أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا‌ ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اَنۡـتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ کے دیے ہوئے حلال پاکیزہ رزق سے کھاؤ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کے دیے ہوئے حلال پاکیزہ رزق سے کھاؤ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔ (المائدہ : ٨٨) 

افضل یہ ہے کہ کبھی نفس کے جائز تقاضوں کو پورا کرے اور کبھی نہ کرے : 

ہر چند کہ اس آیت میں اللہ کے دیئے ہوئے حلال رزق سے کھانے کا ذکر ہے ‘ لیکن اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے بہرہ اندوز ہو۔ اس میں کھانے پینے کے علاوہ لباس ‘ مکان ‘ سواری اور ازدواج کی نعمتیں شامل ہیں اور بالخصوص کھانے پینے کی نعمتوں کا اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ یہ انسان کی اولین اور بنیادی ضرورت ہے۔ کھانے اور لباس میں لذائذ اور مرغوبات کے متعلق بعض علماء کا یہ نظریہ ہے کہ ان کو ترک کرنا اور ان سے اعراض کرنا افضل ہے ‘ تاکہ انسان نفسانی خواہشوں کا غلام نہ بن جائے اور بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جب اللہ نے انسان کو وسعت دی ہو تو اس کو توسع اختیار کرنا چاہیے۔ لذیذ کھانے ‘ عمدہ لباس ‘ خوبصورت مکان اور اعلی درجہ کی سواریوں سے متمتع ہونا چاہیے اور اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے۔ اور حق داروں کے حقوق کو ادا کرتا رہے ‘ تاہم توسط اور اعتدال زیادہ پسندیدہ ہے۔ کبھی مرغوبات نفسی سے حظ حاصل کرے اور کبھی نفس کے تقاضوں کو پورا نہ کرے ‘ تاکہ فقر اور غنا کے دونوں مرتبوں کا جامع ہوجائے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھر میں جو مل جاتا تھا وہ آپ کھالیتے تھے۔ کبھی گوشت اور میٹھی چیزوں کی طرح عمدہ اور لذیذ طعام تناول فرماتے اور کبھی بہت سادہ کھانا کھاتے۔ آپ نمک ‘ زیتوں کے تیل یا سرکہ کے ساتھ جو کی روٹی کھالیتے تھے۔ کبھی آپ بھوکے رہتے اور پیٹ پر دو دو پتھر باندھ لیتے اور کبھی سیر ہو کر کھانا تناول فرماتے۔ غرض آپ کی سیرت طیبہ میں تنگ دست اور خوش حال اور غنی اور فقیر سب کے لیے نمونہ ہے۔ آپ طعام سے زیادہ مشروبات کا اہتمام کرتے تھے اور آپ کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی بہت پسند تھا ‘ اور آپ ہرحال میں خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ خرچ کم کرتے تھے اور نہ فضول خرچ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ : 

(آیت) ” لینفق ذوسعۃ من سعتہ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا “۔ (الطلاق : ٧) 

ترجمہ : صاحب حیثیت کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جو تنگ دست ہو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ ہر شخص کو اس کے مطابق مکلف کرتا ہے جتنا اس کو دیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 88