يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 87

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو : تم ان پسندیدہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو ‘ جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے اور حد سے نہ بڑھو ‘ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو : تم ان پسندیدہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو ‘ جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے اور حد سے نہ بڑھو ‘ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدہ : ٨٧) 

حلال چیزوں سے اجتناب کی ممانعت : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے مسلمانو ! جن چیزوں کی طرف تمہارا دل مائل ہوتا ہے ان کی لذت حاصل کرنے سے اپنے آپ کو منع نہ کرو ‘ جس طرح عیسائیوں کے علماء اور راہبوں نے کھانے پینے کی عمدہ اور لذیذ چیزوں کو اور عورتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور بعض نے اپنے آپ کو گرجوں میں مقید کرلیا اور بعض سیاحت کرنے لگے۔ سو اے مسلمانو ! تم ان کی طرح حد سے نہ بڑھنا۔ 

اس مضمون کی قرآن مجید میں اور بھی آیات ہیں :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا کلوا من طیبات مارزقنا کم واشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون “۔ (البقرہ : ١٧٢) 

ترجمہ : اے ایمان والوان حلال چیزوں کو کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ 

(آیت) ” قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق “ (الاعراف : ٣٢) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور حلال چیزوں کو (کس نے حرام کیا ہے ؟ ) 

عبادات اور معاملات میں میانہ روی کے متعلق آیات اور احادیث : 

(آیت) ” والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قواما “۔ (الفرقان : ٦٧) 

ترجمہ : اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو یہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی سے کام لیتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا میانہ روی سے ہوتا ہے۔ 

(آیت) ” وات ذالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا “۔ (بنواسرائیل : ٢٦) 

ترجمہ : اور (اے مخاطب) رشتہ داروں کو ان کا حق ادا کرو اور مسکینوں اور مسافروں کو اور بےجا خرچ نہ کرو۔ 

(آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا “۔ (بنواسرائیل : ٢٩) 

ترجمہ : اور اپنا ہاتھ گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ ‘ اور نہ اس کو پوری طرح کھول دے کہ بیٹھا رہ ملامت زدہ ‘ تھکا ہارا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے حجروں میں تین شخص آئے (ان میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بھی تھے۔ (مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٣٧٤) اور انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق سوال کیا۔ جب انہوں نے آپ کی عبادت کے معمول کے متعلق بتایا گیا ‘ تو انہوں نے اس عبادت کو کم سمجھا اور کہا : کہاں ہم اور کہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ آپ کے تو ہر اگلے اور پچھلے (بظاہر) ذنب کی مغفرت کردی گئی ہے۔ (مغفرت سے مراد آپ کے درجات کی بلندی ہے) تو ان میں سے ایک نے کہا میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا اور دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی افطار نہیں کروں گا اور تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا تم وہ لوگ ہو ‘ جنہوں نے اس اس طرح کہا ہے۔ سنو بہ خدا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں ‘ لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں ‘ سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٥٠٦٣‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ١٠٣٧٤) 

حضرت ابو جحیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء (رض) کو آپس میں بھائی بنایا۔ ایک حضرت سلمان ‘ حضرت ابوالدرداء سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت ام الدرداء (رض) کو پھٹے پرانے کپڑے پہنے دیکھا ‘ انہوں نے کہا یہ آپ نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا آپ کے بھائی ابو الدرداء کو دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جب حضرت ابو الدرداء آئے تو انہوں نے ان کے لیے کھانا تیار کیا ‘ حضرت سلمان نے کہا آپ بھی کھائیے۔ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں۔ حضرت سلمان (رض) نے کہا جب تک آپ کھانا نہیں کھائیں گے ‘ میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ پھر حضرت ابوالدرداء نے کھانا کھایا ‘ جب رات ہوئی تو حضرت ابوالدرداء نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضرت سلمان نے کہا سو جائیں ‘ وہ سو گئے ‘ پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے پھر کہا۔ سو جائیں ‘ جب رات کا آخری حصہ رہ گیا تو حضرت سلمان نے کہا اب کھڑے ہوں۔ پھر دونوں نے نماز (تہجد) پڑھی ‘ پھر حضرت سلمان (رض) نے کہا آپ کے رب کا آپ پر حق ہے اور آپ کے نفس کا آپ پر حق ہے اور آپ کے اہل (بیوی) کا آپ پر حق ہے ‘ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کریں۔ حضرت ابوالدرداء نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا ‘ آپ نے فرمایا سلمان نے سچ کہا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٦٨‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢١‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٤‘ ص ٢٧٦) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چند نفوس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج سے خلوت میں آپ کی عبادت کے متعلق سوال کیا۔ پھر بعض اصحاب نے کہا میں کبھی نکاح نہیں کروں گا اور بعض نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔ بعض نے کہا میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ آپ نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا فلاں فلاں لوگوں کا کیا حال ہے ؟ جو اس اس طرح کہتے ہیں ‘ لیکن میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ‘ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں ‘ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ سو جس نے میری سنت سے (بطور ناپسندیدگی) اعراض کیا ‘ وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔ (صحیح مسلم ‘ نکاح ٥ (١٤٠١) ٣٣٤٣‘ سنن النسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٣٢١٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن مظعون (رض) کو نکاح نہ کرنے کی اجازت نہیں دی ‘ اگر آپ ان کو اجازت دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٧٣‘ صحیح مسلم ‘ نکاح ‘ ٦‘ (١٤٠٢) ٣٣٤٤‘ سنن ترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٨٤‘ سنن النسائی ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢١٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٤٨‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ١٧٥‘ طبع قدیم ‘ مصنف عبدالرزاق ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٣٧٥) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ خویلہ بنت حکیم جو حضرت عثمان بن مظعون کے نکاح میں تھیں ‘ وہ میرے پاس آئیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ابتر حال میں دیکھا ‘ آپ نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! خویلہ کس قدر ابتر حال میں ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس عورت کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہوں اور ساری رات نماز پڑھتا ہوں ‘ وہ اس عورت کی طرح ہے جس کا کوئی خاوند نہ ہو۔ سو اس نے اپنے آپ کو ضائع کرنے کے لیے چھوڑ دیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن مظعون کو بلوایا۔ جب حضرت عثمان بن مظعون آئے تو آپ نے فرمایا اے عثمان ! کیا تم میری سنت سے اعراض کرنے والے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں ! بخدایا یا رسول اللہ لیکن میں آپ کی سنت کو طلب کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں ‘ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں ‘ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان ! اللہ سے ڈرو ‘ کیونکہ تمہارے اہل (بیوی) کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔ سو تم روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی ‘ اور نماز بھی پڑھو اور سوؤبھی۔ (علامہ احمد شاکر ‘ متوفی ١٣٧٧ ھ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ ج ١٨ رقم الحدیث : ٢٦١٨٦‘ طبع دارالحدیث قاہرہ ‘ سمند احمد ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث : ٢٦٣٦٨‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ ص ٢٦٨‘ طبع قدیم ‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٦٩‘ سنن دارمی ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٦٩‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٣٧٥‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩‘ موارد الظمان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٨٨‘ مسند البزار ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٥٨۔ ١٤٥٧‘ اس کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ‘ ج ٤‘ ص ٣٠١‘ طبع قدیم ‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣١٩‘ مسند ابو یعلی ‘ ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٤٢) 

مسند ابو یعلی میں یہ روایت اس طرح ہے حضرت عثمان بن مظعون (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو آپ نے فرمایا اے عثمان ‘ کیا تمہارے لیے میری سیرت میں نمونہ نہیں ہے ! انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اس ارشاد کا کیا سبب ہے ؟ آپ نے فرمایا تم رات بھر نماز پڑھتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو ‘ حالانکہ تمہارے اہل (زوجہ) کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ‘ تم نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی اور روزہ بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد ان کی بیوی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کے پاس اس طرح خوشبو میں بسی ہوئی آئیں کہ وہ دلہن ہوں ازواج نے ان سے پوچھا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا وہی ہوا جس طرح وہ عورتیں ہوتی ہیں جن کی طرف ان کے خاوند رغبت کرتے ہیں۔ 

اور مصنف عبدالرزاق ‘ سنن دارمی ‘ صحیح ابن حبان اور المعجم الکبیر میں یہ روایت اس طرح ہے : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان بن مظعون سے ملے اور آپ نے فرمایا اے عثمان ! ہم پر رہبانیت فرض نہیں کی گئی کیا تمہارے لیے میری سیرت میں اچھا نمونہ نہیں ہے ؟ میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی حدود کی حفاظت کرنے والا ہوں۔ 

امام ابوجعفر محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض صحابہ نے یہ ارادہ کیا کہ دنیا کو ترک کردیں اور عورتوں کو چھوڑ دیں اور راہب ہوجائیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ناراض ہو کر فرمایا تم سے پہلے لوگ صرف (دین میں) سختی کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سختی کی ‘ ان کے بچے کھچے لوگ مندروں اور گرجوں میں ہیں۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ حج کرو اور عمرہ کرو ‘ تم سیدھے رہو تو تمہارے لیے استقامت ہوگی ‘ اور ان ہی لوگوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : 

اے ایمان والو ! تم ان پسندیدہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے۔ 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ان صحابہ کے متعلق نازل ہوئی ہے جنہوں نے ارادہ کیا تھا کہ اچھے کپڑے اتار دیں ‘ عورتوں کو چھوڑ دیں اور زاہد بن جائیں ان میں حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) تھے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٣‘ مطبوعہ ١٤١٥ ھ) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے ‘ پھر واپس چلے آئے۔ پھر ایک سال کے بعددوبارہ آپ سے ملنے گئے ‘ اس وقت ان کا جسم کمزوری کی وجہ سے بہت متغیر ہوچکا تھا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہاں فلاں باہلی ہوں جو ایک سال پہلے آپ سے ملنے آیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کس وجہ سے اس قدر بدل گئے ہو تم تو بہت خوبصورت تھے ؟ انہوں نے کہا میں جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں ‘ میں کبھی دن کو کھانا نہیں کھایا ‘ صرف رات کو کھانا کھایا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے اپنے نفس کو کیوں عذاب میں ڈالا ؟ پھر آپ نے فرمایا رمضان کے روزے رکھا کرو اور ہر مہینہ میں ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ انہوں نے کہا زیادہ کریں مجھ میں اس کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا ہر ماہ دو روزے رکھ لو ‘ انہوں نے پھر کہا زیادہ کریں ‘ آپ نے فرمایا ہر ماہ تین روزے رکھ لو۔ انہوں نے پھر کہا زیادہ کریں۔ فرمایا حرم کے مہینہ میں روزہ رکھو۔ پھر چھوڑ دو ‘ حرم کے مہینہ میں روزہ رکھو پھر چھوڑ دو ‘ حرم کے مہینہ میں روزہ رکھو پھر چھوڑ دو ۔ آپ نے تین انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا ‘ پھر چھوڑ دیا۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ حرم کے مہینہ میں تین مسلسل روزے رکھو ‘ پھر تین دن چھوڑ دو ‘ اور اس طرح تین بار کرو۔ یعنی صرف حرم کے مہینہ میں نونفلی روزے رکھنے کی اجازت دی۔ (حرم کے مہینہ سے مراد ایام حج کے مہینے ہیں) (سنن ابوداؤد ‘ ج ٢ رقم الحدیث ٢٤٢٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ‘ اس وقت ان کے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے کہا یہ فلاں عورت ہے ‘ اس کی نمازوں کا بڑا چرچا ہے۔ آپ نے فرمایا چھوڑو ‘ اتنا عمل کرو جو ہمیشہ کرسکو ‘ بخدا اللہ اس وقت تک نہیں اکتاتا جب تم نہ اکتاؤ‘ اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر بندہ ہمیشگی کرے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣‘ صحیح مسلم ‘ مسافرین ‘ ٢٢١‘ (٧٨٥) ١٨٠٣‘ سنن النسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٤١‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٥٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٣٨‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢٩٩‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ ص ٥١‘ طبع قدیم ‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہوئے تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے ؟ تو بتایا یہ زینب کی رسی ہے جب وہ (نماز میں) تھک جاتی ہیں تو اس رسی کے سہارے کھڑی ہوجاتی ہیں۔ نبی کریم فرمایا نہیں اس کو کھول دو ‘ تم میں سے کوئی شخص جب تک خوشی سے نماز پڑھ سکتا ہے ‘ پڑھے اور جب تھک جائے ‘ تو بیٹھ جائے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١١٥٠‘ سنن النسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ١٦٤٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے ‘ اچانک ایک شخص کو (دھوپ میں) کھڑے ہوئے دیکھا ‘ آپ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ صحابہ نے کہا یہ ابو اسرائیل ہے۔ اس نے نذر مانی ہے کہ یہ کھڑا رہے گا ‘ بیٹھے گا نہیں ‘ نہ سایہ میں آئے گا اور نہ کسی سے بات کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے کہو کہ بات کرے ‘ سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٠٤‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٠٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ : ٢١٣٦‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٠٢٩‘ مسنداحمد ‘ ج ٤‘ ص ١٦٨‘ طبع قدیم) 

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق فتوی معلوم کروں ‘ میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ حج کو جائے اور سوار ہو۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اس کے پیدل چلنے سے مستغنی ہے ‘ اس سے کہو سوار ہو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٦٦‘ صحیح مسلم ‘ نذر ‘ ١١‘ (١٦٤٤) ٤١٧٢‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٤١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٩٩‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨١٤) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا ‘ ایک بوڑھا شخص جو چل نہیں سکتا تھا ‘ اسے اس کے دو بیٹے پکڑ کر چلا رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ صحابہ نے کہا اس نے پیدل حج کرنے کہ کی نذر مانی تھی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے مستغنی ہے کہ یہ اپنے نفس کو عذاب دے اور اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٦٥‘ صحیح مسلم ‘ نذر ٩ ‘(١٦٤٢) ٤١٦٩‘ سنن ابو داؤد ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٠١‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٤٢‘ سنن نسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٦٢‘ ٣٨٦١‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٢١٢٨‘ مسند ابو یعلی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٣٢‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٣‘ ابن الجارود ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٣٩‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ٧٨) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک لشکر میں گئے ‘ ایک شخص ایک غار میں گیا جس میں پینے کے لیے پانی بھی تھا ‘ اس شخص کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ اس غار میں رہے تو اس میں پانی بھی ہے اور اس کے اردگرد سبزیاں بھی ہیں ‘ وہ دنیا کے بکھیڑوں سے آزاد ہو کر اس غار میں رہ کر زندگی بسر کرسکتا ہے۔ پھر اس نے سوچا کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس کا ذکر کروں۔ اگر آپ نے اجازت دے دی ‘ تو میں اس غار میں رہوں گا ‘ ورنہ نہیں رہوں گا۔ اس نے آپ سے عرض کیا یا نبی اللہ ! میں ایک غار کے پاس سے گزرا اس میں زندگی بسر کرنے کے لیے پانی بھی ہے اور سبزیاں بھی ہیں ‘ میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس غار میں رہوں اور دنیا کے بکھیڑوں سے آزاد ہوجاؤں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں یہودیت اور نصرانیت کے ساتھ نہیں مبعوث کیا گیا ‘ میں ملت حنیفہ کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ‘ جو بہت آسان ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اللہ کی راہ میں ایک صبح کرنا یا ایک شام گزارنا ‘ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے ‘ اور تم میں سے کسی ایک شخص کا جہاد کے لیے صف میں کھڑے ہونا اس کی (تنہا) ساٹھ سال کی نمازوں سے بہتر ہے۔ (علامہ احمد شاکر متوفی ١٣٧٧ ھ نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے۔ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢١٩٢‘ طبع ‘ دارالحدیث :‘ قاہرہ۔ مسنداحمد ‘ ج ٥‘ ص ٢٦٦‘ طبع قدیم المعجم الکبیر للطبرانی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٨٦٨‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٥‘ ص ٢٧٩) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ دین آسان ہے جو شخص اس دین کو مشکل بنانے کی کوشش کرے گا ‘ دین اس پر غالب آجائے گا۔ (الحدیث) (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم آسمانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو ‘ مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٢٢٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : 

(آیت) ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر “۔ (البقرہ : ١٨٥) 

ترجمہ : اللہ تمہارے لیے آسانی کا ارادہ فرماتا ہے ‘ تم کو مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا۔ 

اسلام معتدل ‘ سہل اور دین فطرت ہے : 

ان آیات اور احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ‘ وہ توسط اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے اور اس میں افراط اور تفریط ممنوع اور مذموم ہے ‘ اسی طرح اسلام میں سخت اور مشکل عبادات مطلوب نہیں ہیں ‘ بلکہ اسلامی احکام میں ‘ نرمی ملائمت ‘ سہولت اور آسانی مرغوب ہے۔ اسلام کا کوئی حکم خلاف فطرت نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے ہم رہبانیت نہیں ہے۔ (العال المتناھیہ ‘ ج ٢‘ ١٥٢) 

اور آپ نے فرمایا اے عثمان ! ہم پر رہبانیت فرض نہیں کی گئی۔ (مصنف عبدالرزاق ‘ ج ‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٣٧٥‘ سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٦٩) اسلام میں ترک لذائذ ‘ سخت ریاضات اور عبادات شاقہ ممنوعہ ہیں “ مصنوعی زاہدوں اور جعلی صوفیوں نے جو خود ساختہ شریعت وضع کرلی ہے اس کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 

نیکی اور فضیلت فضیلت حاصل کرنے کا اصل اور صحیح طریقہ وہ ہے جس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمل کیا اور جو راستہ ہمارے لیے مقرر کیا اور جس طریقہ پر صحابہ کرام گامزن رہے اور اخیار تابعین نے جس کو اپنایا۔ 

حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو بہت بلیغ نصیحت کی ‘ جس سے ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ہمارے دل خوف زدہ ہوگئے۔ آپ نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور امیر کا حکم سننے اور اس پر عمل کرنے کی “ خواہ وہ حبشی غلام ہو ‘ کیونکہ جو شخص تم میں سے زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا ‘ اور تم بدعات (سیئہ) سے بچتے رہنا کیونکہ وہ گمراہی ہیں ‘ تم میں سے جو شخص اس اختلاف کو پائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ میری سنت پر عمل کرے اور خلفاء راشدین مھدیین کی سنت پر عمل کرے اور اس کو داڑھوں سے پکڑ لے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٥‘ سنن ابو داؤد “ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٠٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢‘ سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩٥‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٧١٤٥) 

سنن ترمذی کے علاوہ باقی کتب حدیث میں اس طرح مذکور ہے ‘ کیونکہ تم میں سے جو شخص میرے بعدزندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا ‘ سو تم پر لازم ہے کہ میری سنت پر عمل کرو ‘ اور خلفاء راشدین مھدیین کی سنت پر عمل کرو ‘ اور اس کو داڑھوں سے پکڑ لو۔ 

آیا حلال کو حرام کرنا قسم ہے یا نہیں ؟ 

زیر بحث آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اے ایمان والو ! تم ان چیزوں کو حرام قرار نہ دو ‘ جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے ‘ اور حد سے سے نہ بڑھو ‘ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدہ : ٨٧) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کو حرام کرنے کے متعلق یہ نہیں ہے ‘ اور نہ اس پر کفارہ لازم آتا ہے۔ اس کے برخلاف امام ابو حنفیہ اور امام احمد کے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے اور اس پر کفارہ لازم آتا ہے۔ 

امام مالک کے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے یا نہیں ؟ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جو شخص اپنے نفس پر طعام کو یا مشروب کو یا اپنی باندی کو حرام کرلے ‘ یا کسی بھی حلال چیز کو حرام کرلیے وہ اس پر حرام نہیں ہوگی ‘ اور نہ امام مالک کے نزدیک اس پر ان میں سے کسی چیز کے حرام کرنے کی وجہ سے کفارہ ہے۔ ہاں اگر وہ باندی کو حرام کر کے اس کو آزاد کرنے کی نیت کرے تو وہ آزاد ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے تو اس پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مباح کردیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے ‘ خواہ صراحتا خواہ کنایتا اور حرام کرنا کنایتا طلاق میں سے ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ نے یہ کہا ہے کہ جو شخص کسی چیز کو حرام کرے گا وہ چیز اس پر حرام ہوجائے گی اور جب وہ اس چیز کو تناول کرے گا تو اس پر کفارہ لازم آئے گا اور یہ آیت اس پر رد کرتی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ١٩٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ قرطبی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے ‘ یہ آیت امام ابوحنیفہ کے اس وقت خلاف ہوتی جب اس میں یہ مذکور ہوتا کہ حلال کو حرام کرنا قسم نہیں ہے ‘ یا اس میں کفارہ نہیں ہے ‘ کفارہ کا ذکر نہ کرنا عدم کفارہ کے ذکر کو کب مستلزم ہے ؟ 

امام شافعی کے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے یا نہیں ! 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تم مجھ پر حرام ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے ‘ امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر وہ اس قول سے طلاق کی نیت کرے تو یہ طلاق ہے ‘ اور اگر اس سے ظہار کی نیت کرے تو یہ ظہار ہے ‘ اور اگر طلاق اور ظہار کے بغیر یہ نیت کرے تو وہ بعینہ اس پر حرام ہے تو یہ قسم نہیں ہے لیکن اس پر قسم کا کفارہ دینا لازم ہے ‘ اور اگر اس نے بغیر نیت کے یہ الفاظ کہے تو اس میں امام شافعی کے دو قول ہیں زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں کفارہ قسم لازم ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ کلام لغو ہے اور اس پر کوئی حکم مرتب نہیں ہوتا ‘ یہ ہمارا مذہب ہے۔ (صحیح مسلم مع شرحہ للنووی ‘ ج ٦ ص ٤٠٠٦‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

نیز علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : 

امام مالک ‘ امام شافعی اور جمہور کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ طعام مجھ پر حرام ہے ‘ یا یہ پانی ‘ یا یہ، کپڑا ‘ یا گھر میں داخل ہونا ‘ یازید سے بات کرنا ‘ اور بیوی اور باندی کے علاوہ باقی چیزوں میں سے کسی بھی چیز کے متعلق یہ کہے یہ مجھ پر حرام ہے تو یہ کلام لغو ہوگا اس پر کوئی حکم مترتب نہیں ہوگا ‘ اور نہ وہ چیز اس پر حرام ہوگی ‘ اور جب وہ اس چیز کو تناول کرے گا تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔ (صحیح مسلم مع شرحہ للنووی ‘ ج ٦ ص ٤٠٠٨۔ ٤٠٠٧‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

امام احمد کے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے یا نہیں ؟ 

علامہ موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

اگر کسی شخص نے کہا اگر میں نے فلاں کام کیا تو اللہ نے جو مجھ پر حلال کیا ہے وہ حرام ہے۔ پھر اس نے اس کام کو کرلیا تو اس کو اختیار ہے یا تو جن چیزوں کو اس نے اپنے نفس پر حرام کیا ہے ان کو ترک کر دے یا چاہے تو کفارہ دے۔ حضرت ابن مسعود حسن بصری ‘ جابر بن زید ‘ قتادہ ‘ اسحاق اور اہل عراق کا یہی مسلک ہے۔ اور سعید بن جبیر (رض) نے کہا جس شخص نے کہا حلال مجھ پر حرام ہے ‘ یہ قسم ہے اور وہ اس کا کفارہ دے گا۔ اور حسن نے کہا یہ قسم ہے ماسوا اس صورت کے کہ وہ اس سے اپنی بیوی کی طلاق کا ارادہ کرے ‘ ابراہیم نخعی سے بھی اس کی مثل مروی ہے ‘ اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ اگر اس نے طلاق کی نیت کی ہے تو درست ہے ‘ ورنہ یہ قول لغو ہے۔ ضحاک سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) سے یہ روایت ہے کہ حرام قسم ہے اور طاؤس نے کہا یہ اس کی نیت پر موقوف ہے۔ امام مالک اور امام شافعی نے کہا حرام قسم نہیں ہے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے ‘ کیونکہ حلال کو حرام کرنا شریعت کو بدلنے کا قصد کرنا ہے ‘ اس لیے اس کا قصد لغو ہے۔ ہماری دلیل یہ آیت ہے یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک “۔ (الح) (التحریم : ١٠٢) اللہ تعالیٰ نے حلال کو حرام کرنے پر اللہ تعالیٰ نے قسم کا اطلاق فرمایا ہے اور اس قسم سے نکلنے کے لیے کفارہ کو مشروع فرمایا ہے۔ جیسا کہ شہد یا حضرت ماریہ کی تحریم کا واقعہ کتب احادیث میں مذکور ہے اور حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حلال کو حرام کرنے پر قسم کا اطلاق فرمایا ہے۔ (المغنی ‘ ج ٩‘ ص ٤٠٢۔ ٤٠١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥) 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے یا نہیں ؟ 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک حلال کو حرام کرنا قسم ہے اور اس پر کفارہ لازم آتا ہے ‘ ان کا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے : 

(آیت) ” یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم، قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “۔ (التحریم : ١٠٢) 

ترجمہ : اے نبی آپ (اپنے اوپر) اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے ؟ آپ اپنی بیویوں کی رضا جوئی کرتے ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (اے ایمان والو ! ) بیشک اللہ نے تمہاری قسموں کا کھولنا مقرر فرما دیا ہے۔ (یعنی کفارہ) 

اس آیت کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت زینب بن جحش (رض) کے پاس ٹھہرا کرتے تھے ‘ وہ آپ کو شہد پلاتی تھیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں پھر میں نے اور حضرت حفصہ نے اتفاق کیا کہ جس کے پاس بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں وہ یہ کہے کہ آپ سے مغافیر کی بو آتی ہے ‘ کیا آپ نے مغافیر (ایک قسم کا گوند) کھایا ہے ؟ آپ ان دونوں میں سے کسی ایک (حضرت حفصہ) کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے یہی کہا۔ آپ نے فرمایا بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پایا ہے ‘ اور میں اس کو دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لم تحرم ما احل اللہ لک “۔ الخ (التحریم ١٠٢) (صحیح البخاری ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ طلاق ‘ ٢٠ (١٤٧٤) ٣٦١٤‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧١٤‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٩٥‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٢١) 

قرآن مجید کی مذکور الصدر آیت سے یہ واضح ہوگیا کہ حلال کو حرام کرنے پر اللہ تعالیٰ نے قسم کا اطلاق فرمایا ہے اور اس قسم کی بندش کو کھولنے کے لیے کفارہ مقرر فرمایا ہے ‘ بعض روایات میں مذکور ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی باندی حضرت ماریہ قبطیہ کو اپنے نفس پر حرام فرمایا تھا۔ 

امام سعید بن منصور خراسانی متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ ام المومنین ایک دن اپنے والد کی زیارت کے لیے گئیں اور اس دن حضور کی ان کے گھر میں باری تھی ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر آئے تو آپ نے ان کو گھر میں نہیں دیکھا ‘ تب آپ نے اپنی باندی حضرت ماری قبطیہ کو بلا لیا اور حضرت حفصہ کے حجرہ میں ان سے اپنی خواہش پوری کی اور اسی حالت میں حضرت حفصہ آپہنچیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! آپ میرے گھر میں اور میری باری میں یہ عمل کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ مجھ پر حرام ہے اور مت یہ کسی کو نہ بتانا ‘ حضرت حفصہ حضرت عائشہ کے پاس گئیں اور ان کو یہ واقعہ بتایا۔ تب سورة تحریم کی ایک تا چار آیتیں نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ قسم کا کفارہ دیں اور اپنی باندی سے رجوع کریں۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٧‘ جامع البیان ‘ جز ٢٨‘ ص ٢٠١۔ ٢٠٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧‘ ص ٣٥٣) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حرام کرنا قسم ہے اس کا کفارہ ادا کرے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی سیرت) میں اچھا نمونہ ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩١١۔ ٥٢٦٦‘ صحیح مسلم طلاق ‘ ١٨‘ (١٤٧٣) ٣٦١٢‘ سنن ابن ماجہ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٧٣) 

امام سعید بن منصور خراسانی متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

یونس بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری سے سوال کیا گیا ایک شخص نے کہا حلال مجھ پر حرام ہے۔ انہوں نے کہا جب تک وہ اس سے اپنی بیوی کی نیت نہ کرے اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن کبری ج ٧‘ ص ٣٥١) 

عطاء نے کہا جب کوئی جب کوئی شخص یہ کہے کہ اس پر ہر حلال حرام ہے تو یہ قسم ہے وہ اس کا کفارہ دے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩٢) 

حضرت سعید بن جبیر ‘ نے کہا جب کوئی شخص یہ کہے کہ حلال اس پر حرام ہے تو یہ قسم ہے وہ اس کا کفارہ دے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩٢) 

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا حرام کرنے قسم ہے (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩٣) 

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا حرام ہے قسم ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩٥) 

ابراہیم نخعی نے کہا جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو مجھ پر حرام ہے ‘ اگر اس نے اس قول سے تین طلاق کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوں گی اور ایک طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی اور اگر کوئی نیت نہیں کی تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٩٩) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا حرام قسم ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٤) 

ابراہیم نخعی اور عبیدہ نے کہا جس شخص نے اپنی باندی سے کہا تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٥) 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کے لئے قسم کھائی کہ آپ اپنی باندی سے مقاربت نہیں کریں گے اور فرمایا یہ مجھ پر حرام ہے ‘ تب آپ کی قسم کے لئے کفارہ نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا کہ آپ کے لئے جو چیز اللہ نے حلال کی ہے آپ اس کو حرام نہ کریں۔ (سنن سعید بن منصور ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٠٨‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧‘ ص ٣٥٣) 

(مذکور الصدر احادیث اور آثار مصنف عبدالرزاق ج ٦‘ ص ٤٠٢۔ ٣٩٩‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٥‘ ص ٧٥۔ ٧٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧‘ ص ٣٥٣۔ ٣٥٠‘ اور جامع البیان ‘ جز ٢٨‘ ص ٢٠١۔ ١٩٨‘ میں بھی مذکور ہیں اور ان احادیث اور آثار میں اس پر صریح دلیل ہے کہ حلال کو حرام کرنا قسم ہے اور اس پر کفارہ لازم ہے) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جس شخص نے اپنے نفس پر کسی ایسی چیز کو حرام کردیا جس کا وہ مالک نہیں ہے ‘ مثلا کہا : مجھ پر یہ کپڑا یا یہ کھانا حرام ہے تو اس پر وہ چیز حرام نہیں ہوگی اور اس کے لیے اس کو تناول کرنا جائز ہے ‘ اور اگر اس نے وہ کپڑا پہن لیا یا وہ کھانا کھالیا تو اس پر کفارہ قسم ہے۔ امام شافعی نے کہا اس پر کفارہ نہیں ہے ‘ کیونکہ بیوی اور باندی کے ماسوا میں یہ قسم نہیں ہے اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ (یہ علامہ عینی کا تسامح ہے ‘ امام احمد کا قول امام اعظم کے موافق ہے ‘ جیسا کہ علامہ ابن قدامہ حنبلی سے نقل کرچکے ہیں۔ سعیدی غفرلہ) اور امام مالک نے کہا جس شخص نے بیوی کے سوا اپنے نفس پر کسی چیز کو حرام کیا تو یہ قسم نہیں ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں آتا ‘ کیونکہ حلال کو حرام کرنا شریعت کو بدلنا ہے۔ لہذا اس سے ایک شرعی عقد (قسم) منعقد نہیں ہوگا ‘ ہم کہتے ہیں کہ یہ لفظ حرمت ثابت کرنے کی خبر دیتا ہے ‘ ہرچند کہ اس سے بعینہ حرمت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ وہ تو نص قرآن سے ثابت ہوتی ہے لیکن اس سے حرمت لغیرہ ثابت ہوسکتی ہے جو کہ قسم کا تقاضا ہے تو جب ایک عاقل بالغ کے کلام کو صحت پر محمول کرنا ممکن ہے تو اس کلام کو صحت پر محمول کیا جائے گا ‘ اور اس سے قسم مراد لی جائے گی اور اس کلام کو لغو نہیں قرار دیا جائے گا اور قسم توڑنے سے قسم مراد لی جائے گی اور اس کلام کو لغو نہیں قرار دیا جائے گا اور قسم توڑنے سے اس پر کفارہ لازم ہوگا ‘ اور قرآن مجید کی سورة تحریم کی آیت ٢۔ ١‘ سے صراحتا ثابت ہے کہ حلال کو حرام کرنا قسم ہے اور اس پر کفارہ لازم ہے اور صریح آیت کے مقابلہ میں آراء کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (البنایہ شرح الھدایہ ‘ ج ٦‘ ص ٤٠۔ ٣٩‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ ‘ فتح القدیر ‘ ج ٥‘ ص ٨٥۔ ٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

بیوی سے کہا ” تو مجھ پر حرام ہے “ اس میں مفتی بہ قول “۔ 

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ ” تو مجھ پر حرام ہے “ تو اس کے متعلق امام اعظم کا مذہب بیان کرتے ہوئے علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں : 

اگر اس نے اس قول سے طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن واقع ہوجائے گی ‘ اور اگر تین طلاقوں کی نیت کی تو طلاقیں ہوں گی اور اگر دو طلاقوں کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی اور اگر کچھ نیت نہیں کی تو یہ قسم ہے اور اگر اس نے جھوٹ کی نیت کی تو یہ کلام لغو ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور اس کے اصحاب کا مذہب ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٩‘ ص ٢٤٨‘ صحیح مسلم مع شرحہ للنووی ‘ ج ٦‘ ص ٤٠٠٧) 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے تو اگر اس نے تحریم کی نیت کی یا کوئی نیت کی یا کوئی نیت نہیں کی ‘ تو یہ ایلاء ہے (ایلاء) یہ ایک شخص یہ قسم کھائے کہ وہ چار ماہ تک اپنی بیوی سے مقاربت نہیں کرے گا۔ اگر اس نے قسم پوری کی تو چار ماہ بعد اس کی بیوی پر طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اگر قسم توڑ دی تو اس کو کفارہ قسم دینا ہوگا۔ سعیدی غفرلہ) اور اگر اس نے ظہار کی نیت کی تو یہ ظہار ہے ‘ اور اگر اس نے جھوٹ کی نیت کی ہے تو یہ کلام لغو ہے۔ یہ حکم دیانتہ ہے اور قضاء یہ ایلاء ہے۔ (یعنی اس کے جھوٹ کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ‘ اس لیے یہ ایلاء پر محمول کیا جائے گا) 

(درمختار علی رد المختار ج ٢ ص ٥٥٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

کتاب الایمان میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے کہا ہر حلال مجھ پر حرام ہے تو یہ قول کھانے پینے پر محمول ہے اور فتوی اس پر ہے کہ بغیر نیت کے اس کی بیوی پر طلاق بائنہ پڑجائے گی۔ ہدایہ میں مذکور ہے کہ عرف کی وجہ سے یہ قول کھانے پینے پر محمول ہے ‘ اگر اس نے کھایا یا پیا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی ‘ اور بغیر نیت کے اس کا یہ قول اس کی بیوی کو شامل نہیں ہوگا اور اگر وہ نیت کرلے تو پھر یہ ایلاء ہے۔ یہ جواب ظاہر الروایہ کے مطابق ہے۔ پھر مشائخ متاخرین کا مختار یہ ہے کہ بغیر نیت کے اس کی بیوی پر طلاق بائنہ پڑجائے گی۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ متن میں جو مذکور ہے کہ اس نے عورت کے حرام ہونے کی نیت کی یا کوئی نیت نہیں کی تو یہ ایلاء ہے ‘ اور اگر اس نے ظہار کی نیت کی تو یہ ظہار ہے ‘ اور اگر اس نے جھوٹ کی نیت کی تو یہ کلام لغو ہے ‘ یہ اس صورت میں ہے جب اس نے بالخصوص بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے ‘ اس کے برخلاف جب اس نے عام لفظ بولا مثلا اللہ کا ہر حلال مجھ پر حرام ہے تو یہ قول عرف کی بنا پر کھانے پین کے ساتھ خاص ہے ‘ اور یہ کلام بیوی کو اس وقت شامل ہوگا جب وہ اس کلام سے بیوی کی نیت کرے ‘ اور فتوی متاخرین کے قول پر ہے کہ وہ عام لفظ بولے (مثلا ہر حلال مجھ پر حرام ہے) یا خاص لفظ بولے (مثلا بیوی سے کہے تو مجھ پر حرام ہے) ہر صورت میں اس کی بیوی پر طلاق بائن پڑجائے گی۔ (کیونکہ یہ نیا عرف ہے ‘ لوگ طلاق دینے کے لیے یہ کہتے ہیں) اس کے بعد علامہ شامی لکھتے ہیں : 

خلاصہ یہ ہے کہ اس قول (تو مجھ پر حرام ہے) میں دو عرف ہیں۔ ایک عرف اصلی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ قول ایلاء کے معنی میں قسم ہے اور دوسرا عرف نیا ہے اور وہ اس قول سے طلاق کا ارادہ ہے اور فتوی نئے عرف پر ہے کیونکہ ہر عقد کرنے والے اور قسم کھانے والے کے کلام کو اس کے عرف پر محمول کیا جاتا ہے ‘ خواہ وہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہو، جیسا کہ فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم اور مفتی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ظاہر الروایہ پر فیصلہ کرے یا فتوی دے ‘ اور عرف کو ترک کردے ‘ اس لیے صحیح یہی ہے کہ اس قول کو طلاق پر محمول کیا جائے گا ‘ کیونکہ یہی عرف حادث اور مفتی بہ ہے۔ لہذا اس قول سے بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی ‘ خواہ کلام عام ہو ‘ مثلا ہر حلال مجھ پر حرام ہے ‘ یا کلام خاص ہو مثلا بیوی سے کہے کہ تو مجھ پر حرام ہے اور یہ قسم نہیں ہے ‘ نہ اس پر کفارہ ہے۔ (ردالمختار ‘ ج ٢‘ ص ٥٥٣‘ ملخصا وموضحا ‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

عالمگیری میں مذکور ہے فتوی اس پر ہے کہ اس کلام سے بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی ‘ کیونکہ اب اس کلام کا غلبہ استعمال ارادہ طلاق میں ہے۔ (عالمگیری ج ٢‘ ص ٥٦‘ مطبوعہ مطبعہ امیریہ کبری ‘ بولاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ) 

امام احمد رضا قادری کی بھی یہی تحقیق ہے (فتاوی رضویہ ‘ ج ٥‘ ص ٥٦٧‘ مطبوعہ سنی دارالاشاعت ‘ فیصل آباد ‘ پاکستان)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 87

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.