روزہ اور مسواک

روزہ اور مسواک کا استعمال: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! رمضان المبارک کے با برکت مہینہ میں ہمیں اپنے لئے مسواک کو لازم کرنے کی کوشش کرنی ہے، حدیثِ پاک اور سائنس اور واقعات اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ مسواک میں بے شمار فوائد ہیں اور سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ ہمارے پیارے نبی ا کی پیاری سنت ہے۔ رمضان المبارک میں ہمیں پابندی سے اس کا استعمال کرکے آئندہ ہمیشہ اس کے استعمال کے لئے عزمِ مصمم کرنا ہے۔

مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ مسواک کے فضائل و فوائد پر روشنی ڈال دوں تاکہ مسواک کی محبت اور اس کے استعمال کا جذبہ قارئین کے دلوں میں بیٹھ جائے۔

مسواک کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے بے انتہا تاکید فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ صحابہ کرام یہ خیال کرتے تھے کہ عنقریب اس کے متعلق آیت نازل ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ جانتا تو مسواک کو ان کے لئے فرض قرار دیتا جیسا کہ طہارت کو ان کے لئے فرض قرار دیا گیا ہے۔

ایک روایت میں اس طرح ہے: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نمازِ تہجد کے لئے اٹھتے تو اپنے دہنِ مبارک کو مسواک سے صاف فرماتے۔

حضرتِ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے فرمایا کَانَ لاَ یَنَامُ اِلاَّ وَالسِّوَاکُ عِنْدَہٗ فَاِذَا اسْتَیْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاکِ۔ نبیٔ کریم ا جب سوتے تو آپ کے پاس مسواک ہوتی پھر جب آپ بیدارہوتے تو (آپ کا پہلا کام) مسواک کرنا ہوتا۔ یعنی سو کر اٹھنے کے بعد سب سے پہلے مسواک فرمایا کرتے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَضْلُ الصَّلٰوۃِ بِالسِّوَاکِ عَلَی الصَّلٰوۃِ بِغَیْرِ سِوَاکٍ سَبْعُوْنَ ضِعْفاً جو نماز مسواک کر کے پڑھی جائے وہ ستر درجہ افضل ہے اس نماز پر جو بغیر مسواک کے پڑھی جائے۔

مسواک کے فوائد: حدیث پاک اور سائنس دانوں کے تجربہ کے مطابق مسواک کے بے شمار فوائد ہیں، علامہ شامی علیہ الرحمہ نے مسواک کے بارے میں تحریرفرمایا ہیکہ مسواک کرنے والے کے لئے مسواک کے مندرجہ ذیل ہیں:

٭ بڑھا پے میں تاخیر کرتی ہے۔

٭ بصارت کو تیز کرتی ہے۔

٭ مسواک کی بہترین خوبیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے سوائے موت کے۔

٭ پل صراط پر چلنے میں تیزی بخشتی ہے۔

٭ منہ کی صفائی کا ذریعہ ہے۔

٭ رب تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔

٭ ملائکہ کو خوش کرتی ہے۔

٭ منہ کی گندگی کو دور کرتی ہے اور کیڑے لگے ہوئے دانت کو صحیح کرتی ہے۔

٭ دانتوں کو چمکدار کرتی ہے۔

٭ بصارت کو جلا بخشتی ہے۔

٭ مسوڑوں کو مضبوط کرتی ہے۔

٭ کھانے کو ہضم کرتی ہے۔

٭ بلغم کو کاٹتی ہے۔

٭ نماز کے اجر و ثواب کو بڑھا تی ہے۔

٭ قرآن کے راستے یعنی منہ کو صاف کرتی ہے۔

٭ فصاحت کو بڑھا تی ہے۔

٭ معدہ کو قوت دیتی ہے۔

٭ شیطان کو ناراض کرتی ہے۔

٭ نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے۔

٭ صفراء (ایک زرد رنگ کا کڑوا مادہ) کو کاٹتی ہے۔

٭ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہے۔

٭ روح کے نکلنے کو آسان کرتی ہے۔

اسی طرح علامہ حسن بن عمار علیہ الرحمہ مسواک کے فوائد کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

٭ مسواک کرنا فرشتوں کو خوش کرتا ہے۔

٭ فرشتے مسواک کرنے والے کے چہرے کے نور کے سبب اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔

٭ فرشتے مسواک کرنے والے کے ساتھ چلتے ہیںجب وہ نماز کے لئے نکلتا ہے۔

٭ حاملینِ عرش فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں جب وہ مسجد سے نکلتا ہے۔

٭ انبیاء اور رُسل علیہم الصلوۃ والسلام بھی اس کے لئے استغفار کرتے ہیں۔

٭ اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا۔

٭ مسواک کرنا اللہ تعالی کی اطاعت و فرماں برداری پر بدن کو قوت دیتا ہے۔

٭ جسم سے مُضِر حرارت کا ازالہ کرتا ہے۔

٭ قضائے حاجت پر مدد کرتاہے۔

٭ مسواک کرنے والے کے لئے قبر کشادہ ہو جاتی ہے۔

٭ لحد میں مونس و غمخوار ہوتی ہے۔

٭ مسواک پر مداومت کرنے والے کے لئے اس دن کا بھی اجر لکھا جاتا ہے جس دن اس نے کسی مجبوری کی وجہ سے مسواک نہیں کی۔

٭ جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔

٭ فرشتے مسواک کرنے والے کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ انبیاء علیہم السلام کی پیروی کرنے والا اور ان کے طریقے پر چلنے والا ہے۔

٭ جہنم کے دروازے اس پر بند کر دئے جاتے ہیں۔

٭ مسواک کرنے والا اس دنیا سے پاکیزگی کی حالت میں نکلتاہے۔

٭ حضرت ملک الموت علیہ السلام مسواک کرنے والے کی روح قبض کرنے کے وقت اسی صورت میں آتے ہیں جس صورت میں اولیاء و انبیاء کے پاس آتے ہیں۔

٭ دنیا سے رخصت ہوتے وقت نبیِ مکرم رسولِ محترمﷺ کے حوض سے سیراب کیا جاتا ہے اور وہ رحیقِ مختوم (خالص شہد کا مہر شدہ مشروب )ہے۔

کن اوقات میں مسواک کریں؟: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! دن و رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے کسی بھی وقت ہم نے مسواک کر لیا تو ہمیں مسواک کی فضیلت اور فائدے حاصل ہو جائیں گے لیکن مندرجہ پانچ اوقات میں مسواک کرنا بہتر ہے۔

( ۱) نماز پڑھنے کے وقت خواہ پہلے سے باوضو ہو۔

(۲) وضو کرنے کے وقت ۔

(۳) قرآن مجید کی تلاوت کے وقت۔

(۴) نیند سے بیدار ہونے کے وقت۔

(۵) جب منہ کی بو مُتغیر ہو خواہ کھانے پینے سے یا کسی بدبو دار چیز کے کھانے سے۔ یا زیادہ دیر خاموش رہنے کی وجہ سے یا زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے۔

مسواک کے ذریعہ علاج: حکیم ایس، ایم اقبال لکھتے ہیں کہ میرے پاس ایک مریض آیا جس کے دل کی جھِلِّیوں میں پیپ بھری ہوئی تھی اور دل کا علاج کرتے رہے افاقہ نہ ہوا آخر دل کا آپریشن کر کے پیپ نکال لی گئی ہے۔ کچھ عرصے کے بعد پھر پیپ بھر گئی۔ تھک ہار کر میرے پاس آئے تو میں نے تشخیص کی تو پتہ چلا کہ اس کے مسوڑے خراب ہیں۔ اور ان میں پیپ پڑی ہوئی ہے۔ اور وہ پیپ دل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس تشخیص کو ڈاکٹروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔

اب اس کا پہلا علاج دانتوں اورر مسوڑھوں کا کیا گیا۔ کھانے کے لئے کچھ اور، اور یہ پیلو کا مسواک استعمال کرنے کے لئے دیا گیا۔ بہت جلد مریض نے افاقہ محسوس کیا۔

ڈاکٹر محمود چغتائی لکھتے ہیں کہ عرب ملک سے ایک مریض نے لکھا کہ دانتوں کے ایک دیرینہ مرض میں مبتلا ہوں اور اس کے علاج پر اب تک ۱۰؍ ہزار درہم لگا چکا ہوں لیکن افاقہ نہ ہوا۔ خط میں جواب دیا کہ آپ مسواک صرف پیلو کا استعمال کریں۔ اور دو ماہ مستقل دن میں پانچ دفعہ نمازوں میں اور ایک دفعہ تہجد میں کسی قسم کی دوائی استعمال نہ کریں۔ الحمد للہ مریض حیرت انگیز طریقے سے تندرست ہو گیا۔ لیکن مسواک تازہ ہو۔

مسواک اور سائنس: مسواک دافع تعفن (Anti-septic) ہے۔جب بھی اس کو منہ میں استعمال کیا جائے گا تو یہ اندر کے جراثیم قتل کر دیتا ہے جس سے انسان بے شمار امراض سے بچ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض جراثیم صرف اور صرف مسواک کے اندر انٹی سیپٹ مواد ہی کی وجہ سے مرتے ہیں۔

در اصل مسواک کے اندر فاسفورس (phosphorus) ہوتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق جس زمین میں کیلشیم اور فاسفورس کی زیادتی ہو گی وہاں پیلو کا درخت زیادہ پایا جائے گا۔ چوں کہ قبرستان کی مٹی میں کیلشیم اور فاسفورس انسانی ہڈیوں کے گلنے کی وجہ سے زیادہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں پیلو کا درخت بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اور دانتوں کے لئے کیلشیم اور فاسفورس اہم غذا ہیں۔ اور خاص طور پر پیلو کی جڑمیں یہ اجزاء عام طور پر ہوتے ہیں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مسواک کے فضائل اور فوائد لکھنے کے لئے قلم اٹھایا جائے تو ایک مکمل کتاب تیار ہو جائے۔ لیکن یہاں پر بالاختصار ذکر کیا جا رہا ہے بس اس امید پر کہ اس کتاب کو پڑھنے والے کم از کم رمضان المبارک کی برکت سے ایک عظیم سنت پر عمل کرنے کا جذبہ اپنے دل میں پیدا کریں اور اسے ہمیشگی برتنے کی کوشش کریں۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.