أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ تَرٰٓى اَعۡيُنَهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَـقِّ‌ۚ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب وہ اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو حق کو پہچاننے کی وجہ سے آپ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کو بہتا ہوا دیکھتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں ‘ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں (حق) کی، گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو حق کو پہچاننے کی وجہ سے آپ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کو بہتا ہوا دیکھتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں ‘ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں (حق) کی، گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔ (المائدہ : ٨٣) 

شان نزول : 

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اپنی کے ساتھ روایت کیا ہے کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٩‘ مطبوعہ ١٤١٥ ھ) 

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کے اصحاب نجاشی کے پاس پہنچے اور انہوں نے قرآن کریم پڑھا اور ان کے علماء اور راہبوں نے قرآن مجید سنا تو حق کو پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور سعید بن جبیر نے کہا کہ نجاشی نے اپنے تیس بہترین اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجے۔ آپ نے ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا ‘ ان پر رقت طاری ہوگئی اور وہ رونے لگے ‘ انہوں نے کہا بہ خدا ہم اس کو پہچانتے ہیں اور وہ مسلمان ہوگئے اور نجاشی کو جا کر خبر دی تو وہ بھی مسلمان ہوگیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 

” ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے “۔ اس کی تفسیر میں چار قول ہیں : 

(١) علی بن ابی طلحہ نے کہا اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت ہے۔ 

(٢) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں : 

(٣) حسن بصری نے کہا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کی گواہی دیتے ہیں۔ 

(٤) زجاج نے کہا اس سے مراد انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین ہیں۔ (زاد المسیر ج ٢‘ ص ٤٠٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 83