مدارسِ اسلامیہ مسائل اور تقاضے

مدارسِ اسلامیہ مسائل اور تقاضے

از: ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری

پرنسپل جامعہ رضاء العلوم ،خطیب وامام محمدی جامع مسجد خیرانی روڈ ممبئی۔

مسجدِ نبوی شریف کے مقدس ننھے سے چبوترہ سے علوم و افکار کا جو سوتا پھوٹا تھا پوری دنیا اب تک اس کے آبشار سے سرشار ہو رہی ہے، یہ مدارس اسلامیہ اسی بحرِ نبوت کی مچلتی نہریں اور بل کھاتی لہریں ہیں ان کا سرِ رشتہ چوں کہ مسجد نبوی شریف سے ملتا ہے اسی لئے ان کے افق سے علوم و معارف کی پھوٹنے والی کرنیں، ان کا ظاہری رکھ رکھائو، باطنی رنگ و آہنگ حتی کہ تاثیر و تأثر سب مدنی فیضان سے مالا مال ہے۔ ان کے قیام کا بنیادی مقصد چوں کہ نبوی ہدایات کا تحفظ و ارتقاء اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت ہے اس لئے زمانۂ نبوت سے آج تک ہر دور میں مدارسِ اسلامیہ نے ماحول و معاشرہ کے پژمردہ جسم میں عزم و عمل کی تازہ روح پھونکا اور ایمانی روحانی دنیا کے چراغ کو کج فکری و کج روی کے طوفان سے بچایا ہے۔ جب بھی ایسی ضرورت پڑی ہے تو مدارسِ اسلامیہ نے نادر الوجود ہستیاں قوم و ملت کے حوالے کی ہیں کہ ان کے دم قدم کی برکتوں سے سعادتوں کی بارات اتر پڑی ہے۔ جو ذرے ان کے زیرِ پا آگئے رشکِ آفتاب، غیرتِ ماہتاب بن گئے۔ وہ چاہے امام اعظم ابو حنیفہ ہوں یا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی… وہ چاہے غزالی و رازی ہوں یا رومی و سعدی… وہ چاہے خواجہ غریب نواز اجمیری ہوں یا محبوبِ الٰہی… وہ چاہے مخدومِ بہار شیخ الشیوخ حضرت یحیٰ منیری، قطبِ کوکن مخدومِ مہائمی ہوں یا امام احمد رضا محدثِ بریلوی، یہ سب مدارسِ اسلامیہ ہی کے پروردہ و پرداختہ اور فیض و فیضان ہیں، ان حضرات کی دینی اور ملی و سماجی اصلاحات و خدمات کا زمانہ معترف ہے… تاریخی اعتبار سے کسی دور میں کم، کسی دور میں زیادہ مگر ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں مدارس کا وجود ملتا ہے۔ سلطان محمد تغلق کے زمانہ میں صرف دلی میں ایک ہزار مدرسے تھے، انگریزوں کے تسلط سے قبل ہندوستان کا چپہ چپہ مدارس کے وجود سے درخشاں تھا، سلاطینِ ہند نہ صرف یہ کہ مدارس کی سرپرستی کرتے تھے بلکہ ان کے لئے جاگیریں، جائدادیں مختص کر رکھتے تھے۔ علماء کے لئے شاہی خزانے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا، چوں کہ علماء فکر معاش سے آزاد، خوش حال اور فارغ البال تھے اس لئے پوری دل چسپی کے ساتھ دینی مہمات و خدمات میں لگے رہتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ گلشنِ دین ہرا بھرا تھا، اس کی دل آویز خوشبو سے روحِ معاشرہ معطر تھی، سقوطِ سلطنتِ مغلیہ کے بعد انگریزوں نے اپنے دورِ تسلط میں سب سے زیادہ نقصان مدارسِ اسلامیہ اور علمائے اسلام کو پہنچایا…… آنجہانی گاندھی جی نے ۱۹۲۰؁ء میں بنارس میں اپنے خطاب میں یہ اعتراف کیا کہ ’’برٹش گورنمنٹ کی آمد سے قبل ملک میں تیس ہزار مدرسے تھے، جن میں دو لاکھ طلباء تعلیم پاتے تھے، آج حکومتِ دفتری بمشکل تمام چھ ہزار مدرسوں کا حوالہ دے سکتی ہے‘‘ (آزادی کی جنگ ص:۸)

انگریز اس راز کو خوب سمجھ چکا تھا کہ مسلمانوں میں اسلامی جوش و ہوش، ایمانی جذبہ و ولولہ علما ہی پیدا کرتے ہیں لہٰذا ایک طرف وہ مدارس کی بیخ کنی میں جٹ گئے تو دوسری طرف علماء کے در پئے آزار ہو گئے، اپنی مقصد بر آری کے لئے وہ جو کر سکتے تھے کر دکھایا یہاں تک کہ پندرہ ہزار علماء شہید کر دئے گئے، جو باقی بچے انہیں بے بس و بے کس، کمزور و مجبور کرنے کے لئے مدرسہ، مسجد اور خانقاہ جن پر علما کا کنٹرول تھا، علما سے لے کر عوام کے سپرد کر دیا۔ عظیم مؤرخ علامہ عبدالقیوم ہزاروی تحریر فرماتے ہیں ’’دو سو سال قبل تک ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں تمام تر معاشی ذمہ داریاں علماء کے سپرد تھیں، اس کے بعد انگریز کا تشکیل کردہ معاشرہ آیا تو اہلیت کا معیار بھی تبدیل ہو گیا‘‘

(معارف رضا، کراچی۔ فروری ۱۹۵۴ء؁)

انگریز اپنے طویل المدتی نظریہ کے ذریعہ اسلام کو بے بال و پر اور مسلمانوں کو بے علم و ہنر کرنا چاہتا تھا، اپنے اس مقصد میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔ مدرسہ، مسجد، خانقاہ جو اسلامی تعلیمات و نظریات کے منبع کی حیثیت رکھتے ہیں، آج گنتی کے چند ہی مدارس، مساجد اور خانقاہیں اپنا مقصدِ حقیقی متعین کرنے اور پیش کرنے میں کامیاب ہیںجو صاحبِ علم و تجربہ، صاحبِ فکر و شعور، وسیع النظر اور غیور علماء و انتظامیہ کے اہتمام میں ہیں۔ دیگر مدارس، مساجد اور خانقاہوں کا معیار اتنا پست بلکہ نا گفتہ بہ ہو گیا ہے کہ ہر کس و ناکس کی تنقید و تبصرہ کا ہدف بن کر رہ گیا ہے۔ اس وقت مدارس میں دو طرح کے نظامہائے عمل کی کار فرمائی نظر آتی ہے۔ ایک شخصی دوسرا جماعتی، شخصی ادارہ کی چوں کہ شان و اٹھان ہی نرالی ہے اس لئے ا سے صرفِ نظر کرتے ہوئے جماعتی ادارہ ہی کو لیجئے تو اس میں بھی دو نظریہ ہائے فکر کی بالا دستی نظر آتی ہے ایک یہ کہ مدرسہ کمیٹی علماء و امراء دونوں پر مشتمل ہے۔ اساتذہ و طلبہ کی تقرری و معطلی ،تعلیم و تربیت کی رنگارنگی اصلاحِ فکر و اعتقاد کی ہمہ گیری جیسے داخلی شعبہ جات پر علماء کو کلیدی اختیار حاصل ہے اور مالیہ و دیگر خارجی امور و لوازمات پر امراء کی گرفت ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنے اپنے دائرہ کار و اختیار میں رہ کر اپنے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، یہ نظام عمل چوں کہ سنجیدہ اور جمہوری ہے اس لئے اس کے اثرات دور رس اور نتائج امید افزا ہیں…… دوسرا نظام عمل یہ ہے کہ مدرسہ کمیٹی صرف امراء پر مشتمل ہے، ان میں نہ دینی تعلیم کی تازگی و رونق ہے نہ دنیوی تعلیم کی کوئی خاص شدبد ظاہر ہے۔ تعلیمی ادارہ کا نظام جب علم ناآشنا لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا تو شجرِ علم کی ڈالیاں پھولوں اور پھلوں سے کیسے آباد ہو سکیں گی؟ ایسے ادارے کیا علمی خدمات انجام دیں گے اور کیا دینی مہمات سر کریں گے؟ اگر اسکول و کالج کی گود علمی بہاروں سے بھرنے کے لئے کمیٹی کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے تو کیا دینی تعلیم اس سے بھی گھٹیا یا ادنیٰ کوئی شیٔ ہے جس کے لئے علم و فکر کی کسی شرط کی کوئی ضرورت نہیں؟

آج مدارس کی کمی نہیں ہے، ایک سے بڑھ کر ایک ظاہری شان و شوکت سے لیس مدرسے ہیں، جن کا اچھا خاصا اسٹاف ہے، فلک شکوہ عمارتیں ہیں، طلبہ کی بھیڑ بھاڑ ہے، مگر ؎

درونِ خانہ اندھیرے ہیں کیا کیا

چراغِ رہ گذر کو کیا خبر ہے

آج تعلیم چوں کہ معاش سے جڑ کر رہ گئی ہے اور اس حوالے سے غیر سنجیدہ نظامِ عمل کے بطن سے ایسی مایوسی اور اداسی نے جنم لیا ہے کہ مسجد ہو یا مدرسہ ہر جگہ یہ عالم ہو گیا ہے کہ ؎

یہاں ہر چیز ملتی ہے، سکونِ دل نہیں ملتا

اس کا انتہائی بھیانک اور مضر اثر یہ ہوا کہ دن بہ دن اعلیٰ ذہن، عمدہ مزاج اور محنتی طلبہ کی تعداد گھٹتی ہی جا رہی ہے، گھر کے سب سے شریر، اہلِ محلہ کی نظروں میں معتوب، اسکول سے خارج کردہ لڑکے مدرسے کا رخ کرنے لگے ہیں، ظاہر ہے جس برتن میں جو ہوگا اس سے وہی تو ٹپکے گا۔ فضا اتنی سنگین ہے پھر بھی کچھ لوگ خوش گمانی و خوش فہمی کے حصار میں ہیں تعجب ہے۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

معروف ماہرِ نفسیات، پروفیسر ڈاکٹر خالدہ ترین رقمطراز ہیں ’’آج کا طالبِ علم مسلسل ایک دبائو میں ہے، ایک بے یقینی کی کیفیت میں ہے، اس کے اندر منفی رجحان پیدا ہو رہا ہے‘‘ (روزنامہ جنگ، لاہور، دسمبر ۹۹)

جب متعلم کے اندر بے یقینی اور منفی رجحان جنم لے لے تو پھر وہ تعلیم میں دلچسپی کیوں لے گا، وہ تو وقت گزاری کرے گا اور جتنی جلد ممکن ہو اس قیدِ زنداں سے آزاد ہونے کی دھن میں رہے گا، یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کا طالبِ علم بڑاحساس ہے، وہ اپنے گرد و پیش سے سبق لیتا ہے، وہ اپنے تابناک مستقبل کے لئے لائحۂ عمل بناتا ہے، وہ مجبوری و بے بسی کی زنجیر توڑ دینا چاہتا ہے، وہ ترقی پذیر دنیاکے شانہ بہ شانہ چلنے کی آرزو رکھتا ہے اس لئے طلبہ کے نفسیات کو پڑھنے، کیفیات کو سمجھنے اور ضروریات پر فوراً دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے اور ضرورت ہے کسی ایسے لائحۂ عمل کے تیار کرنے کی جس سے طلبہ میں اولواالعزمی اور بلند ہمتی کا جذبہ نمودار ہو، جس سے ان کے اندر سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ جلا پائے، عالمی محقق، ماہرِ رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری نے حالات کے انہیں تناظر میں یہ ریمارک کیا ہے، حق یہ کہ بہت صحیح کیا ہے، وہ تحریر فرماتے ہیں ’’کسی بھی دینی ادارے کے بانی کے لئے ضروری ہے کہ اخلاص و فکرِ صحیح کے ساتھ ساتھ تعلیم کے بارے میں اس کے نظریات واضح اور مفید ہوں‘‘(کنز الایمان، جون، ۲۰۰۲ء؁)

ظاہر ہے جب تک اخلاص کی فراوانی اور مفید تعلیمی نظریات کی نور فشانی نہیں ہوگی گلشن مدارس کی کلیاں کیسے گل بداماں ہو سکیں گی، خود نمائی، خود سری، خود آرائی اور خود پسندی کے اس دور میں مزاج ایسا تعریف پسند ہو چکا ہے کہ اخلاص کی تلاش آب حیات کے چشمے کی تلاش سے کم حوصلہ آزما نہیں ہے، جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اب ذرہ برابر بھی کسی کو کسی کی صلاح آگیں تنقید بھی گوارہ نہیں ہے، آدمی کو اپنا ہر کام اچھا لگنے لگا ہے، چاہے وہ مضر اور منفی اثرات کا حامل ہی کیوں نہ ہو، ایسے ہی موقع کے لئے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ ’’اگر آدمی کو اپنا ہر کام اچھا لگنے لگے تو فوراً اپنی اصلاح کرنی چاہئے، اس لئے کہ شیطان اس حربہ سے بھی لوگوں کو ہلاک کرتا ہے‘‘

کچھ موقع پرستوں، ابن الوقتوں نے حالات کی نزاکت دیکھ کر اپنے ضمیر کی صدائے احتجاج کے خلاف محض مزاج یار کی خوشنودی کے لئے بے جا تعریف کا وہ طومار باندھنا شروع کر دیا ہے کہ صداقت، بناوٹ کی فسوں کاری میں گم ہو کر رہ گئی ہے، ایسی مکدر فضا میں تعلیم کا فروغ زمینِ شور سے سنبل کی امید رکھنے کی طرح ہے ؎

چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا باشد مسلمانی

ایک باوقار، معیاری اور نتیجہ خیز ادارہ کی کیا شان ہونی چاہئے، اس کے لازمی عناصر و عوامل کیا کیا ہیں، معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری نے بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ موصوف یوں گہر ریز ہیں

’’کسی بھی دار العلوم کی تعمیر و تشکیل کے لئے توکل بھی ضروری ہے، استاذ بھی ضروری ہے، نصاب بھی ضروری ہے، فرنیچر اور فرش و فروش بھی ضروری ہے اور فنڈ بھی ضروری ہے۔ دورِ جدید کے مدارس میں ان ضرورتوں کو معکوس کر دیا گیا ہے، توکل کا نام و نشان نہ رہا، استاذ کی قدر و قیمت گھٹ رہی ہے، طالبِ علم کا کوئی پرسانِ حال نہیں، سارا زور فنڈ کی فراہمی اور اسراف و تبذیر پر ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ دارالعلوم کی روح استاذ ہے، نصاب کی اہمیت اپنی جگہ مگر استاذ کی بات استاذ ہی کے ساتھ ہے‘‘ (کنزالایمان، جون۲۰۰۲ء؁)

کسی بھی دارالعلوم کے انقلابی اثر اور آفاقی نتیجہ کے لئے جن ذرائع و وسائل کی ضرورت ہے اور جو خامی و کمی ہے وہ سب اس ایک اقتباس میں کوزے میں سمندر کی طرح محفوظ ہے۔ آخری جملہ کہ ’’نصاب کی اہمیت اپنی جگہ مگر استاذ کی بات استاذ ہی کے ساتھ ہے‘‘ یہ تو ماحول کی سرد مہری اور اساتذہ کے حقوق سے بے پروائی وچشم پوشی کے لئے تازیانۂ عبرت ہے جب تک اساتذہ کے حقوق بحال نہیں ہوں گے، اساتذہ طبعی اعتبار سے مسرور و مطمئن نہیں ہوں گے، تعلیم و تعلم کا نتیجہ مایوس کن ہی رہے گا۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ استاذ جو مدرسہ کے ریڑھ کی ہڈی ہے، درسگاہ کے قالب کا قلب ہے، طلباء کے جمال علم کا آئینہ ہے، مدرسہ کے حصول مقاصد کا زینہ ہے، اسے ہی جب اس کا واقعی مقام و منصب حاصل نہیں ہوگا، وہ اندر سے ٹوٹا اور بکھرا بکھرا رہے گا تو پھر یکسو ہو کر وہ کس طرح علم و فکر کی کاشت کر سکے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر جگہ ایسا ہی ہے۔ نہیں جہاں جہاں اساتذہ کا منصبی رعب و دبدبہ قائم ہے وہاں سے آج بھی لعل و گہر جلوہ ریز ہو رہے ہیں۔ آج لازمی ہو گیا ہے کہ مدرسہ کا نظم و نسق معیاری، روادارانہ او رہر قسم کی آلائش سے پاک ہو، خوب سے خوب تر بنانے کے اوصاف سے ادارہ مزین ہو۔ کاش کہ لوگ اپنی کوشش و کاوش کے چراغ میں امام احمد رضا کے دس نکاتی منصوبہ کا روغن ڈال لیتے۔ اگر ایسا ہو گیا ہوتا تو مدارسِ کی یہ گت نہ ہوتی، گلشنِ مدارس کے پھولوں اور کلیوں پر کوئی ٹیڑھی ترچھی نظر نہ اٹھتی اور مدارس بے جا تنقید کا ہدف بننے سے بھی محفوظ ہو جاتے۔ اگر آج بھی اربابِ ادارہ مستعد ہو جائیں تو مدارس اسلامیہ کی علمی شوکت پر دنیا کی یونیورسٹیاں رشک کریں گی اور اسلام کی عظمت کا پھر یرا اُفق در اُفق لہرانے لگے گا۔

اب سے کم و بیش سو برس پہلے امام احمد رضا نے جو نکات پیش کئے تھے غور کیجئے تو لگتا ہے کہ موجودہ نا گفتہ بہ صورتِ حال ان کے سامنے عیاں تھی، اسی لئے ان افکار کا ہر جزو آج کی ضرورت کا ترجمان و آئینہ دار نظر آتا ہے۔ ہم یہاں پر صرف تین نکات کی پیش کشی پر اکتفا کرتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم زبانی طور پر ہی محدثِ بریلوی کے نام لیوا بن کے نہ رہیں بلکہ معاشرتی، عملی زندگی میں بھی ان کے افکار سے چراغاں کریں۔ اس طرح حرکت و عمل کی تحریک میں بھی توانائی آئے گی اور مدرسوں کے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے بھی جو سمجھتے ہیں کہ وہ سمجھ رہے ہیں ان کی سمجھ میں بھی خدا کرے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ کتنے لوازم جمع ہوتے ہیں تب مدرسہ مدرسہ بنتا ہے اور پھر تعلیم تعلیم ہوتی ہے۔

مدرسہ کیسا ہو اور تعلیم کیسی ہو اس حوالے سے محدثِ بریلوی تحریر فرماتے ہیں ’’عظیم الشان مدارس کھولے جائیں، باقاعدہ تعلیمیں ہوں‘‘

اس جملے میں لفظ ’’عظیم الشان‘‘ اور ’’باقاعدہ‘‘ مرکزی الفاظ ہیں، ان کی جو معنوی جامعیت اور مقصدی وسعت ہے وہ بطورِ خاص دعوتِ فکر و عمل دے رہی ہے، یہی دو لفظ اگر مدارس کے جسم میں روح بن کر سما جائیں تو نہ جانے کتنے خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائیں اور مدرسہ مدرسہ سے دارالعلوم اور دارالعلوم سے جامعہ بن جائے اور پھر عظیم الشان اور باقاعدہ کے باطنی جلال و جمال کی ہمہ گیری سے ایسی علمی فضا وجود میں آجائے کہ قابلِ فخر فضلاء کے کارواں سے دھرتی کا سینہ لالہ زار بن جائے۔ جب تک مدارس عظیم الشان اور تعلیمیں باقاعدہ نہیں ہوں گی مدارس کی کار کردگی پر نقص کا داغ لگتا ہی رہے گا۔

اساتذہ کی ضرورت، اہمیت اور افادیت پر محدثِ بریلوی یوں روشنی ڈالتے ہیں ’’جوہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جائیں‘‘ اس اقتباس کے خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجئے، سب سے پہلے محدثِ بریلوی ’’قابلِ کار‘‘ افراد کی بات کر رہے ہیں، بے کار افراد کی نہیں، آج بہت سے مدارس کے ہاسپیٹل میں ایسے ایسے مریض صاحبِ فراش ہیں اور ان کی ایسی اجارہ داری ہو گئی ہے کہ الامان و الحفیظ۔ ایسے لوگوں کو طلبہ کی تعلیم و تربیت سے بس یوں ہی سی، رسمی، بس ڈیوٹی کی حد تک دلچسپی ہے، اوقاتِ درس کے بعد طلبہ سے انہیں باضابطہ کوئی واسطہ نہیں ہوتا، وہ اپنے کام میں، طلبہ اپنے کام میں، اب ایسے ماحول میں طلبہ کی تربیت کے لئے تہذیبِ اخلاق، تزکیۂ فکر و نظر، تطہیرِ سیرت و کردار جو شخصیت سازی کے بنیادی عناصر ہیں کہاں سے پیدا ہوں گے۔ ان کی نظر صرف جلب منفعت پر ہوتی ہے، نوکری کی حفاظت کے لئے ’’سیئاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا‘‘ کا نسخۂ کیمیا ان کے لئے کافی ہے، ایسے افراد مدارس کی بدنامی کا سنگِ میل ہیں، ایسے ہی لوگوں نے طلباء کی زندگی کی بہار کو خزاں آشنا کیا ہے ۔ گرہمیں مکتب و ہمیں ملا کارِ طفلاں تمام خواہد شد۔ اسی لئے محدث بریلوی قابلِ کار کی شرط لگاتے ہیں۔

اس دور قحط الرجال میں ایک تو قابلِ کار افراد کی کمی اور جو ہیں بھی معاش کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، اگر انہیں پر آسائش مقام میسر آجائے تو ان کی صلاحیتیں اپنا جوہر انشراحِ صدر کے ساتھ دکھلائیں اور اچھے اچھے علمی جلوے نظر آجائیں، مگر صورتِ حال یہ ہو گئی ہے کہ ایک طرف صلاحیت سسک رہی ہے کہ مجھے بندِ معاش سے آزاد کرو دوسری طرف مدارس بلک رہے ہیں کہ ہمیں قابلِ کار اشخاص سے آباد کرو…… اور پھر یہ کہ صلاحتیں مختلف اور متنوع ہوتی ہیں۔ اس تناسب سے جس کا جو میدان ہے اگر وہ اسی میدان کے مردِ میدان بنے رہیں تو ظاہر ہے وہ نت نئی علمی گلکاریوں سے فضائے مدرسہ کو مشکبار کر دیں، لیکن یہاں معاملہ ہے کہ صلاحیت کا رخ کسی اور قبلہ کی تلاش میں ہے اور ذمہ داری کا رخ کسی اور قبلہ کی تلاش میں۔ یہ طریقۂ معکوس کیا علمی موت کے محضرنامہ پر دستخط کے مترادف نہیں ہے؟

اساتذہ کی تنخواہ پر محدثِ بریلوی اپنے خیال کا اظہار اس طرح کرتے ہیں ’’مُدرسوں کوبیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں، کہ جان توڑ کر کوشش کریں‘‘ آج فروغِ علم کی راہ کی اہم رکاوٹ مسئلۂ روزگار ہے۔ اچھے اچھے نباّضان درس و تدریس دل برداشتہ ہو کر کنارہ کش ہو چکے اور جو بچے ہیں الا ما شاء اللہ با وضو تیار ہی بیٹھے ہیں۔

ایک ایسے ماحول میں جہاں درسیات کی نوک و پلک درست کرنے والے کم ہی جلوہ ریز ہوتے ہوں اور جو ہوں بھی وہ رختِ سفر باندھنے کی سوچ رہے ہوں تو پھر مستقبل میں مدارس کو اندھیرے میں ڈوبنے سے کون بچا سکے گا؟ اس لئے وقت آگیا ہے کہ ذمہ دارانِ مدارس ہوش کے ناخن لیں، اساتذہ کے باب میں فراخدلی کا مظاہرہ کریں، ان کی تنخواہیں اتنی ضرور متعین کریں جو ان کی ضرورتوں کی بآسانی کفیل ہو سکیں۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے کتنی اچھی اور سچی بات کہی ہے کہ ’’مزدور خوش دل کند کار بیش‘‘ یعنی خوش دل مزدور زیادہ کام کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ زیادہ سے زیادہ کام ہونے کے لئے مزدور کا خوش دل رہنا ضروری ہے اور اگر مزدور بد دل و رنجور ہو تو سوچئے کام کیا ہو گا اور کام کیسا ہوگا۔ آج اگر مدارس کے تعلیمی نتائج مایوس کن ہیں تو اس کا سارا الزام اساتذہ ہی کے سر نہ تھوپ دیا جائے بلکہ اس امر کی طرف بھی توجہ مبذول کی جائے کہ اساتذہ اپنے داخلی معاملات میں مطمئن ہیں یا نہیں؟ قوم مدارس کی ضرورت کے نام پر چندہ دیتی ہے اور خوب دیتی ہے، ضرورت ہے انتظامیہ کے فراخ دست، فراخ نظر اور فراخ دل ہونے کی۔ اساتذہ کی ہمہ نوعی قدر شناسی جب تک نہیں ہو گی حالات دگر گوں ہی رہیں گے، اسی لئے محدثِ بریلوی فرماتے ہیں مدَرّسوں کو بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ جان توڑ کر کوششیں کریں۔ (امام احمد رضا اور عشقِ رسول بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد ۱۲)

ماہرِ رضویات حضرت پروفیسر محمد مسعود احمد مظہری نے بحرِ رضویات کی غواصی کر کے بڑے تابدار موتی چنے ہیں ان میں صرف دو نذرِ ناظرین ہیں۔

٭ تعلیمی ادارے کا ماحول پر سکون، پر وقار اور پر خلوص ہوتاکہ

وحشت اور انتشارِ فکر کا گزر نہ ہو۔

٭ ان علوم کی تعلیم دی جائے جو دین و دنیا میں کام آئیں، غیر

مفید اور غیر ضروری علوم کو نصاب سے خارج کر دیا جائے(کنزالایمان، جون ۲۰۰۲ء؁)

ماہرِ تعلیمات امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور ماہرِ رضویات ڈاکٹر مسعود احمد مظہری کے زریں خیالات و گوہر فرمودات کو آئیڈیل بنا کر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ

٭ جدید تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے نظامِ عمل میں ایسی آئینہ بندی کی جائے کہ محدثِ بریلوی کے الفاظ’’ عظیم الشان‘‘ اور ’’باقاعدہ‘‘ کے فیوض و برکات سے مدرسہ کے درو دیوار اور گنبد و مینار سرشار ہو جائیں۔

٭ انتظامیہ و عملہ مل کر درونِ مدرسہ ایسی پر بہار فضا تشکیل دیں کہ طلبا کا حوصلہ بلند، ذوق تابندہ، اکتسابی صلاحیت اجاگر اور خوابیدہ امنگ بیدار ہو جائے۔

٭ اساتذہ کی دلجمعی و دل بستگی کا بھر پور خیال رکھا جائے، انہیں جتنا اطمینان قلب نصیب ہوگا طلبہ اسی قدر ان سے فیض یاب ہو سکیں گے۔ خوش ہو کر انہوں نے اگر اپنا خزینۂ علم طلبا کے سامنے انڈیل دیا تو پھر فقیہ النفس، محقق عصر، بحرالعلوم اور محدثِ کبیر کے وجودِ مسعود سے دنیا نہال و مالا مال ہو جائے گی۔

٭ بقولِ ماہرِ رضویات ان علوم کی تعلیم دی جائے جو دین و دنیا میں کام آئیں۔ حالات کے تناظر میں اب بہت ضروری ہو گیا ہے کہ نصابِ تعلیم میں ایسا مناسب اور مفید حذف و اضافہ کیا جائے جس سے قدیم کے نور سے بھی طلبہ معمور رہیں اور جدید کے سرور سے بھی مسرور ہو جائیں۔ مثلاً طب و حکمت، کمپیوٹر وغیرہ کے علم و ہنر کو لازمی قرار دیا جائے کہ طلبہ میں خود داری، خود اعتمادی اور خود شناسی کی روح زندہ و تابندہ رہے۔

٭ ہر مدرسہ میں حسبِ استطاعت و وسعت شعبۂ تصنیف و اشاعت قائم کیا جائے اور اس نقطۂ نظر سے طلبہ کی لسانی، قلمی پختہ تربیت کی جائے کہ پرنٹ میڈیا کے اس مسابقتی دور میں طلبہ مؤثر کردار ادا کرسکیں، جس سے مدارس کی کار کردگی بھی نمایاں ہوکر اوجِ کمال تک پہنچ سکے گی۔

خلاصہ کلام یہ کہ مداسِ اسلامیہ مغربی سیلاب کی یلغار کے لئے آہنی دیوار ہیں، ضرورت ہے کہ یہ دیوار محفوظ رہے، مدارس اسلامیہ، مساجد و خانقاہوں کی ظلمت و فکر و عمل کے لئے شمع ہدایت ہیں ضرورت ہے کہ یہ فروزاں رہیں۔ مدارس اسلامیہ ہمارا ایمانی ورثہ اور اخلاقی اثاثہ ہم تک منتقل کرنے کا واحد ذریعہ ہیں، ضرورت ہے کہ یہ سدا سلامت رہیں، مگر خلش اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے مبہم زاویۂ فکر، موہوم طریقۂ عمل اور غیر تسلی بخش کار کردگی سے محل بحث و نظر بن جاتے ہیں۔ ہم نے انہیں مسائل و نوازل کے سدِّ باب کے لئے سطورِ بالا میں چند اہم گزارشات دیدہ وروں کے سامنے رکھے ہیں اور یہ سوچ رکھے ہیں کہ ؎

منظور ہے اس بزم میں اصلاحِ مفاسد

نشتر جو لگا تا ہے وہ دشمن نہیں ہوتا

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.