باب الغسل المسنون

مسنون غسل کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ غسل غ کے فتح سے بمعنی دھونا،غ کے زیر سے،بمعنی نہانے یا دھونے کا پانی، غ کے پیش سے،بمعنی نہانا۔یہاں تیسرے معنی مراد ہیں۔غسل پانچ قسم کا ہے:غسل فرض،واجب،سنت،مستحب،مباح۔غسل فرض تین ہیں:حیض سے،نفاس سے،جنابت سے۔غسل واجب ہے:میت کوغسل۔غسل سنت پانچ ہیں:جمعہ کا،عیدین کا،احرام کے وقت،عرفہ کے دن۔غسل مستحب چندہیں:میت کو نہلا کر،فصد کھلوا کر،اسلام لاتے وقت،ٹھنڈک،صفائی وغیرہ کے لیے نہانا غسل مباح ہے۔اس باب میں سنت اورمستحب غسلوں کا ذکرہوگا۔

حدیث نمبر :503

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیئے آئے توغسل کرلیاکرے ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اما م اعظم اورجمہور علماء کے نزدیک یہ حکم وجوب کا نہیں بلکہ سنت کا ہے اوریہ حدیث منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔امام مالک اوراحمدکے نزدیک یہ حکم وجوبی ہے ان کے ہاں غسل نماز جمعہ واجب ہے،مگرامام اعظم کا قول قوی ہے،جیسا کہ آئیندہ صحیح روایت میں آرہا ہے کہ جمعہ کے غسل کا وجوب منسوخ ہوچکا ہے۔خیال رہے کہ غسل نمازجمعہ کے لیے سنت ہے،لہذا جن پرجمعہ فرض نہیں ان کے لئے یہ غسل سنت بھی نہیں جیسا کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا،بعض علماءنے اَحَدْکو نصب اورجمعہ کو ضمہ پڑھا ہے اور حدیث کے معنی یہ کئے کہ جب تم میں سے کسی کے پاس جمعہ کا دن آئے غسل کرے،ان کے نزدیک غسل جمعہ مطلقًا سنت ہے،نماز جمعہ فرض ہویانہ ہو،لہذاچاہیئے یہ کہ جمعہ کاغسل صبح کے بعد کیا جائے رات میں کرلینے سے یہ سنت ادا نہ ہوگی۔