اَلَّذِیْنَ  اسْتَجَابُوْا  لِلّٰهِ  وَ  الرَّسُوْلِ  مِنْۢ  بَعْدِ  مَاۤ  اَصَابَهُمُ  الْقَرْحُ  ﳍ  لِلَّذِیْنَ  اَحْسَنُوْا  مِنْهُمْ  وَ  اتَّقَوْا  اَجْرٌ  عَظِیْمٌۚ(۱۷۲)

وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ اُنہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لیے بڑا ثواب ہے

(ف337)

شانِ نزول: جنگ احد سے فارغ ہونے کے بعد جب ابوسفیان مع اپنے ہمراہیوں کے مقام روحاء میں پہنچے تو انہیں افسوس ہوا کہ وہ واپس کیوں آگئے مسلمانوں کابالکل خاتمہ ہی کیوں نہ کردیا یہ خیال کرکے انہوں نے پھر واپس ہونے کاارادہ کیا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان کے تعاقب کے لئے روانگی کااعلان فرمادیاصحابہ کی ایک جماعت جن کی تعداد ستر تھی اورجو جنگ احد کے زخموں سے چور ہورہے تھےحضور کے اعلان پر حاضر ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جماعت کو لے کر ابوسفیان کے تعاقب میں روانہ ہوگئے جب حضور مقام حَمۡراءالاسد پر پہنچے جو مدینہ سے آٹھ میل ہے تو وہاں معلوم ہواکہ مشرکین مرعوب و خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

اَلَّذِیْنَ  قَالَ  لَهُمُ  النَّاسُ  اِنَّ  النَّاسَ  قَدْ  جَمَعُوْا  لَكُمْ  فَاخْشَوْهُمْ  فَزَادَهُمْ  اِیْمَانًا  ﳓ  وَّ  قَالُوْا  حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ(۱۷۳)

وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لیے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کار ساز (ف۳۴۰)

(ف338)

یعنی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی نے ۔

(ف339)

یعنی ابوسفیان وغیرہ مشرکین نے۔

(ف340)

شانِ نزول: جنگ اُحد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پکار کر کہہ دیاتھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے انکے جواب میں فرمایاان شاء اللہ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوئے تو اللہ تعالٰی نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہوجانے کاارادہ کیااس موقع پر ابوسفیان کی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا ابوسفیان نے اس سے کہاکہ اے نعیم اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں واپس جاؤں تو مدینہ جا اور تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدان جنگ میں جانے سے روک دے اس کے عوض میں تجھ کو دس اونٹ دوں گانعیم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں ان سے کہنے لگاکہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو اہل مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں خدا کی قسم تم میں سے ایک بھی پھر کر نہ آئے گا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاخدا کی قسم میں ضرور جاؤں گاچاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو پس حضور ستر سواروں کو ہمراہ لے کر ”حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَ کِیْلُ”پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے بدر میں پہنچے وہاں آٹھ شب قیام کیامال تجارت ساتھ تھااس کو فروخت کیاخوب نفع ہوااور سالم غانم مدینہ طیبہ واپس ہوئے جنگ نہیں ہوئی چونکہ ابو سفیان اور اہل مکہ خوف زدہ ہو کر مکہ شریف کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

فَانْقَلَبُوْا  بِنِعْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  فَضْلٍ  لَّمْ  یَمْسَسْهُمْ  سُوْٓءٌۙ-وَّ  اتَّبَعُوْا  رِضْوَانَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  ذُوْ  فَضْلٍ  عَظِیْمٍ(۱۷۴)

توپلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیںکوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳)

(ف341)

بامن و عافیت منافع تجارت حاصل کرکے۔

(ف342)

اور دشمن کے مقابلہ کے لئے جرأت سے نکلے اور جہاد کا ثواب پایا۔

(ف343)

کہ اس نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آمادگی جہاد کی توفیق دی اور مشرکین کے دلوں کو خوف زدہ کردیا کہ وہ مقابلہ کی ہمت نہ کرسکے اور راہ میں سے واپس ہوگئے۔

اِنَّمَا  ذٰلِكُمُ  الشَّیْطٰنُ  یُخَوِّفُ  اَوْلِیَآءَهٗ   ۪-فَلَا  تَخَافُوْهُمْ  وَ  خَافُوْنِ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)

وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو اُن سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف۳۴۶)

(ف344)

اور مسلمانوں کو مشرکین کی کثرت سے ڈراتا ہے جیسا کہ نعیم بن مسعود اشجعی نے کیا۔

(ف345)

یعنی منافقین و مشرکین جو شیطان کے دوست ہیں ان کا خوف نہ کرو۔

(ف346)

کیونکہ ایمان کا مقتضا ہی یہ ہے کہ بندے کو خدا ہی کا خوف ہو۔

وَ  لَا  یَحْزُنْكَ  الَّذِیْنَ  یُسَارِعُوْنَ  فِی  الْكُفْرِۚ-اِنَّهُمْ  لَنْ  یَّضُرُّوا  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاؕ-یُرِیْدُ  اللّٰهُ  اَلَّا  یَجْعَلَ  لَهُمْ  حَظًّا  فِی  الْاٰخِرَةِۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  عَظِیْمٌ(۱۷۶)

اور اے محبوب تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

(ف347)

خواہ وہ کُفّارِ قریش ہوں یا منافقین یارؤساء یہود یا مرتدین وہ آپ کے مقابلہ کے لئے کتنے ہی لشکر جمع کریں کامیاب نہ ہوں گے۔

(ف348)

اس میں قَدۡرِیّہ و معتزلہ کا رد ہے اور آیت دلیل ہے اس پر کہ خیرو شربہ ارادۂ الٰہی ہے۔

اِنَّ  الَّذِیْنَ  اشْتَرَوُا  الْكُفْرَ  بِالْاِیْمَانِ  لَنْ  یَّضُرُّوا  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  اَلِیْمٌ(۱۷۷)

وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

(ف349)

یعنی منافقین جو کلمۂ ایمان پڑھنےکے بعد کافر ہوئے یا وہ لوگ جو باوجود ایمان پر قادر ہونے کےکافر ہی رہے اور ایمان نہ لائے۔

وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْۤا  اَنَّمَا  نُمْلِیْ  لَهُمْ  خَیْرٌ  لِّاَنْفُسِهِمْؕ-اِنَّمَا  نُمْلِیْ  لَهُمْ  لِیَزْدَادُوْۤا  اِثْمًاۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  مُّهِیْنٌ(۱۷۸)

اور ہر گز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لیے بھلا ہے ہم تو اسی لیے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے

(ف350)

حق سے عناداور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خلاف کرکے حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کون شخص اچھا ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور عمل اچھے ہوں عرض کیا گیا اور بدتر کون ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور عمل خراب۔

مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیَذَرَ  الْمُؤْمِنِیْنَ  عَلٰى  مَاۤ  اَنْتُمْ  عَلَیْهِ  حَتّٰى  یَمِیْزَ  الْخَبِیْثَ  مِنَ  الطَّیِّبِؕ-وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  فَاٰمِنُوْا  بِاللّٰهِ  وَ  رُسُلِهٖۚ-وَ  اِنْ  تُؤْمِنُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  فَلَكُمْ  اَجْرٌ  عَظِیْمٌ(۱۷۹)

اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لیے بڑا ثواب ہے

(ف351)

اے کلمہ گویانِ اسلام

(ف352)

یعنی منافق کو

(ف353)

مومن مخلص سے یہاں تک کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمہارے احوال پر مطلع کرکے مومن و منافق ہر ایک کو ممتاز فرمادے ۔شانِ نزول: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خلقت و آفرنیش سے قبل جب کہ میری امت مٹی کی شکل میں تھی اسی وقت وہ میرے سامنے اپنی صورتوں میں پیش کی گئی جیسا کہ حضرت آدم پر پیش کی گئی اور مجھے علم دیا گیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا یہ خبر جب منافقین کو پہنچی تو انہوں نے براہِ استہزاء کہا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گمان ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان میں سے کون ان پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا باوجود یکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں پہچانتے اس پر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر قیام فرماکر اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم میں طعن کرتے ہیں آج سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کا تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں اس کی خبر نہ دے دوں۔عبداللہ بن حذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر کہا میرا باپ کون ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا حذافہ پھر حضرت عمر رضی ا للہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا یارسول اللہ ہم اللہ کی ربوبیت پر راضی ہوئے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوئے قرآن کے امام ہونے پر راضی ہوئے آپ کے نبی ہونے پر راضی ہوئے ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں حضور نے فرمایا کیا تم باز آؤ گے کیا تم باز آؤ گے پھر منبر سے اترآئے اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت تک کی تما م چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔ اور حضور کے علم غیب میں طعن کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔

(ف354)

تو ان برگزیدہ رسولوں کو غیب کا علم دیتا ہے اور سید انبیاء حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسولوں میں سب سے افضل اور اعلٰی ہیں اس آیت سے اور اس کے سوا بکثرت آیات و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلو ۃ والسلام کو غیوب کے علوم عطا فرمائے اور غیوب کے علم آپ کا معجزہ ہیں۔

(ف355)

اور تصدیق کرو کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ رسولوں کو غیب پر مطلع کیا ہے۔

وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَبْخَلُوْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖ  هُوَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-بَلْ  هُوَ  شَرٌّ  لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ  مَا  بَخِلُوْا  بِهٖ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-وَ  لِلّٰهِ  مِیْرَاثُ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِؕ-وَ  اللّٰهُ  بِمَا  تَعْمَلُوْنَ  خَبِیْرٌ۠(۱۸۰)

اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷)اور اللہ ہی وراث ہے آسمانوں اور زمین کا(ف۳۵۸)اور اللہ تمھارے کا موں سے خبردار ہے

(ف356)

بخل کی معنٰی میں اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ واجب کا ادا نہ کرنا بخل ہے اسی لئے بخل پر شدید وعیدیں آئی ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی ایک وعید آرہی ہے ترمذی کی حدیث میں ہے بخل اور بدخلقی یہ دو خصلتیں ایماندار میں جمع نہیں ہوتیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔

(ف357)

بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوۃ ادا نہ کی روز قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گااور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔

(ف358)

وہی دائم باقی ہے اور سب مخلوق فانی ان سب کی ملک باطل ہونے والی ہے۔ تو نہایت نادانی ہے کہ اس مال ناپائیدار پر بخل کیا جائے اور راہ خدا میں نہ دیا جائے۔