں گے اور روز قیامت امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔

یَسْتَبْشِرُوْنَ  بِنِعْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  فَضْلٍۙ-وَّ  اَنَّ  اللّٰهَ  لَا  یُضِیْعُ  اَجْرَ  الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۷۱)ﮎ

خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا (ف۳۳۶)

(ف336)

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے حضور نے فرمایا جس کسی کے راہ خدا میں زخم لگاوہ روز قیامت ویسا ہی آئے گاجیسا زخم لگنے کے وقت تھا اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہوگی اور رنگ خون کا ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے کہ شہیدکو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسی کسی کو ایک خراش لگے مسلم شریف،حدیث میں ہے شہید کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔