أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا‌ ۚ وَلَـتَجِدَنَّ اَ قۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ جن لوگوں کو مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والا پائیں گے وہ یہود اور مشرکین ہیں ‘ اور آپ جن لوگوں کو مسلمانوں کا سب سے قریب دوست پائیں گے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں ‘ کیونکہ ان میں بعض عالم اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ جن لوگوں کو مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والا پائیں گے وہ یہود اور مشرکین ہیں ‘ اور آپ جن لوگوں کو مسلمانوں کا سب سے قریب دوست پائیں گے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں ‘ کیونکہ ان میں بعض عالم اور راہب ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ (المائدہ : ٨٢) 

نجاشی کا اسلام لانا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ نجاشی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک وفد بھیجا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا ‘ وہ مسلمان ہوگئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ پھر وہ وفد نجاشی کے پاس گیا اور اس کو خبر دی تو نجاشی بھی مسلمان ہوگیا ‘ اور وہ تادم مرگ مسلمان رہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا۔ اس کی نماز جنازہ پڑھو ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں اس پر نماز پڑھی اور نجاشی (کا جنازہ) اس وقت حبشہ میں تھا۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣‘ مطبوعہ ١٤١٥ ھ) 

مسلمانوں کا حبشہ ہجرت کرنا اور کفار مکہ کا ان کو واپس بلانے کی سعی کرنا : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ام سلمہ (رض) (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ) بیان کرتی ہیں کہ جب ہم حبشہ میں پہنچے تو ہمیں نجاشی نے وہاں پناہ دی ‘ ہم نے اپنے دین کی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ ہم کو نہ کوئی ایذا دی جاتی تھی ‘ نہ ہم کوئی ناگوار بات سنتے تھے۔ جب یہ خبر قریش کو پہنچی تو انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ ہمارے متعلق نجاشی کے پاس دو قوی آدمی بھیجے جائیں اور مکہ کی عمدہ چیزوں میں سے نجاشی کے لیے ہدیئے بھیجے جائیں۔ ان لوگوں کو چمڑا پسند تھا ‘ تو انہوں نے بہت سے چمڑے جمع کرلیے ‘ ان کے سرداروں میں سے ہر شخص کو انہوں نے چمڑے اور تحفے دینے کا فیصلہ کیا ‘ پھر انہوں نے عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن العاص کو یہ ہدئیے دے کر روانہ کیا اور ان سے کہا : مسلمانوں کے متعلق نجاشی سے بات کرنے سے پہلے تمام سرداروں کو ہدیئے دے دیئے جائیں وہ حبشہ پہنچ گئے اور نجاشی کے ساتھ ملاقات سے پہلے تمام سرداروں کو ہدیئے دیئے اور ہر سردار سے یہ کہا : تمہارے بادشاہ ملک میں ہمارے چند نادان لڑکوں نے آکر پناہ لی ہے ‘ وہ اپنی قوم کے دین کو چھوڑ کرچکے ہیں اور تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے۔ وہ ایک نیا دین لے کر آئے ہیں ‘ جس کو ہم پہچانتے ہیں نہ تم جانتے ہو ‘ اور ہماری قوم نے اپنے معزز لوگوں کو بھیجا ہے تاکہ وہ ان کو واپس لے جائیں۔ سو جب ہم بادشاہ سے اس معاملہ میں بات کریں تو تم بادشاہ کو یہ مشورہ دینا کہ وہ ان کو ہمارے حوالے کردیں اور بادشاہ ان سے بات نہ کرے۔ 

کیونکہ ہماری قوم ان کے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ سرداروں نے کہا اچھا ‘ پھر انہوں نے نجاشی کو ہدیئے اور تحفے پیش کیے جن کو اس نے قبول کرلیا۔ پھر انہوں نے کہا اے بادشاہ آپ کے ملک میں ہمارے کچھ نادان لوگ آگئے ہیں جو اپنی قوم کے دن کو چھوڑ چکے ہیں ‘ اور آپ کے دین میں داخل نہیں ہوئے۔ وہ ایک نیادین لیکر آئے ہیں جس کو ہم پہچانتے ہیں نہ آپ ‘ اور ہم کو آپ کی طرح ان کی قوم کے معزز لوگوں نے بھیجا ہے ‘ جو ان کے آباء واجد اد اور رشتہ دار ہیں ‘ تاکہ آپ انہیں واپس لے جائیں۔ سو جب ہم بادشاہ سے اس معاملہ میں بات کریں تو تم بادشاہ کو یہ مشورہ دینا کہ وہ ان کو ہمارے حوالے کردیں اور بادشاہ ان سے بات نہ کرے۔ 

کیونکہ ہماری قوم ان کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ سرداروں نے کہا اچھا ‘ پھر انہوں نے نجاشی کو ہدئیے اور تحفے پیش کیے جن کو اس نے قبول کرلیا۔ پھر انہوں نے کہا اے بادشاہ ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ہمارے کچھ نادان لوگ آگئے ہیں جو اپنی قوم کے دین کو چھوڑ چکے ہیں ‘ اور آپ کے دین میں داخل نہیں ہوئے ‘ وہ ایک نیا دین لیکر آئے ہیں جس کو ہم پہنچانتے ہیں نہ آپ ‘ اور ہم کو آپ کی طرف ان کی قوم کے معزز لوگوں نے بھیجا ہے ‘ جو ان کے آباء و اجداد اور راشتہ دار ہیں ‘ تاکہ آپ انہیں واپس بھیج دیں۔ حضرت ام سلمہ نے فرمایا عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن العاص کو اس سے زیادہ اور کوئی بات ناپسند نہیں تھی کہ نجاشی مسلمانوں کی بات سنے ‘ اس کے سرداروں نے کہا ان دو آدمیوں نے سچ کہا ہے۔ ان لوگوں کے کرتوتوں کو ان کی قوم ہی بہتر طور سے جانتی ہے ‘ سو آپ ان لوگوں کو ان دونوں کے حوالوں کردیجئے ‘ تاکہ یہ ان کو ان کی قوم کے پاس واپس لے جائیں۔ 

حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا یہ سن کر نجاشی غضبناک ہوا ‘ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم ‘ میں ان لوگوں کو ان کے حوالے نہیں کروں گا جن لوگوں نے میری پناہ لی ہے اور میرے ملک میں آئے ہیں اور جنہوں نے دوسروں کی بجائے مجھے اختیار کیا ہے ‘ جب تک میں ان سے سوالات کر کے 

تحقیق نہ کرلوں ‘ ان کو تم لوگوں کے حوالے نہیں کروں گا۔ اگر وہ ایسے ہی نکلے جیسا تم نے کہا ہے ‘ تو میں ان کو تمہارے حوالے کر دوں گا ‘ اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں ان کی حفاظت کروں گا۔ اگر وہ ایسے ہی نکلے جیسا تم نے کہا ہے تو میں ان کو تمہارے حوالے کر دوں گا اور اگر الیسانہ ہوا تو میں ان جیسا تم نے کہا ہے تو میں ان کو تمہارے حوالے کر دوں گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں ان کی حفاظت کروں گا ‘ اور جب تک یہ میری پناہ میں رہیں گے ‘ ان سے حسن سلوک کروں گا۔ پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو بلایا۔ جب مسلمان آگئے ‘ تو نجاشی نے اپنے علماء کو بھی بلایا اور وہ اس کے گرد اپنی کتابیں کھول کر بیٹھ گئے۔ 

حضرت جعفر کا نجاشی کے دربار میں اسلام کا تعارف کرانا : 

پھر نجاشی نے مسلمانوں سے سوال کیا ‘ وہ کون سا دین ہے جس کی وجہ سے تم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور تم اس کی وجہ سے نہ میرے دین میں داخل ہوئے اور نہ ان ادیان میں سے اور کسی دین میں داخل ہوئے ؟ حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا جس شخص نے ان کو جواب دیا ‘ وہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضوان اللہ علیہ تھے۔ انہوں نے کہا اے بادشاہ ‘ ہم جاہلوں کی قوم تھے ‘ بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ‘ بےحیائی کے کام کرتے تھے ‘ رشتوں کو توڑتے تھے ‘ پڑوسیوں سے بدسلوکی کرتے تھے ‘ ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا ‘ ہم اسی حال پر تھے کہ اللہ نے ہم میں سے ہی ہماری طرف ایک رسول بھیج دیا۔ جن کے نسب ‘ ان کے صدق ‘ ان کی امانت داری اور ان کی پاکیزگی کو ہم پہلے سے جانتے تھے۔ 

انہوں نے ہمیں اللہ کی طرف دعوت دی ‘ تاکہ ہم اس کو واحد مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس سے پہلے ہم اور ہمارے باپ دادا جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ اس کو چھوڑ دیں ‘ اور انہوں نے ہمیں سچ بولنے ‘ امانت ادا کرنے ‘ رشتوں کو ملانے ‘ پڑوسیوں سے نیک سلوک کرنے ‘ حرام کاموں اور خون ریزیوں سے باز رہنے کا حکم دیا اور بےحیائی کے کاموں ‘ جھوٹ بولنے ‘ یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانے سے منع کیا ‘ اور ہم کو حکم دیا کہ ہم فقط اللہ کی عبادت کریں ‘ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ہم کو نماز پڑھنے ‘ زکوۃ ادا کرنے اور روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا انہوں نے اسلام کے تمام احکام گنوائے۔ سو ہم نے اس رسول کی تصدیق کی اور ہم اس پر ایمان لے آئے ‘ اور وہ اللہ کے پاس سے جو احکام لائے تھے ‘ ہم نے ان پر عمل کیا اور فقط اللہ وحدہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا اور جن چیزوں کو انہوں نے ہم پر حرام کیا تھا ‘ ان کو ہم نے حرام قرار دیا ‘ اور جن چیزوں کو انہوں نے ہمارے لیے حلال کیا تھا ‘ ان کو ہم نے حلال رکھا۔ اس بناء پر ہماری قوم ہماری دشمن ہوگئی۔ 

انہوں نے ہم کو عذاب میں مبتلا کیا اور ہم کو ہمارے دین سے چھڑانے کے لیے آزمائشوں میں مبتلا کیا ‘ تاکہ ہم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے چھڑا کر بتوں کی عبادت کی طرف لے آئیں ‘ اور پھر ان ہی بدکاریوں کو حلال کرنے لگیں جن کو ہم پہلے حلال سمجھ کر کرتے تھے۔ سو جب انہوں نے ہم پر قہر اور ظلم کیا اور ہم پر ہماری معیشت کو تنگ کردیا اور ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان حائل ہوگئے تو ہم آپ کے ملک کی طرف نکل آئے اور ہم نے دوسروں کی بجائے آپ کو پسند کرلیا اور آپ کی پناہ میں رغبت کی ‘ اور ہم نے یہ امید رکھی کہ اے بادشاہ ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا پھر نجاشی نے کہا کیا تم کو اللہ کے کلام کی کچھ آیتیں یاد ہیں ؟ حضرت جعفر (رض) نے کہا ہاں نجاشی نے کہا مجھے سناؤ۔ تو حضرت جعفر (رض) نے سورة مریم کی ابتدائی آیات پڑھیں۔ حضرت ام سلمہ (رض) نے کہا خدا کی قسم وہ آیتیں سن کر نجاشی رونے لگا اور اس کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگ گئی اور اس کے علماء بھی رونے لگے اور ان کے مصاحف ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئے۔ پھر ان سے نجاشی نے کہا بیشک یہ دین اور جس دین کو عیسیٰ لے کر آئے تھے ‘ یہ دونوں دین ایک ہی طاق سے نکلے ہیں ‘ پھر ان دونوں مشرکوں سے کہا : جاؤ ! تم واپس جاؤ بخدا میں ان مسلمانوں کو تمہارے حوالے ہرگز نہیں کروں گا۔ 

کفار قریش کا مسلمانوں کو نکلوانے کی مہم میں ناکام ہونا۔ 

حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا جب وہ دونوں نجاشی کے دربار سے نکل گئے تو عمرو بن العاص نے کہا بخدا میں کل پھر اس کے پاس جاؤں گا اور اس کے سامنے ایسی چیز پیش کروں گا جس سے ان کی جڑ کٹ جائے گی۔ عبداللہ بن ربیعہ نے کہا ایسا نہ کرو ‘ اگرچہ یہ ہمارے مخالف ہیں ‘ لیکن ہماری ان کے ساتھ رشتہ داریاں ہیں ‘ اس نے کہا میں نجاشی کو ضرور بتاؤں گا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کے بندے ہیں ‘ پھر اگلے دن وہ گیا اور نجاشی سے کہا : اے بادشاہ ! یہ عیسیٰ ابن مریم کے متعلق بہت سخت بات کہتے ہیں۔ آپ ان کو بلا کر ان سے پوچھئے کہ یہ ان کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا پھر بادشاہ نے ہم کو بلوایا اور اس جیسی آزمائش ہم پر پہلے نہیں آئی تھی ‘ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو بادشاہ نے پوچھا تم لوگ عیسیٰ بن مریم کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ جب ان کے متعلق سوال کیا جاتا ہے ؟ 

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے کہا ہم ان کے متعلق وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ‘ اس کے رسول اور اس کی پسندیدہ روح ہیں اور کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے کنواری پاک دامن مریم کی طرف القاء کیا۔ حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا پھر نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور ایک تنکا اٹھایا۔ پھر کہا بخدا تم نے جو کچھ بیان کیا ہے ‘ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اس سے ایک تنکے سے بھی زیادہ نہیں ہیں۔ جب نجاشی نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے متعلق یہ کہا : تو اس کے گرد بیٹھے ہوئے سرداروں نے غصہ سے پھنکارنا شروع کردیا۔ نجاشی نے کہا : ہرچند کہ تم غصہ سے پھنکار رہے ہو (اور مسلمانوں سے کہا) تم میری سرزمین میں مامون ہو ‘ جو شخص تم کو گالی دے گا ‘ اس پر جرمانہ ہوگا۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور میں اس کے بدلہ میں تم میں سے کسی شخص کو ایذا پہنچاؤں۔ ان لوگوں کے ہدیئے اور تحفے ان کو واپس کردو۔ ہم کو ان کی ضرورت نہیں ہے ‘ بخدا جب اللہ نے مجھے میرا ملک واپس کیا تو مجھ سے رشوت نہیں لی تو میں ان سے کیسے لوں گا ؟ 

حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا تو وہ دونوں (عمروبن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ) نجاشی کے پاس سے ناکام اور نامراد ہو کر لوٹے ‘ اور ہم نجاشی کے ملک میں اچھے گھر اور اچھے گھر اور اچھے پڑوسی کی حیثیت سے رہے۔ اسی اثناء میں نجاشی کے ملک پر کسی نے حملہ کیا ‘ ہم نے اس کے غلبہ کے لیے اللہ سے دعا کی ‘ حتی کہ وہ کامیاب ہوگیا اور ہم اس کے ملک میں اچھی طرح رہے۔ حتی کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مکہ واپس آگئے (علامہ احمد شاکر نے لکھا ہے اس حدیث کی سند صحیح ہے) (مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٧٤٠‘ طبع دارالحدیث : قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٧٤٠‘ طبع دارالفکر بیروت ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٢٠٣۔ ٢٠١‘ طبع قدیم ‘ السیرۃ النبویہ ‘ ج ١ ص ٣٧٥۔ ٣٧٣‘ الروض الانف ‘ ج ١ ص ٢١٤ ‘۔ ٢١٠‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٦‘ ص ٢٧۔ ٢٤‘ البدایہ النہایہ ‘ ج ٣‘ ص ٧٥۔ ٧٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 82