لَقَدْ  سَمِعَ  اللّٰهُ  قَوْلَ  الَّذِیْنَ  قَالُوْۤا  اِنَّ  اللّٰهَ  فَقِیْرٌ  وَّ  نَحْنُ  اَغْنِیَآءُۘ-سَنَكْتُبُ  مَا  قَالُوْا  وَ  قَتْلَهُمُ  الْاَنْۢبِیَآءَ  بِغَیْرِ  حَقٍّۙ-وَّ  نَقُوْلُ  ذُوْقُوْا  عَذَابَ  الْحَرِیْقِ(۱۸۱)

بے شک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا(ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب

(ف359)

یہود نے یہ آیہ ” مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً ”سن کر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معبود ہم سے قرض مانگتا ہے تو ہم غنی ہوئے وہ فقیر ہوا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

(ف360)

اعمال ناموں میں۔

(ف361)

قتل انبیاء کو اس مقولہ پر معطوف کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں جرم بہت عظیم ترین ہیں۔ اور قباحت میں برابر ہیں اور شانِ انبیاء میں گستاخی کرنے والا شانِ الٰہی میں بے ادب ہوجاتا ہے۔

ذٰلِكَ  بِمَا  قَدَّمَتْ  اَیْدِیْكُمْ  وَ  اَنَّ  اللّٰهَ  لَیْسَ  بِظَلَّامٍ  لِّلْعَبِیْدِۚ(۱۸۲)

یہ بدلا ہے اس کا جوتمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا

اَلَّذِیْنَ  قَالُوْۤا  اِنَّ  اللّٰهَ  عَهِدَ  اِلَیْنَاۤ  اَلَّا  نُؤْمِنَ  لِرَسُوْلٍ  حَتّٰى  یَاْتِیَنَا  بِقُرْبَانٍ  تَاْكُلُهُ  النَّارُؕ-قُلْ  قَدْ  جَآءَكُمْ  رُسُلٌ  مِّنْ  قَبْلِیْ  بِالْبَیِّنٰتِ  وَ  بِالَّذِیْ  قُلْتُمْ  فَلِمَ  قَتَلْتُمُوْهُمْ  اِنْ  كُنْتُمْ  صٰدِقِیْنَ(۱۸۳)

وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے قرار کرلیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جسے آگ کھائے (ف۳۶۲) تم فرما دو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو (ف۳۶۳)

(ف362)

شانِ نزول: یہود کی ایک جماعت نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ جو مدعی رسالت ایسی قربانی نہ لائے جس کو آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انکے اس کذب محض اور افتراء خالص کا ابطال کیا گیا کیونکہ اس شرط کا توریت میں نام و نشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لئے معجزہ کافی ہے کوئی معجزہ ہو جب نبی نے کوئی معجزہ دکھایا اس کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی نبوت کو ماننا لازم ہوگیا اب کسی خاص معجزہ کا اصرار حجت قائم ہونے کے بعد نبی کی تصدیق کا انکار ہے۔

(ف363)

جب تم نے یہ نشانی لانے والے انبیاء کو قتل کیا اور ان پر ایمان نہ لائے تو ثابت ہوگیا کہ تمہارا یہ دعوٰی جھوٹا ہے۔

فَاِنْ  كَذَّبُوْكَ  فَقَدْ  كُذِّبَ  رُسُلٌ  مِّنْ  قَبْلِكَ  جَآءُوْ  بِالْبَیِّنٰتِ  وَ  الزُّبُرِ  وَ  الْكِتٰبِ  الْمُنِیْرِ(۱۸۴)

تو اے محبوب اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کو بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (۳۶۴) اور صحیفے اورچمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے

(ف364)

یعنی معجزات باہرہ

(ف365)

توریت وانجیل

كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ-وَ  اِنَّمَا  تُوَفَّوْنَ  اُجُوْرَكُمْ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ  زُحْزِحَ  عَنِ  النَّارِ  وَ  اُدْخِلَ  الْجَنَّةَ  فَقَدْ  فَازَؕ-وَ  مَا  الْحَیٰوةُ  الدُّنْیَاۤ  اِلَّا  مَتَاعُ  الْغُرُوْرِ(۱۸۵)

ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶)

(ف366)

دنیا کی حقیقت اس مبارک جملہ نے بے حجاب کردی آدمی زندگانی پرمفتون ہوتا ہے اسی کو سرمایہ سمجھتا ہے اور اس فرصت کو بے کار ضائع کردیتا ہے۔ وقت اخیر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بقانہ تھی اس کے ساتھ دل لگانا حیات باقی اور اخروی زندگی کے لئے سخت مضرت رساں ہوا حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ دنیا طالبِ دنیا کے لئے متاع غرور اور دھوکے کا سرمایہ ہے لیکن آخرت کے طلب گار کے لئے دولتِ باقی کے حصول کا ذریعہ اور نفع دینے والا سرمایہ ہے یہ مضمون اس آیت کے اوپر کے جملوں سے مستفاد ہوتا ہے۔

لَتُبْلَوُنَّ  فِیْۤ  اَمْوَالِكُمْ  وَ  اَنْفُسِكُمْ-وَ لَتَسْمَعُنَّ  مِنَ  الَّذِیْنَ  اُوْتُوا  الْكِتٰبَ  مِنْ  قَبْلِكُمْ  وَ  مِنَ  الَّذِیْنَ  اَشْرَكُوْۤا  اَذًى  كَثِیْرًاؕ-وَ  اِنْ  تَصْبِرُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  فَاِنَّ  ذٰلِكَ  مِنْ  عَزْمِ  الْاُمُوْرِ(۱۸۶)

بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو (ف۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے

(ف367)

حقوق وفرائض اورنقصان اور مصائب اور امراض و خطرات و قتل و رنج و غم وغیرہ سے تاکہ مؤمن وغیرمومن میں امتیاز ہوجائے مسلمانوں کویہ خطاب اس لئے فرمایا گیا کہ آنے والے مصائب وشدائد پر انہیں صبر آسان ہوجائے۔

(ف368)

یہود و نصارٰی

(ف369)

معصیّت سے

وَ  اِذْ  اَخَذَ  اللّٰهُ  مِیْثَاقَ  الَّذِیْنَ  اُوْتُوا  الْكِتٰبَ  لَتُبَیِّنُنَّهٗ  لِلنَّاسِ   وَ  لَا  تَكْتُمُوْنَهٗ٘-فَنَبَذُوْهُ  وَرَآءَ  ظُهُوْرِهِمْ  وَ  اشْتَرَوْا  بِهٖ  ثَمَنًا  قَلِیْلًاؕ-فَبِئْسَ   مَا  یَشْتَرُوْنَ(۱۸۷)

اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲)

(ف370)

اللہ تعالٰی نے علماء توریت و انجیل پر واجب کیا تھا کہ ان دونوں کتابوں میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والے جو دلائل ہیں وہ لوگوں کو خوب اچھی طرح مشرح کرکے سمجھادیں اور ہر گز نہ چھپائیں۔

(ف371)

اور رشوتیں لے کر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کو چھپایا جو توریت و انجیل میں مذکور تھے۔

(ف372)

علم دین کا چھپانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں آیاکہ جس شخص سے کچھ دریافت کیا گیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے اس کو چھپایا روزِ قیامت اس کے آگ کی لگام لگائی جائے گی

مسئلہ :علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم سے فائدہ پہنچائیں اور حق ظاہر کریں اور کسی غرض فاسد کے لئے اس میں سے کچھ نہ چھپائیں۔

لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَفْرَحُوْنَ  بِمَاۤ  اَتَوْا  وَّ  یُحِبُّوْنَ  اَنْ  یُّحْمَدُوْا  بِمَا  لَمْ  یَفْعَلُوْا  فَلَا  تَحْسَبَنَّهُمْ  بِمَفَازَةٍ  مِّنَ  الْعَذَابِۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  اَلِیْمٌ(۱۸۸)

ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے اُن کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہر گز عذاب سے دُور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

(ف373)

شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور باوجود نادان ہونے کے یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے

مسئلہ: اس آیت میں وعید ہے خود پسندی کرنے والے کے لئے اور اس کے لئے جو لوگوں سے اپنی جھوٹی تعریف چاہے جو لوگ بغیر علم اپنے آپ کو عالم کہلواتے ہیں یااسی طرح اورکوئی غلط وصف اپنے لئے پسند کرتے ہیں انہیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔

وَ  لِلّٰهِ  مُلْكُ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلٰى  كُلِّ  شَیْءٍ  قَدِیْرٌ۠(۱۸۹)

اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

(ف374)

اس میں ان گستاخوں کا رد ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے۔