نزولِ قرآن

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ماہِ رمضان المبارک کے نام اور اس کے لئے رسول اعظمﷺ کی تیاریوں کے بارے میں آپ نے معلوم کر لیا اب آئیے نزولِ قرآن مقدس کے حوالے سے چند باتیں ملاحظہ کرتے ہیں۔

ماہِ رمضان المبارک جس طرح سے اللہ رب العزت کا بہت بڑا انعام ہے اسی طرح اس ماہ مبارک میں قرآن مقدس کا نزول بھی مومنین کے لئے بہت بڑی دولت ہے۔ لفظِ قرآن کے معنی اور اللہ عزوجل کی اس مقدس کتاب کا نام قرآن کیوں رکھا گیا ہے اسے بھی سمجھ لیں تاکہ عظمتِ قرآن مقدس دل میں بیٹھ جائے اور پھر قرآنِ مقدس کس طرح نازل ہوا؟ کتنی مدت میں نازل ہوا؟ اسے بھی سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ محبتِ قرآن مقدس دل کے نہاں خانہ میں گھر کر جائے۔

لفظِ قرآن کے معانی اور اس کی وجہِ تسمیہ: لفظِ قرآن یا تو ’’قُرْئٌ‘‘ سے بنا ہے یا ’’قِرَائَ ۃٌ‘‘ سے۔ ’’قُرْئٌ‘‘ کا معنی جمع ہونا ہے، اس معنی کے لحاظ سے ’قرآن‘ کو قرآن کہنے کہ چند وجہیں ہیں۔

٭ وہ سارے اولین و آخرین کے علوم کا مجموعہ ہے، دین و دنیا کا کوئی بھی ایسا علم نہیں جو قرآن کریم میں نہ ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’وَ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْئٍ‘‘ ہم نے تم پر ایک کتاب نازل کی جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

٭ یہ سورتوں اور آیتوں کا مجموعہ ہے۔

٭ یہ تمام بکھرے ہوئوں کو جمع کرنے والا ہے۔ دیکھو! ہندی، سندھی، عربی، عجمی لوگ، ان کے لباس، طعام، زبان، طریقِ زندگی سب الگ ہیں، کوئی صورت نہ تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بکھرے ہوئے بندے جمع ہوتے۔ لیکن قرآنِ کریم نے ان سب کو جمع فرمایا اور ان کا نام مسلمان رکھا، خود فرمایا ’’سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا۔

اور ’’قِرَائَ ۃٌ‘‘ سے بنا ہے تو اس کا معنی ہے ’پڑھی ہوئی چیز‘۔ اس معنی کے اعتبار سے بھی اس کو قرآن کہنے کہ چند صورتیں ہیں۔

٭ دیگر انبیائے کرام کو کتابیں یا صحیفے حق تعالیٰ کی طرف سے لکھے ہوئے عطا فرمائے گئے لیکن قرآن کریم پڑھا ہوا اترا، اس طرح کہ حضرت جبریل امین حاضر ہوتے اور پڑھ کر سنا جاتے۔

٭ جس قدر قرآن کریم پڑھا گیا اور پڑھا جاتا ہے اس قدر کوئی دینی و دنیوی کتاب دنیا میں نہ پڑھی گئی، کیوں کہ جو آدمی کوئی کتاب بناتا ہے وہ تھوڑے سے لوگوں کے پاس پہونچتی ہے اور وہ بھی ایک آدھ دفعہ پڑھتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح پہلی آسمانی کتابیں بھی خاص خاص جماعتوں میں اور کچھ دنوں رہ کر اولاً تو بگڑیں پھر ختم ہو گئیں۔

مگر قرآن کریم کی شان یہ ہے کہ سارے عالم کی طرف آیا اور ساری خدائی میں پہونچا۔ سب نے پڑھا، بار بار پڑھا اور دل نہ بھرا۔ اکیلے میں پڑھا، جماعتوں کے ساتھ پڑھا۔ پُر لطف بات تو یہ ہے کہ نے بھی پڑھا اور کفار نے بھی پڑھا۔

نزول کا معنی: نزول کا معنی ہے اوپر سے نیچے اترنا۔ قرآنِ مقدس دو طریقوں سے نازل ہوا، (۱)جبرئیل امین آتے تھے اور آکر سناتے تھے، یہ نزول بذریعہ قاصد ہوا۔ (۲)قرآن کریم کی بعض آیتیں معراج میں بغیر واسطۂ جبرئیل امین نبی کریم ا کو عطا کی گئیں۔ جیسا کہ مشکوٰۃ شریف باب المعراج میں ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں حضور ا کو معراج میں عطا کی گئیں۔ لہٰذا قرآن کا نزول دوسری آسمانی کتابوں کے نزول سے شاندار ہے کہ وہ لکھی ہوئی آئیں اور یہ بولا ہوا آیا اور لکھنے اور بولنے میں بڑا فرق ہے کیوں کہ بولنے کی صورت میں بولنے کے طریقے سے اتنے معانی بن جاتے ہیں کہ جو لکھنے سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ مثلاً ایک شخص نے ہم کو لکھ کر دیا ’’تم دہلی جائو گے‘‘ تو اس لکھی ہوئی عبارت سے ہم ایک ہی مطلب حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس جملے کو اگر وہ بولے تو پانچ چھ طریقوں سے بول کر اس کے پانچ چھ معانی پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے لہجوں سے بول سکتا ہے جس سے سوال، حکم، تعجب، تمسخر وغیرہ کے معانی پیدا ہو جائیں۔ (تفسیرِ نعیمی)

نزولِ قرآن کتنی بار ہوا: قرآن مقدس کا نزول چند بار ہوا، اولاً لوحِ محفوظ سے پہلے آسمان کی طرف نزول ہوا کہ یکبارگی ماہِ رمضان کی شبِ قدر میں ہوا۔ اسی کے بارے میں قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ‘‘ پھر نبی کریم ا پر تیئس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا بقدرِ ضرورت آتا رہا اور بعض آیتیں دو دو بار بھی نازل ہوئی ہیں، جیسے سورۂ فاتحہ وغیرہ۔

خلاصہ یہ ہوا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام پر قرآن کا نزول کئی طریقوں سے ہوا لیکن احکام اس نزول سے جاری فرمائے جاتے تھے جو بذریعۂ جبریل امین تھوڑا تھوڑا آتا تھا۔

قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابوں کے نزول میں فرق

قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابوں کے نزول میں تین طرح کا فرق ہے۔

٭ وہ کتابیں لکھی ہوئی آئیں اور قرآن مقدس پڑھا ہوا۔ یعنی وہ سب تحریری اور قرآن تقریری شکل میں آیا۔

٭ وہ سب کتابیں پیغمبروں کو کسی خاص جگہ بلا کر دی گئیں مگر قرآنی آیات عرب کے گلی کوچوں بلکہ حضور ﷺ  کے بستر شریف میں آئیں تاکہ حجاز کا ہر ذرہ عظمت والا ہو جائے کہ وہ قرآنِ مقدس کا جائے نزول ہے۔

٭ وہ کتابیں یکبارگی اتریں اور قرآن مقدس تیئس سال میں، تاکہ حضور ا سے ہمیشہ ہمکلامی ہوتی رہے اور مسلمانوں کے لئے عمل کرنا آسان ہو، کیوں کہ یکدم سارے احکام پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دیکھو بنی اسرائیل یکدم تورات ملنے سے گھبرا گئے اوربولے ’’سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا‘‘

تلاوتِ قرآن

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! رمضان المبارک کے ساتھ قرآنِ مجید کا جو گہرا تعلق ہے وہ کسی پر مخفی نہیں، اس کا نزول اسی ماہ میں نبی اکرم ﷺ کے قلبِ اقدس پر شروع ہوا، اس تعلق کو رسول اللہﷺ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے۔ رمضان و قرآن کا تعلق اس ارشادِ نبوی سے بھی واضح ہوجاتا ہے جو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے، روزہ کہے گا اے اللہ میں نے اسے کھانے اور خواہشات سے دن میں روکے رکھا، قرآن کہے گا میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، میں اس کی شفاعت کرتا ہوں ہماری شفاعت قبول فرما‘‘ لہٰذا ہمیں بھی قرآنِ مقدس کی تلاوت کو اپنا معمول بنانا چاہئے تاکہ قرآنِ مقدس کے فضائل و فوائد سے ہم بھی بہرہ ور ہو سکیں۔

اللہ کے پیارے رسولﷺ کا معمول: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضور نبی اکرم انہیں ہر سال رمضان المبارک میں سارا قرآن مجید سناتے اور وصال کے سال دو دفعہ قرآن مجید سنایا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا گیا کہ قرآن مقدس کی کون سی قرائت افضل ہے فرمایا عبداللہ بن مسعود کی قرائت۔

جبرئیلِ امین کے ساتھ قرآن مجید کا دور: رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کا یہ عالم تھا کہ حضرت جبرئیل امین رمضان المبارک میں سدرہ چھوڑ کر حجرۂ نبوی میں آجاتے، ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک جو حصہ قرآن نازل ہو چکا ہوتا اس کا حضور ا سے دور کرتے، یعنی جبرئیل امین آپ کو قرآن سناتے اور آپﷺ جبرئیلِ امین کو۔

اللہ و رسول ﷺ سے محبت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرے پس وہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرے۔

اللہ کے دوست: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ دوست ہوتے ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ وہ لوگ کون ہیں؟ تو فرمایا قرآن والے اہل اللہ ہیں اور خاص لوگ ہیں۔

اللہ کی رسی: قرآنِ مجید جسے کائنات کے رشد و ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اس کے تعلق سے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺا نے فرمایا اللہ کی کتاب اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف ممدود ہے۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر کوئی معرفتِ خداوندی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے قرآن مقدس کا سہارا کافی ہوگا، کیوں کہ اس حدیث میں اسے اللہ کی رسی کہا گیا ہے یعنی اس کے ذریعہ رب تک رسائی ممکن ہے۔ اسی مفہوم کی ایک اور حدیث اللہ کے پیارے حبیب ا سے منقول ہے آپﷺ نے فرمایا ’’قرآن کا ایک کنارہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے پس اس کو مضبوطی سے تھام لو بے شک اس کے بعد نہ تم ہلاک ہوگے اور نہ ہی گمراہ ہو گے۔

ان زبانوں کے لئے بھلائی: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ انے ارشا د فرمایا ’’اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَرَأَطٰہٰ وَیٰٓس قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ السَّمٰوٰ تِ وَالاَرْضَ بِاَلْفِ عَامٍ فَلَمَّا سَمِعَتِ المَلٰئِکَۃُ القُرْاٰ نَ قَالَتْ طُوْبیٰ لِاُمَّۃٍ یُّنَزَّلُ ھٰذَا عَلَیْھَا وَطُوْبیٰ لِاَجْوَافٍ تَحْمِلُ ھٰذَا وَطُوْبیٰ لِاَلْسِنَۃٍ تَتَکَلَّمُ بِھٰذَا‘‘ ترجمہ:بلاشبہ اللہ عز وجل نے آسمان وزمین کو پیدا کرنے سے ایک ہزار سال پہلے سورۂ ’’طٰہٰ و یٰسٓ‘‘ پڑھی۔ جب فرشتوں نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا اس امت کو بشارت ہو جس پر قرآن نازل ہوگا اور ان سینوں کے لئے خیر وخوبی ہو جواسے اپنے اندر محفوظ کریںگے اور ان زبانوں کے لئے خوشخبری ہو جن سے قرآنی الفاظ ادا ہوں گے۔ (احیاء العلوم)

قرآن کی شفاعت: بزاز کی روایت ہے کہ قرآن کا پڑھنے والا جب انتقال کرجاتا ہے اور اس کے اہل خانہ تجہیز وتکفین میں مصروف ہوتے ہیں اس وقت قرآن حسین وجمیل شکل میں آتا ہے اور اس قرآن پڑھنے والے کے سر کے پاس اس وقت تک کھڑا رہتاہے جب تک وہ کفن میں لپیٹ نہ دیا جائے پھر جب وہ کفن میں لپیٹ دیا جاتا ہے تو قرآن کفن کے قریب اس کے سینے پر ہوتا ہے پھر جب اس کو قبر کے اندر رکھ دیا جاتا ہے اور مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس سے اس کے خویش واقارب رخصت ہوجاتے ہیں۔تو اس کے پاس منکر نکیر آتے ہیں اور اس کو قبر میں بٹھاتے ہیں اتنے میں قرآن آتا ہے اور اس میت اور ان فرشتوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ وہ دونوں فرشتے قرآن سے کہتے ہیں ہٹو تا کہ ہم اس سے سوال کریں۔ تو قرآن کہتا ہے کہ رب کعبہ کی قسم یہ نہیں ہوسکتا۔ بلا شبہ یہ میرا ساتھی اور دوست ہے اور اس کی حمایت وحفاظت سے کسی حال میں باز نہیں آسکتا (اس کی پوری حمایت کرتا رہوں گا)اگر تمہیں کسی اور چیز کا حکم دیا گیا ہے تو تم اس حکم کی تعمیل کے لئے جائو اور میری جگہ چھوڑ دو کیونکہ میں جب تک اسے جنت میں داخل نہ کرلوں گا اس سے رخصت نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد قرآن اپنے ساتھی کی طرف دیکھے گا، اور کہے گا کہ میں قرآن ہو ں جسے تم آواز یا بلا آواز پڑھتے تھے۔ (مسند بزاز)

پڑھتا جا بڑھتا جا: قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے کی فضیلت میں ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن قاری قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھ اور سیڑھیاں چڑھتا چلا جا اور جس طرح تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا آج بھی پڑھ، تیری منزل وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔

اس سے بڑھ کر کوئی ثواب نہیں: قرآن مقدس ایسی کتاب ہے کہ اس کا دیکھنا، تلاوت کرنا، اسے یاد کرنا، اس کے معانی میں غور کرنا یہ ساری چیزیں عبادت میں شمار ہوتی ہیں، قرآن مقدس کی تلاوت کرنے پر اللہ عزوجل اتنا ثواب عطا فرماتا ہے جو ہماری عقل سے وراء ہے جیسا کہ رسول اللہ اارشاد فرماتے ہیں ’’مَنْ قَرَاَ القُرْاٰنَ ثُمَّ رَاٰی اَنَّ اَحَدًا اُوْتِیَ اَفْضَلَ مِمَّا اُوْتِیَ فَقَدِ اسْتَصْغَرَ مَا اَعْظَمَہٗ اللّٰہُ تَعَالیٰ‘‘جس نے قرآن پڑھا پھر اس نے یہ سمجھا کہ اس کو جو ثواب ملا ہے اس سے بڑھ کر کسی کو ثواب مل سکتا ہے تو اس نے یقینا اس کو معمولی سمجھا جس کو اللہ تعالیٰ نے عظیم کیا ہے۔

تاجِ کرامت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار کائنات انے فرمایا’’یَجِیُٔ صَاحِبُ القُرْاٰنِ یَوْمَ القِیَامَۃِ فَیَقُوْلُ القُرْاٰنُ یَا رَبِّ حُلَّہٗ فَیُلْبَسُ تَاجَ الکَرَامَۃِ ثُمَّ یَقُوْلُ یَارَبِّ زِدْہٗ فَیُلْبَسُ حُلَّۃَالکَرَامَۃِ ثُمَّ یَقُوْلُ یَارَبِّ اِرْضَ عَنْہُ فَیُقَالُ لَہٗ اِقْرَأ وَارْقِ وَیَزْدَادُ بِکُلِّ اٰیَۃٍ حَسَنَۃً‘‘یعنی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والا قیامت کے دن آئے گا قرآن کہے گا اے پروردگاراسے آراستہ فرمادے۔ چنانچہ اسے عزت وشرف کا تاج پہنایا جائیگا۔ پھر وہ کہے گا اے پروردگار اسے اور نوازدے اس کے بعد اسے عزت وشرف کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا اے رب اس سے راضی ہوجا۔ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے گا۔ پھرقرآنِ مقدس کی تلاوت کرنے والے سے کہا جائے گا تم قرآن پڑھتے جائو اور بلندی پر چڑھتے جائو۔ یہاں تک کہ وہ ہر آیت کے ساتھ ایک درجہ بڑھتا چلا جائے گا۔ (ترمذی)

دلوں کا ژنگ: جب دل خواہشات میں ڈوب جاتے ہیں اور طرح طرح کے گناہ کرنے لگتے ہیں اور وہ اللہ عزوجل کی یاد سے غافل ہوجاتے ہیں اور اپنا مقصد زندگی فراموش کرجاتے ہیں تو ان کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ ان پر تہہ بہ تہہ زنگ چڑھ جاتا ہے اور یہ زنگ پورے جسم کے فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ تاجدار کائنات ا نے ارشاد فرمایا ’’اِنَّ ھٰذِہِ القُلُوْبَ تَصْدَأُ کَمَا یَصْدَأُالحَدِیْدُاِذَا اَصَابَہٗ المَائُ‘‘ بیشک دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے جب اسے پانی لگ جائے۔ اب اس زنگ کو کیسے صاف کیا جائے، اپنے دل کو کیسے صیقل کیا جائے، وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعہ دل پر لگے ہوئے زنگ کو دور کیا جائے؟ صحابۂ کرام کے دلوں میں بھی اس قسم کے سوالات پیدا ہوئے تھے، انہوں نے معلمِ انسانیت ا کی بارگاہ میں عرض کیا ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا وَمَا جِلائُھَا قَالَ کَثْرَۃُ ذِکْرِ المَوْتِ وَتِلَاوَۃِ القُرْآنِ‘‘ ان کی صفائی کس طرح ہوتی ہے۔ فرمایا موت کا کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔ (مشکوٰۃ)

سماعتِ قرآن مجید

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!قوت سماعت بھی اللہ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے پاس اگر قوتِ سماعت نہ ہو تو بھلی بات بھی نہیں سنتا بلکہ اذان و قرآن جیسی مقدس آواز بھی نہیں سن سکتا۔ ایسا شخص جو قوتِ سماع سے محروم ہو وہ اپنے دل میں ہزارہا آرزوئیں لئے رہتا ہے کہ کاش اللہ مجھے سننے کی قوت عطا فرماتا تو میں بھی اچھے کلام سنتا۔ لیکن بہت سے ایسے بھی بندے ہیں جو قوتِ سماعت سے مالا مال تو ہیں لیکن ان کو اذان و قرآن و نعت کے بجائے گانے اور میوزک Music وغیرہ سے دلچسپی ہے اور وہ اپنی گاڑیوں سے لے کر دوکان و مکان سب میں گانوں اور غزلوں اور میوزکMusic ہی کو سامان تسکین سمجھتے ہیں۔

ماہِ رمضان المبارک ایسے لوگوں کو بھی قرآنِ مقدس کی تلاوت سننے پر آمادہ کر دیتا ہے اور وہ بھی قرآن مقدس تراویح میں سن کر اپنی روح کو منور کر لیتے ہیں، آئیے سماعت قرآن کی برکتیں اور قرآن سننے والوں کی کیفیت قرآن مقدس کی روشنی میں سمجھیں تاکہ سماعتِ قرآن کا جذبہ بھی پیدا ہو اور کیفیت سرور بھی۔

قرآنِ مقدس سننے والوں کے مختلف طبقے ہیں اور ہر طبقہ سماعت کا ایک طریق رکھتا ہے، اب ہم اس طبقے کا ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے فقط قرآنِ مقدس کی سماعت کو اختیار کیا اور مندرجہ ذیل آیات سے استدلال کیا۔

ارشادِ ربانی ہے ’’وَ رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً‘‘ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو

اور فرمایا’’اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ‘‘ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔

اور فرمایا ’’اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَاباً مُّتَشَابِہاً مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَ قُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ‘‘ اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے، دوہرے بیان والی اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں۔

’’لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْآنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہٗ خَاشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ‘‘ اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے۔

’’وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَائٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے۔

’’اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدٰہُمُ اللّٰہُ وَ أُولٰٓئِکَ ہُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ‘‘ جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے سماعت قرآن کو اپنے لئے اختیار فرماکر بطورِ حجت مذکورہ آیتیں پیش کیں اس کے علاوہ بھی آیات و احادیث کا ذخیرہ سماعتِ قرآن سے متعلق ہے۔

سماعتِ قرآن سے متعلق مذکورہ طبقہ نے آیات کے ساتھ ساتھ احادیث سے بھی استشہاد کیا ہے، جیسا کہ حضور رسالت مآب ا نے ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ہے ’’تلاوتِ قرآن کرو‘‘ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں کیوں کر آپ (ا) کے سامنے تلاوت کی جسارت کروں کہ آپ پر قرآن اترا ہے، حضور رحمتِ عالم ا نے فرمایا میں اپنے علاوہ دوسرے سے تلاوتِ قرآن سننا پسند کرتا ہوں۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث مبارکہ سے حضور ﷺ کی پسند کا علم ہوا کہ قرآن مقدس سننا حضور ا کو پسند ہے، تلاوت قرآن مقدس کے سننے پر حضور رحمتِ عالم ا اور صحابہ کرام علیہم الرضوان پر عجیب سی کیفیت طاری ہوتی جیسا کہ قولِ رسول خیر الانام ا ہے ’’مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی سورتوں نے، جن میں عذابِ الٰہی کا ذکر ہے بوڑھا کر دیا‘‘

اسی طرح رسولِ اعظم ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا یا رسول اللہ ا بہترین قرأت کس کی ہے؟ آپ (ا) نے فرمایا اس کی جو تلاوت کرے تو اللہ کا خوف پیدا ہو۔

نبی اکرمﷺ نے جب یہ آیت پڑھی ’’فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ‘‘ تو کیسی ہوگی جب ہر امت سے ایک گواہ لائیں، تو آپ (ا) پر جیسے غشی طاری ہوگئی، پھر آپ ا نے یہ آیت پڑھی ’’اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ‘‘ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں، تو آپ پر گریہ طاری ہوگیا۔

تاجدارِ کائنات ﷺ کا یہ شعار تھا کہ جب کوئی رحمت والی آیت پڑھتے تو دعاء کرتے اور خوش ہوتے اور عذاب والی آیت پڑھتے تو دعاء کرتے اور پناہ مانگتے۔

تلاوت کے حوالے سے جن چیزوں کا خیال رکھنے کا حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے یہ ہیں کہ تلاوت اس طرح سے ہو کہ اس سے سامع کا دل قرآن شریف کی طرف راغب ہو اور وہ منہمک ہوجائے، جیسا کہ حضور ا کے اس ارشاد سے سمجھ میں آتا ہے، رسول اعظم ا نے فرمایا ’’قرآنِ کریم کو اپنی آوازوں سے مزین کرو‘‘ اسی طرح ایک اور مقام پر سامع کے حوالے سے ارشاد فرمایا ’’ایسی قرأت کا کوئی فائدہ نہیں جس میں غور و فکر شامل نہ ہو‘‘

قرآنِ مقدس میں سامع کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں، ایک قسم کے بارے میں یوں ارشاد ہوا ’’وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ حَتّٰی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفاً‘‘ اور ان میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں، یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں، علم والوں سے کہتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا فرمایا۔

یہ تو تھے وہ لوگ جو قرآن کو اپنے کانوں سے سنتے ہیں مگر ان کے دل حاضر نہیں ہوتے، وہ لوگ جو قرآن سنتے ہیں اور ان کا دل غیر حاضر رہتا ہے، قرآن ہی نے ان کی مذمت کی ہے اور ان لوگوں سے خطاب فرمایا ’’وَ لاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ہُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ‘‘ اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے۔

اور دوسری قسم قرآن سننے والوں کی وہ ہے جن کا ذکر اس آیتِ کریمہ میں آیا، اللہ ارشاد فرماتا ہے ’’وَ اِذَا سَمِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَریٰٓ اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ‘‘ اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوئوں سے ابل رہی ہیں اس لئے کہ وہ حق کو پہچان گئے ہیں۔

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو پہلے نصرانی تھے، جب قرآنِ کریم کی آیتیں نازل ہوئیں اور انہوں نے سنا تو ان کے دل کی دنیا بدل گئی اور آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے اور انہوں نے مذہبِ اسلام کو قبول کر لیا۔ اگر ہم ایمان کے ساتھ قرآن مقدس کے سننے کے عادی ہو جائیں تو انشاء اللہ ہمارے دلوں کی دنیا بھی بدل جائے گی اور ہمارے دل میں ایمان کی وہ روشنی پیدا ہو گی ہم برائیوں سے اجتناب کر کے نیکیوں کی طرف مائل ہو جائیں گے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ آیتِ کریمہ میں دلوں کو حاضر رکھ کر قرآن شریف سننے والوں کی توصیف خود قرآن نے بیان فرمائی، رسول اعظم ا سے لے کر صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور تابعین سے لے کر آج تک کے اولیاء کرام علیہم الرضوان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں سب کے سب سماعتِ قرآن کے ساتھ دل کو حاضر رکھنے والے ہی ملیں گے، ترغیب کے لئے چند واقعات ان بزرگوں کے نقل کر رہے ہیں تاکہ ہم بھی اپنے دل کو سماعت قرآن کے وقت حاضر رکھ سکیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں ایسی سورتیں پڑھتے جن میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر یا خدا کی عظمت و جلالت کا بیان ہوتا اور ان چیزوں سے آپ اس قدر متأثر ہوتے کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی، چنانچہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ایک بار نماز پڑھ رہے تھے، جب اس آیت پر پہنچے ’’اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ مَّا لَہٗ مِنْ دَافِع‘‘ بلا شک و شبہہ تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا، اس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں تو اس قدر روئے کہ روتے روتے آنکھیں ورم کر آئیں۔

کنز الاعمال میں ہے کہ ایک نماز میں آپ نے یہ آیت پڑھی ’’وَ اِذَآ اُلْقُوْا مِنْہَا مَکَاناً ضَیِّقاً مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا ہُنَالِکَ ثُبُوْراً‘‘ اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے زنجیروں میں تو وہاں موت مانگیں گے۔

یہ آیت پڑھ کر آپ پر ایسا خوف و خشوع طاری ہوا اور آپ کی حالت اتنی غیر ہوئی کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم نہ ہوتا کہ آپ پر اس طرح کی آیتوں کا ایسا اثر ہوا کرتا ہے تو سمجھتے کہ آپ واصل بحق ہو گئے۔

اسی طرح زدہ ابن عوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی واقعہ ہے جو صحابی تھے، ایک مرتبہ امامت کر رہے تھے اور قرأت میں ایک آیت پڑھی تو وہ بے ہوش ہوگئے اور بعد میں انتقال کر گئے۔

اسی طرح ابو جہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تابعی تھے، ان کے سامنے صالح المری نے تلاوتِ قرآن کی تو وہ بے ہوش ہو کر رحلت کر گئے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!مذکورہ واقعات سے سماعتِ قرآن اور قرآن شریف کے اثرات سے متعلق آپ نے پڑھا، یہ باتیں اس لئے قلمبند کی گئیں تاکہ ماہِ رمضان المبارک میں صرف قرآنِ مقدس یوں ہی نہ سنا جائے بلکہ حضوریِ قلب کے ساتھ سننے کا جذبہ پیدا ہو اور کوشش کریں کہ جن آیتوں کو تراویح میں قاری نے تلاوت کیا ہے ان کے معانی اور مفہوم کو ترجمہ اور تفسیر میں پڑھ لیں۔ انشاء اللہ عجیب سی لذت پیدا ہوگی اور ایمان میں اضافہ ہوگا۔ حالتِ نماز میں پورے قرآن مقدس کو سننے کا موقعہ صرف اور صرف ماہِ رمضان المبارک میں ہی آتا ہے لہٰذا اس موقعہ کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ہمہ تن گوش ہو کر قرآنِ مقدس سماعت فرمائیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ا نے فرمایا جو قرآن مجید کی ایک آیت سنتا ہے اللہ عزوجل اس کے لئے اضافہ کی ہوئی نیکی لکھ دیتا ہے اور جو اس کی تلاوت کرتا ہے تو یہ آیت قیامت کے دن اس لئے نور ہوگی۔

ایک اور مقام پر قرآن مقدس کے درس کی محفل میں شریک ہونے کے حوالے سے اور اللہ کے گھر میں تلاوت کرنے کے حوالے سے رحمتِ عالم ﷺ کافرمان پڑھئے اور اپنی بے قراری کو دور کر کے سکون کی دولت سے مالا مال ہو جائیے۔

اللہ کے پیارے رسول ا نے ارشاد فرمایا جو قوم اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآنِ مجید کی تلاوت کرے اور مدارست و دور کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سکونت نازل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور ان کا احاطہ کر لیتے ہیں اور اللہ جل شانہ ان کا تذکرہ اپنے مقرب فرشتوں کے پاس کرتا ہے اور جس نے عمل کرنے میں سستی کی اس کا نسب نامہ اس کو فائدہ نہیں دے گا۔ (صحیح الجامع و مختصر مسلم)

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری