حدیث نمبر :502

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے وہ بیان کرتے تھے کہ صحابہ نے پاک مٹی سے نمازفجرکے لیئے تیمم کیا جب کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو انہوں نے مٹی پراپنے ہاتھ پھیرے پھر ایک بار اپنے منہ پر ہاتھ پھیرلیا پھردوبارہ مٹی پر ہاتھ مارے تو اپنی ہتھیلیوں سے پورے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کیا ۱؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ اس حدیث کی بناء پر امام زہری فرماتے ہیں کہ تیمم میں ہاتھوں کا مسح بغلوں تک کیا جائے مگر صحیح یہی ہے کہ کہنیوں تک مسح ہو،کیونکہ تیمم وضوءکانائب ہے اوروضوءمیں ہاتھ کہنی تک ہی دھوئے جاتے ہیں۔ ان صحابہ کا یہ عمل اپنے اجتہاد سے تھا نہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے،انہوں نے قرآن کریم کی یہ آیت دیکھی”فَامْسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمْ وَاَیۡدِیۡکُمۡ مِّنْہُ”۔اوربعض صحابہ کا اجتہاد واجب العمل نہیں خصوصًا جب کہ حدیث مرفوع کے مخالف واقع ہوجائے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وضوءمیں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔حضرت عمار ابن یاسرغسل کے تیمم کے لیئے زمین پر لوٹے تھے۔