أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

سو اللہ نے ان کے اس قول کے صلے میں ان کو ایسی جنتیں عطا فرمائیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اللہ نے ان کے اس قول کے صلے میں ان کو ایسی جنتیں عطا فرمائیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخی ہیں۔ (المائدہ : ٨٦۔ ٨٥) 

جن عیسائیوں نے دین حق کو پہچان لیا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے صلہ میں جنتیں عطا فرمائیں اور جن عیسائیوں اور یہود اور مشرکین نے واضح دلائل اور معجزات دیکھنے کے باجود تکبر اور ہٹ دھرمی سے اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی وحدانیت اور اس کے انبیاء کے صدق کا انکار کیا ‘ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے عدل کے تقاضے سے دوزخ میں ڈال دے گا۔ اہل سنت کا یہی مذہب ہے کہ ثواب اللہ کا فضل ہے اور عذاب اللہ کا عدل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 85