حکایت نمبر212: دریائے رحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کاجوش

حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابراہیم فِہْرِیّ علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ” حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے مُبَارَک زمانہ میں ایک نوجوان گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا۔ اسی بَد مَسْتی کے عالم میں اسے سخت بیماری لاحق ہوگئی اورمِرگی کے دورے پڑنے لگے۔جب کمزوری حد سے بڑھنے لگی توانتہائی رنج وغم کے عالَم میں بہت ہی خفیف آواز کے ساتھ اپنے رحیم و کریم پروَرَدْگَار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس طرح التجاکی: 

” اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ! میرے گناہوں سے درگزر فرما ، مجھے اس بیماری سے چھٹکارا عطا فرما۔ اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اب میں کبھی بھی گناہ نہ کرو ں گا ۔” اس کی دعا قبول ہوئی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے شفاء عطافرمادی ۔لیکن صحتیابی کے بعد وہ دوبارہ گناہوں میں منہمک ہوگیا۔ اور پہلے سے زیادہ نافرمانی کرنے لگا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دوبارہ اس پر بیماری مسلط فرمادی ۔ وہ پھر گڑ گڑانے لگا اور عرض گزار ہوا : ”اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! اس مرتبہ مجھے شفاء عطا فرمادے اب دو بارہ کوئی گناہ نہ کرو ں گا۔” اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پھر تندرستی عطا فرمادی۔لیکن اس کی آنکھوں پرپھر غفلت کا پردہ پڑگیااور گناہوں کی طرف مائل ہوکر پہلے سے بھی اورزیادہ نافرمان ہوگیا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پھر بیماری میں مبتلا کردیا۔ اس مرتبہ مرض بہت شدید تھا۔ اس نے بڑی نقاہت بھری غمگین آواز میں خدائے رحمن ورحیم کو پکارا : ” اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! میرے گناہوں کو بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے بیماری سے شفاء عطافرما ۔میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میں پھر کبھی تیری نافرمانی نہ کرو ں گا۔ ”
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کرم کیااور پھرصحت عطا فرمادی۔ تندرست ہوتے ہی وہ پھر گناہوں میں مبتلا ہوااور بہت زیادہ نافرمان ہوگیا۔ ایک مرتبہ اچانک اس کی ملاقات حضرتِ سیِّدُناحسن بصری ، ایوب سَخْتِیَانِی،مالک بن دینار اور صالح مُرِّی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہوئی ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس نوجوان کو گناہوں میں منہمک دیکھا تو فرمایا۔”اے نوجوان! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس طر ح ڈر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا ،تویہ مت بھول کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ”
یہ سن کر اس نوجوان نے کہا :” اے ابو سعید ! مجھ سے دور رہیے ، بے شک میں تومصیبت وآفت میں ہوں اور دنیا کو خوب ظاہر کرنا چاہتا ہیں ۔”حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!بے شک اس نوجوان کی موت قریب ہے ۔ موت کے وقت اسے بہت پریشانی ہوگی ۔ نزع کی سختیاں اسے بہت تنگ کریں گی۔” اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس گناہ گا ر نوجوان کا بھائی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ بابر کت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہو ا: اے ابو سعید !میں اسی نوجوان کا بھائی ہوں جسے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نصیحت فرمائی تھی ۔ میرے بھائی پر موت کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں ،اس پر نزع کی کیفیت طاری ہے اور بڑی مصیبت میں مبتلا ہے۔ ”
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:” آؤ ! چل کر دیکھتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے ؟” چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کے گھر پہنچے۔ دروازے پردستک دی تواس کی بوڑھی ماں نے پوچھا :” کون ہے؟ ” فرمایا:” حسن۔ ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آواز سن کر بوڑھی ماں نے کہا :” اے ابوسعید! آپ جیسے نیک شخص کو کیا چیز میرے بیٹے کے پاس کھینچ لائی حالانکہ یہ تو ہمیشہ گناہوں کامرتکب رہا اور حرام کاموں میں پڑارہا ؟” فرمایا:” محترمہ آپ ہمیں اپنے بیٹے کے پا س آنے کی اجازت دیں ، بے شک ہمارا پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ گناہوں کو بخشنے والا اور
خطاؤں کو مٹانے والا ہے ۔”

بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی دروازے پر کھڑے ہیں وہ اندر آنا چاہتے ہیں۔ کہا: ”اے میری پیاری ماں ! حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی یا تو میری عیادت کرنے آئے ہیں یا پھر زَجْر و تَو بیخ کرنے ۔بہر حال آپ دروازہ کھول دیں۔” جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اندر تشریف لائے تو دیکھا کہ نوجوان نزع کی سختیوں میں مبتلا ہے ۔ اس پرنا اُمید ی ورَنج واَلم کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ” اے نوجوان !اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی طلب کر! بے شک وہ رحیم وکریم پرورد گار عَزَّوَجَلَّ تیرے گناہوں کو بخش دے گا۔ ” نوجوان نے کہا : اے ابو سعید! اب وہ میرے گناہوں کو نہیں بخشے گا ۔” فرمایا :” اے نوجوان ! کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے بخل ثابت کرنا چاہتے ہو ؟، وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ تو بہت زیادہ کریم وجوّاد ہے۔اس کی رحمت سے مایوس کیوں ہوتے ہو۔”

کہا :” اے ابو سعید علیہ رحمۃ اللہ المجید !میں نے رحیم وکریم پر وردگارعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی ،تو اس نے مجھے بیماری میں مبتلا کردیا ۔میں نے شِفاطلب کی تو اس نے شفا ء عطا فرمائی۔ میں نے پھر نافرمانی کی تو دوبارہ بیماری میں مبتلا ہوگیا ۔ پھر گناہوں سے معافی طلب کی اور صحتیابی کی دعا مانگی۔ اس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ نے مجھے شفا ء عطا فرمادی ۔میں اسی طرح گناہ کرتا رہا اوروہ معاف کرتا رہا۔اب پانچویں مرتبہ بیمار ہوا ہوں ، میں نے اس مرتبہ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور صحتیابی کے لئے عرض گزار ہوا تو اپنے گھر کے کونے سے یہ غیبی آواز سنی ۔ :”تیری دعا و مناجات قبول نہیں ہم نے تجھے کئی مرتبہ آزمایا مگر ہر مرتبہ تجھے جھوٹا پایا۔” 

نوجوان کی یہ بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا :” چلو واپس چلتے ہیں۔ ” یہ کہہ کر آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جانے کے بعد اس نوجوان نے اپنی والدہ سے کہا : ” اے میری ماں !یہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے شاید یہ میری طر ف سے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ سے ناامید ہوگئے ہیں حالانکہ میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ تو گناہوں کو بخشنے والا اور خطاؤ ں سے در گزر فرمانے والاہے ۔ وہ اپنے بندوں کی تو بہ ضرور قبول فرماتا ہے۔

اے میری پیار ی ماں ! میری موت کا وقت قریب ہے۔ جب سانس اُکھڑنے لگے اور میرا جسم بے جان ہونے لگے ، میری آنکھیں بند ہوجائیں ، جسم پیلا پڑجائے ، آواز بند ہوجائے اور میری روح دا رُالفناء سے دارُالبقاء کی طر ف پرواز کرنے لگے تو میرا گربیان پکڑ کر مجھے گھسیٹنا، میرا چہرہ خاک آلودکردینا۔ پھر میرے پاک پرورد گا رعَزَّوَجَلَّ سے میرے گناہوں کی معافی طلب کرنا ۔بے شک وہ رحمن ورحیم مولیٰ عَزَّوَجَلَّ گناہوں کو بخشنے والا ہے ۔میں اس کی رحمت سے نا امید نہیں۔ اتنا کہہ کر نوجوان خاموش ہوگیا۔ اس کی بوڑھی ماں نے حسبِ وصیت اس کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا ،اس کے چہر ے پر مٹی ڈالی۔ پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس طر ح فریاد کرنے لگی :

”اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے تیری اُس رحمت کا سوال کرتی ہوں جو تو نے حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور ان کے بیٹے کو ان سے ملادیا۔ اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !تجھے اسی رحمت کا واسطہ جو تونے حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر نازل فرمائی اور ان کی آزمائش کو دور فرمادیا۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !میرے بیٹے پر بھی رحم فرما۔ اس کے گناہوں سے در گزر فرما کر اسے بھی معاف فرمادے ۔”

جب اس نوجوان کا انتقال ہوگیا تو اس کی والدہ نے ہاتفِ غیبی سے یہ آواز سنی ”تیرے بیٹے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رحم فرمایا اور اس کے تمام گناہ معاف فرما دئیے ‘ ‘ اسی طرح ایک آواز حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو سنائی دی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا :” اے ابو سعید ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نوجوان پر رحم فرماکر اس کے گناہوں کو بخش دیا، اب وہ جنتی ہے ۔” چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس نوجوان کے جنازے میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے ۔

؎ رحمت دا دریا الٰہی ہر دم وگدا تیرا

جے اک قطرہ بخشے مینوں کم بن جاوے میرا

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)