*اجتماعی شادیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے*

تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*

khalidinfo22@gmail.com

اسلامی نقطہ نظر سے شادیاں جتنی سادہ ہونی چاہیے تھیں، ہمارے غیر اسلامی معاشرے اور زندگی کے تکلفات نے ان کو اتنا ہی رنگین، بے فیض، فضولیات آمیز اور نت نئی خرافات کا حامل بنا دیا ہے۔ اور رفتہ رفتہ نوبت بایں جا رسید کہ آج کے دور میں کسی غریب انسان کے لیے عزت کے ساتھ اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کر دینا زندگی کا بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

شادی کو پاکیزہ سنت سے زیادہ معاشرتی رسم بنانے میں اہم کردار نئے اور فکری طور پر مفلوج امیروں کا رہا ہے جو اپنی نام وری کے لیے نہ غریبوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں اور نہ اسلامی فکر کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس معاشرتی خرابی نے اب تک جانے کتنوں کو آہیں رلایا ہے اور کتنوں کی آہیں لے کر اپنی زندگیاں برباد کی ہیں۔ ملک کے اس کونے سے اس کونے تک بلا امتیاز یہ ہندوانہ رسم مسلم بن چکی ہے اور اپنی پیدائش سے اب تک مسلسل مسلمانوں کی عزت و حرمت، دولت و ثروت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی قاتل رہی ہے۔

کہتے ہیں جب ظلم حد سے سوا ہوتا ہے تو اسی کی کوکھ سے اس کا مداوا بھی پیدا ہوتا ہے۔ بہت خوش آئند بات ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے بہت سے علاقوں میں اجتماعی شادیوں کا مزاج پروان چڑھا ہے۔ یہ بھلا کام تھک ہار کے ہوا ہو یا خوشی سے کیا گیا ہو، شعوری طور پر ہوا ہو یا غیر شعوری طور پر انجام پا گیا ہو یا پھر کسی کی نقالی میں ہوا ہو، بہر حال مستحسن اور قابل تقلید ہے کیوں کہ اس سے جہاں خاصے مال معصوم کی بچت ہوتی ہے، وہیں بجائے خود خاموش اتحاد و یگانگت کی فضا بھی ہموار ہوتی ہے اور ایک شادی کے بہانے درجنوں فضول رسموں اور فضول خرچیوں پر بند باندھنے کا موقع ملتا ہے۔

خیال رہے شادی زندگی کا اتنا بڑا ہاتھی بن چکا ہے کہ اس کا ایک ایک لقمہ ہزاروں کا ہوا کرتا ہے جبکہ ذرا محنت اورقدرے اسلامی ماحول بپا کرنے سے اس سلسلے میں خاصے مال کی بچت کی جا سکتی ہے جیسے بہت سارے کھانوں کی بجائے چند کھانوں پر اکتفا کر دیا جائے، یا کئی دنوں کے لمبے ڈیکوریشن کی بجائے تھوڑے ڈیکوریشن اور تھوڑے دنوں کے ڈیکوریشن پر راضی کر لیا جائے، یا فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی وغیرہ پر صرف ہونے والی خاطر خواہ رقوم پر کنٹرول کر لیا جائے تو خاصی بچت ہو جاتی ہے یعنی یہاں جھٹکوں میں لاکھوں کی بچت کی جا سکتی ہے۔

مانا کہ یہ بچا بچایا بجٹ کسی اسلامی مفاد میں خرچ نہ ہو لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ کسی مسلمان کا مال معصوم حرام کاموں میں صرف ہونے سے بچ جائے اور کم سے کم اسی کی آئندہ زندگی کا حصہ بنے۔

اجتماعی شادیوں کا دوسرا بڑا مفاد یہ ہے کہ اس سے اجتماعیت کا تصور ابھرتا ہے اور اس کے لازمی نتیجے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم قیادت بھی نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے اور اسی کے ساتھ اس خوش گوار موقع پر اس قیادت کو تسلیم کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہ تمام خوبیاں وہ ہیں جو آج ہر محاذ پر امت مسلمہ کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں۔

بارہا اجتماعی شادیوں کے ذریعہ جہیز جیسی لعنت پر بھی قدغن لگ جاتا ہے جبکہ اسی کے ساتھ شادی میں در آئی بہت ساری غیر اسلامی رسموں پر بھی خاموش پابندی عائد ہوجاتی ہے۔ یعنی کہا جاسکتا ہے اجتماعی شادیاں ہماری ضرورت بھی ہیں، ہماری اصلاح بھی، ہماری طاقت بھی ہیں اور ہماری عظمت بھی اور شادی کے سلسلے میں ہمارے اصل تہذیبی ورثے کی آئینہ دار بھی۔ ضرورت ہے کہ مذہب اور ملت کے سر بر آوردہ افراد ہردو سطح پر اس بدعت حسنہ کو فروغ بھی دیں اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کریں ممکن ہے یہ پاکیزہ چلن امت مسلمہ کے لیے من جانب اللہ عظیم تحفہ ثابت ہو۔