أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا لَـنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَـقِّۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَـنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور اس حق پر جو ہمارے پاس آیا ہے اور ہم کیوں نہ یہ خواہش کریں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ شامل کرلے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور اس حق پر جو ہمارے پاس آیا ہے اور ہم کیوں نہ یہ خواہش کریں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ شامل کرلے۔ (المائدہ : ٨٤) 

نیک لوگوں کی تفسیر میں تین قول ہیں۔ (١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصحاب ہیں۔ (٢) ابن زید نے کہا اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ہیں۔ (٣) مقاتل نے کہا اس سے مراد مہاجرین اولین ہیں (زاد المسیر ج ٢‘ ص ٤١٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 84