أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں ‘ شیطانی کاموں میں سو تم ان سے اجتناب کرو ‘ تاکہ تم کامیاب ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان ! شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں ‘ شیطانی کاموں میں سو تم ان سے اجتناب کرو ‘ تاکہ تم کامیاب ہو۔ شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ‘ تو کیا تم آنے والے ہو۔ (المائدہ : ٩١۔ ٩٠) 

مشکل الفاظ کے معانی : 

خمر : انگور کا کچھ شیرہ ‘ جو پڑے پڑے سڑکر بدبودار ہوجائے اور جھاگ چھوڑ دے تو وہ نشہ آور ہوجاتا ہے ‘ اس کو خمر کہتے ہیں۔ خمر کا معنی ہے ڈھانپنا اور نشہ انسان کی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ 

میسر : ہر وہ عقد جس کی رو سے ہارنے والا جتنے والے کو ایک معین اور پہلے سے طے شدہ رقم ادا کرنے ‘ اس کو میسر کہتے ہیں۔ میسریسر سے بنا ہے ‘ اور جوئے کے ذریعے جتنے والے فریق کو ہارنے والے فریق کی رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں۔ 

ازلام : تیروں کی ہیئت کی پتلی پتلی لکڑیاں ‘ ان سے زمانہ جاہلیت میں قسمت کا حال اور شگون معلوم کرتے تھے اور فال نکالتے تھے۔ 

انصاب : بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر جن کی عبادت کی جاتی تھی اور بتوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان پر جانور ذبح کیے جاتے تھے۔ (المفردات ‘ ج ٢‘ ص ٦٣٨) 

رجس : جو چیز حسایا معنا گندی اور ناپاک ہو ‘ انسان کی طبیعت اس سے گھن کھائے یا عقل اس کو برا جانے یا شریعت نے اس کو ناپاک قرار دیا ہو۔ 

شراب کی تحریم کی متعلق احادیث : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

محمد بن قیس بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو لوگ شراب پیتے تھے اور جوا کھیلتے تھے۔ مسلمانوں نے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ کہئے کہ اس میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے (وقتی) فائدہ ہیں اور ان کا گناہ ان کے فائدوں سے زیادہ بڑا ہے۔ (البقرہ : ٢١٩) تو لوگوں نے کہا اس میں ہمارے لیے رخصت ہے ‘ ہم شراب پئیں گے اور جوا کھیلیں گے اور اللہ تعالیٰ سے معافع طلب کریں گے حتی کہ ایک شخص نے سورة کافرون کی پہلی اس طرح پڑھی ” قل یایھا الکفرون اعبد ما تعبدون “۔ آپ کہئے کہ اے کافرو ! میں اس کی عبادت کرتا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو اور ان کو پتا نہیں چلا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اے ایمان والو ! تم نماز کے قریب مت جاؤ درآنحالیکہ تم نشہ میں ہو۔ (النساء : ٤٣) پھر بھی شراب پیتے رہے اور جب نماز کا وقت آتا تو شراب پینا چھوڑ دیتے اور اس وقت نماز پڑھتے جب انہیں علم ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں وہ اسی معمول پر برقرار تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں۔ کیا تم باز آنے والے ہو تو مسلمانوں نے کہا اے رب ‘ ہم باز آگئے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٤٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری وجہ سے کئی آیات نازل ہوئی ہیں ‘ ایک (لقمان : ١٥) ہے۔ دوسری (انفال : ١) ہے۔ (حضرت سعد نے ان کی تفصیل بیان کی ہے۔ سعیدی غفرلہ) (اور ایک یہ آیت ہے اس کی تفصیل یہ ہے) میں مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے پاس گیا ‘ انہوں نے کہا چلو ہم تمہیں کچھ کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے ‘ میں ان کے ساتھ باغ میں گیا۔ وہاں ان کے پاس ایک اونٹ کا بھنا ہوا سر تھا ‘ اور ایک مشک میں شراب تھی۔ میں نے اس میں سے کھایا اور شراب پی ‘ پھر ان کے درمیان مہاجرین اور انصار کا ذکر چھڑ گیا۔ میں نے کہا مہاجرین انصار سے زیادہ اچھے ہیں ‘ ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی میری ناک پر ماری جس سے میری ناک زخمی ہوگئی ‘ میں نے جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر دی ‘ تب اللہ تعالیٰ عزوجل نے میری وجہ سے شراب کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں ‘۔ (الایہ) (صحیح مسلم ‘ فضائل الصحابہ ‘ ٤٣‘ (٤٨‘ (١٧٤٨) ٦١٢١‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٥٦٧۔ ١٦١٤‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ٢٨٥) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم مجلس شراب میں بیٹھے ہوئے شراب پی رہے تھے ‘ اس وقت شراب حلال تھی ‘ اچانک میں اٹھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام پیش کیا ‘ اور اس وقت شراب کی تحریم کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر اور فال کے تیر محض ناپاک ہیں ‘۔ (المائدہ : ٩٠) 

اور اس کے آخر میں تھا ‘ کیا تم باز آنے والے ہو ؟ میں اپنے اصحاب کے پاس گیا اور ان پر یہ دو آیتیں پڑھیں۔ بعض کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا جس سے انہوں نے شراب پی لی تھی اور بعض کی شراب برتن میں تھی ‘ انہوں نے گلاس سے شراب انڈیل دی اور برتن کی شراب بہا دی اور کہنے لگے اے ہمارے رب ! ہم باز آگئے۔ اے ہمارے رب ‘ ہم باز آگئے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧‘ ص ٤٧‘ المستدرک ‘ ج ١‘ ص ١٤١‘ السنن الکبری ‘ ج ٨‘ ص ٢٨٦۔ ٢٨٥) 

خمر کی حقیقت میں مذاہب فقہاء : 

قرآن مجید ‘ احادیث متواترہ اور اجماع فقہاء سے خمر حرام ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حقیقت میں خمر انگور کے اس کچے شیرہ کو کہتے ہیں ‘ جو پڑے پڑے سڑ کر جھاگ چھوڑ دے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں لغت میں خمر کا یہی معنی ہے اور یہی حقیقت ہے۔ البتہ ‘ مجازا ہر نشہ آور مشروب کو خمر کہا جاتا ہے۔ احادیث اور آثار میں جہاں ہر نشہ آور مشروب کو خمر کہا گیا ہے وہ اطلاق مجازی ہے۔ اس کے برعکس ائمہ ثلاثہ یہ کہتے ہیں کہ خمر کا معنی ڈھانپنا ہے۔ شراب کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور ہر نشہ آور مشروب حقیقتا خمر ہے۔ اب ہم لغت کے حوالوں سے خمر کا معنی بیان کرتے ہیں۔ 

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

خمرانگور کے اس کچے شیرہ کو کہتے ہیں جو نشہ آور ہو ‘ کیونکہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ ابوحنیفہ دینوری نے کہا کہ دانوں سے جو شراب بنائی جاتی ہے ‘ اس کو خمر کہتے ہیں۔ ابن سیدہ نے کہا میرے گمان میں یہ گمان میں یہ علامہ دینوری کا تسامح ہے کیونکہ خمر کی حقیقت انگور ہیں ‘ نہ کہ دوسری اشیاء اور عرب انگوروں کو خمر کہتے ہیں۔ ابن سیدہ نے کہا میرے گمان میں انگوروں کو خمر اس لیے کہتے ہیں کہ خمر انگوروں سے بنائی جاتی ہے۔ ابوحنیفہ دینوری نے اس قول کی حکایت کی ہے اور کہا : کہ یہ یمن کی لغت ہے۔ نیز انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں ہے آ ” انی ارانی اعصر خمرا “ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خمر نچوڑ رہا ہوں یہاں خمر سے مراد انگور ہیں۔ ابن عرفہ نے کہا کہ خمر نچوڑنے کا معنی ہے انگور نچوڑ کو خمر حاصل کرنا اور جب انگوڑ نچوڑ لیے جائیں تو اس سے خمر حاصل ہوتی ہے ‘ اس لیے اس نے کہا میں خمر نچوڑ رہا ہوں۔ ابوحنیفہ نے بعض راویوں سے نقل کیا کہ انہوں نے یمن کے ایک شخص کو دیکھا جو انگور اٹھائے جار ہاتھا، انہوں نے اس سے پوچھا تم نے کیا اٹھایا ہوا ہے ؟ اس نے کہا خمر ‘ سو اس نے انگوروں پر خمر کا طلاق کیا۔ (السان العرب ‘ ج ٤‘ ص ٢٥٥‘ مطبوعہ ایران ‘ تاج العروس ‘ ص ١٨٧۔ ١٨٦‘ مطبوعہ مطبعہ خیریہ ‘ مصر ‘ اقرب الموارد ‘ ج ١ ص ٣٠١‘ مطبوعہ ایران) 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک خمر کی تعریف یہ ہے ‘ انگور کا کچا پانی جب نشہ آور ہوجائے۔ اہل لغت اور اہل علم کے نزدیک بھی خمر کا یہی معنی معروف ہے۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ہر نشہ آور چیز کو خمر کہتے ہیں ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔ (صحیح مسلم الاشربہ ‘ ٦٧‘ (٢٠٠١) ٥١١٣‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٨٢‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٩٢) 

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ہے خمر ان دو درختوں سے (بنائی جاتی) ہے یہ فرما کر آپ نے انگور کی بیل اور کھجور کے درخت کی طرف اشارہ فرمایا۔ (صحیح مسلم ‘ الاشربہ ‘ ١٣‘ (١٩٨٥) ٥٠٥٠‘ ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٧٨‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٧٤۔ ٥٥٧٣۔ ٥٥٧٢) 

نیز خمر کا لفظ مخامرۃ العقل سے بنا ہے اور یہ وجہ اشتقاق ہر نشہ آور چیز میں پائی جاتی ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اہل لغت کا اس پر اتفاق ہے کہ انگور کے نشہ آور شیرہ کو خمر کہتے ہیں۔ اسی بناء پر خمر کا استعمال صرف اس معنی میں مشہور ہے۔ نیز خمر کی حرمت قطعی ہے اور باقی نشہ آور مشروبات کی حرمت ظنی ہے۔ اور ان کی حرمت کے دلائل بھی ظنی ہیں اور باقی نشہ آور مشروبات کو جو خمر کہا جاتا ہے ‘ وہ مخامرۃ العقل کی وجہ سے نہیں کہا جاتا ہے ‘ بلکہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ان کا ذائقہ بھی خمر کی طرح کڑوا ہوتا ہے۔ (یعنی یہ اطلاق بطور مجاز واستعارہ ہے) نیز اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خمر کا لفظ مخامرۃ العقل سے مشتق ہے ‘ تب بھی یہ وجہ اشتقاق اس بات کے منافی نہیں ہے کہ خمر انگور کے ساتھ مخصوص ہو ‘ کیونکہ نجم کا لفظ نجوم سے ماخوذ ہے جس کا معنی ظہور ہے ‘ اس کے باوجود نجم کا لفظ ثریا کہ ساتھ مخصوص ہے اور ہر ظاہر چیز کو نجم نہیں کہا جاتا۔ ائمہ ثلاثہ نے جو پہلی حدیث پیش کی ہے (ہر نشہ آور چیز خمر ہے) اس کو یحییٰ بن معین نے مطعون قرار دیا ہے۔ (یحیی بن معین نے کہا یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے اور یحییٰ بن معین امام ‘ حافظ اور ثقہ ہیں ‘ حتی کہ امام احمد بن حنبل نے کہا جس حدیث کو یحییٰ بن معین نہ پہچانتے ہوں ‘ وہ حدیث نہیں ہے۔ عنایہ) اور دوسری حدیث : (خمر ان دو درختوں سے بنائی جاتی ہے) اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء کھجور کی شراب کا حکم بیان کرنا تھا اور یہی بیان منصب رسالت کے لائق ہے۔ (یعنی جب کھجور کی شراب کی مقدار کثیر نشہ آور ہو ‘ تو وہ بھی خمر کی طرح ہے اور حرام ہے ‘ اور اس سے حد لازم آتی ہے۔ عنایہ) (ہدایہ اخیرین ‘ ص ٤٩٢‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ملتان) 

خمر کا بعینہ حرام ہونا اور غیر خمر کا مقدار نشہ میں حرام ہونا : 

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ہر نشہ آور مشروب مطلقا حرام ہے ‘ خواہ اس کی مقدار کثیر ہو یا قلیل ‘ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک خمر تو مطلقا حرام ہے اور خمر کے علاوہ باقی نشہ آور مشروبات جس مقدار میں نشہ آور ہوں ‘ اس مقدار میں حرام ہیں اور اس سے کم مقدار میں حرام ہیں نہ نجس ‘ اور ان کا پینا حلال ہے۔ امام ابوحنیفہ کا استدلال ان احادیث سے ہے : 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ خمر کو بعینہ حرام کیا گیا ہے ‘ خواہ قلیل ہو یا کثیر ‘ اور ہر مشروب میں سے نشہ آور (مقدار) کو حرام کیا گیا ہے۔ (سنن النسائی : ج ٨‘ رقم الحدیث : ٥٧٠٢۔ ٥٧٠١۔ ٥٦٩٩‘ سنن کبری ج ٨‘ ص ٢٩٧‘ کتاب الاثار لابی یوسف ‘ ص ٢٢٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٥‘ ص ٨‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٤٦١١٩‘ المعجم الکبیرللطبرانی ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث : ١٠٨٤٠۔ ١٠٨٤٠۔ ١٠٨٣٧۔ ١٠٨٣٧‘ ج ١١‘ رقم الحدیث : ١٢٦٣٣۔ ١٢٣٨٩‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٥‘ ص ٥٣) 

جس مشروب کی تیزی سے نشہ کا خدشہ ہو ‘ اس میں پانی ملا کر پینے کا جواز : 

جس مشروب کی کثیر مقدار نشہ آور ہو ‘ اس کی قلیل مقدار کے جائز ہونے پر فقہاء احناف نے اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ جب نبیذ میں شدت اور حدت ہو اور وہ اس شدت کی بناء پر نشہ آور ہو ‘ اس نبیذ میں پانی ملا کر اس کی شدت کو کم کرکے اور اس کی حدت کو توڑ کر پینا جائز ہے ‘ اور یہ عمل خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بہ کثرت صحابہ اور فقہاء تابعین سے ثابت ہے۔ 

امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ١٨٩ ھ لکھتے ہیں : 

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک نشہ میں مدہوش اعرابی لایا گیا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس سے عذر طلب کیا۔ جب وہ اپنی مدہوشی کی وجہ سے کچھ نہ بتا سکا تو آپ نے فرمایا اس کو باندھ دو ‘ جب اس کو ہوش آجائے تو اس کو کوڑے لگا دینا ‘ پھر حضرت عمر نے اس اعرابی کے مشکیزہ میں بچے ہوئے مشروب کو منگوایا ‘ پھر آپ نے اس کو چکھا تو وہ بہت تیز اور سخت تلخ نبیذ تھا ‘ آپ نے پانی منگوا کر اس کی شدت اور حدت کو توڑا ‘ پھر آپ نے اس کو پیا اور اپنے ساتھیوں کو پلایا ‘ پھر آپ نے فرمایا جب اس کی تیزی اور نشہ تم پر غالب آجائے تو اس کو پانی سے توڑ لیا کرو۔ امام محمد فرماتے ہیں ‘ ہمارا اس پر عمل ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے۔ (کتاب الاثار لامام محمد ‘ ص ١٨٤۔ ١٨٣‘ کتاب الآثار لامام ابی یوسف ‘ ص ٢٢٦‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٩‘ ص ٢٢٤) 

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سبیل پر آئے اور فرمایا مجھے اس سے پانی پلاؤ۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ہم آپ کو وہ چیز نہ پلائیں جس کو ہم اپنے گھر میں تیار کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھ کو وہ چیز پلاؤ جس کو لوگ پیتے ہیں ‘ حضرت عباس (رض) نبیذ کا ایک پیالہ لے کر آئے ‘ آپ نے اس کو چکھا ‘ پھر ماتھے پر شکن ڈال کر فرمایا پانی لاؤ پھر آپ نے اس میں پانی ملایا ‘ پھر دو یا تین بار فرمایا اور زیادہ ملاؤ‘ اور فرمایا جب تم کو (نبیذ) تیزلگے ‘ تو اسی طرح کیا کرو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٨‘ ص ١٤٠۔ ١٣٩‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٩‘ ص ٢٢٦‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ٣٠٠۔ ٣٠٠٥۔ ٣٠٠٤) 

حضرت ابو مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے گرد طواف کر رہے تھے ‘ آپ کو پیاس لگی اور آپ نے پانی مانگا ‘ آپ کے پاس ایک برتن سے نبیذ لایا گیا ‘ آپ نے اس کو سونگھا اور پھر ماتھے پر شکن ڈال کر فرمایا : میرے پاس زمزم کا ڈول لاؤ‘ پھر آپ نے اس میں پانی ملا کر اس کو پی لیا ‘ ایک شخص نے پوچھا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٨‘ ص ١٤٠‘ سنن کبری ج ٨‘ ص ٣٠٤‘ سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٥٧١٩) 

جس مشروب کی کیثر مقدار نشہ آور ہو ‘ اس کی قلیل مقدار کے حلال ہونے پر فقہاء احناف کے دلائل : 

علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس نے فرمایا خمر کو بعینہ حرام کیا گیا ہے ‘ خواہ قلیل ہو یا کثیر ‘ اور ہر مشروب میں سے نشہ آور کو حرام کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ کسی مشروب کا وہ آخری گھونٹ حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہو ‘ اور خمر بعینہ حرام ہے۔ خواہ قلیل ہو یا کثیر ‘ اور مثلث اور کشمش اور چھواروں کے پکے ہوئے پانی (یعنی نبیذ) میں قلیل اور کثیر کا فرق ہے۔ اس کی قلیل مقدار حلال ہے اور جس گھونٹ کے بعد نشہ پیدا ہو وہ حرام ہے اور وہ کثیر مقدار کا آخری گھونٹ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جو پیالہ نشہ آور ہو ‘ صرف وہ حرام ہے۔ امام ابو یوسف نے فرمایا اس کی مثال کپڑے میں خون کی طرح ہے۔ اگر کپڑے میں قلیل خون ہو تو اس کے ساتھ نماز جائز ہے ‘ اور اس کی مثال نفقہ کی طرح ہے ‘ اگر انسان اپنی کمائی سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے تو جائز ہے اور اگر خرچ میں اسراف کرے (یعنی ناجائز محل پر خرچ کرے) تو یہ ناجائز ہے۔ اسی طرح نبیذ ہے ‘ اگر اس کو کھانے کے بعد پیا تو کوئی حرج نہیں ہے ‘ اور اگر اس کو بقدر نشہ پیا تو ناجائز ہے۔ کیونکہ یہ اسراف ہے ‘ اس لیے جب نبیذ پیتے ہوئے نشہ ہونے لگے تو اس کو چھوڑ دے۔ دیکھئے مثلا دودھ حلال ہے ‘ لیکن کسی شخص کو زیادہ دودھ پینے سے نشہ ہون لگے تو وہ زیادتی ناجائز ہوگی ‘ اور اس تمام تفصیل سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ حرمت کا مدار نشہ لانے والے جز پر ہے۔ البتہ خمر مطلقا حرام ہے ‘ نیز خمر کو تھوڑی مقدار میں پینا زیادہ پینے کا محرک ہوتا ہے ‘ اس لیے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ‘ اس کے برخلاف مثلث (انگور کاشیرہ ‘ جب جوش دے کر پکایا جائے ‘ اس کا دو تہائی اڑ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے تو اگر وہ شیریں ہو تو سب کے نزدیک اس کا پینا حلال ہے اور جب وہ جوش دینے سے گا رھا ہوجائے اور نشہ آور نہ ہو ‘ تو امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس کا پینا حلال ہے اور امام محمد کے نزدیک اس کا پینا جائز نہیں ‘ اس کو مثلث کہتے ہیں۔ (رد المختار ‘ ج ٥‘ ص ٢٩٠) 

اس کی قلیل مقدار کثیر کی محرک نہیں ہوتی ‘ بلکہ اس کی قلیل مقدار کھانے کو ہضم کرتی ہے اور عبادت کرنے کی قوت دیتی ہے اور اس کی کثیر مقدار سر میں درد پیدا کرتی ہے۔ کیا یہ مشاہدہ نہیں ہے کہ جو لوگ نشہ آور مشروبات کو پیتے ہیں ‘ وہ مثلث میں بالکل رغبت نہیں کرتے۔ (المبسوط ج ٢٤ ص ٩۔ ٨‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ نشہ آور چیز کی قلیل مقدار حرام نہ ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خمر کو حرام کرنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ خمر اللہ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہے اور بغض اور عداوت پیدا کرتی ہے ‘ اور نشہ آور مشروب کو قلیل مقدار میں پینے سے یہ اوصاف پیدا نہیں ہوتے اور اگر ہم ظاہر آیت کا لحاظ کریں تو قلیل مقدار میں بھی خمر حرام نہیں ہونی چاہیے ‘ لیکن ہم نے خمر کی قلیل مقدار میں اس قیاس کو چھوڑ دیا ‘ کیونکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ خمر مطلقا حرام ہے ‘ خواہ قلیل ہو یا کثیر۔ البتہ خمر کے علاوہ باقی نشہ آورہ مشروبات میں ظاہر آیت کا اعتبار کیا جائے گا ‘ کیونکہ ان کی قلیل مقدار اللہ کے ذکر سے روکتی ہے ‘ نہ نماز سے اور نہ بغض و عداوت پیدا کرتی ہے۔ (البنایہ ‘ ج ١١‘ ص ٤٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

خمر کے علاوہ دیگر مشروبات جو کثیر مقدار میں نشہ آور ہوں اور قلیل مقدار میں نشہ آور نہ ہوں ‘ تو اگر ان کی قلیل مقدار پینے سے کھانے کو ہضم کرنے کا ارادہ کیا جائے اور قیام لیل پر قوت حاصل کرنے کا ارادہ کیا جائے ‘ یا دن میں روزہ رکھنے پر قوت کے حصول کا ارادہ کیا جائے ‘ یا اعداء اسلام سے قتال کی قوت کے حصول کا ارادہ کیا جائے ‘ یا مرض کو دور کرنے اور دوا کے قصد سے ان کو پیا جائے ‘ تو یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک حلال ہیں اور امام محمد کے نزدیک مطلقا حرام ہیں۔ خواہ ان کے مقدار قلیل ہو یا کثیر ‘ اور چونکہ اب فساد عام ہوگیا ہے اور لوگ عیش وطرب اور لہو ولعب کے لیے ہی ان مشروبات کو پیتے ہیں ‘ اس لیے متاخرین نے امام محمد کے قول پر فتوی دیا ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ‘ ٢٩٣۔ ٢٩٢‘ ملخصا و موضحا ‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

انگریزی دواؤں اور پر فیوم کا شرعی حکم : 

مصنف کے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آج کل کی غیر خمر مروجہ شرابیں پیتا ہے تو یہ ائمہ ثلاثہ اور امام محمد کے قول کے مطابق حرام ہے ‘ خواہ قلیل مقدار میں پئے یا کثیر مقدار میں اور احادیث صحیحہ کا بھی یہی تقاضا ہے ‘ لیکن اگر اسپرٹ یا الکوحل کی نہایت قلیل مقدار مائع دواؤں میں شامل ہو ‘ یا پر فیوم میں شامل ہو تو امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے فتوی کے مطابق ان کو جواز پر محمول کرنا چاہیے ‘ کیونکہ ان دواؤں کے استعمال سے یہ قول صادق نہیں آئے گا کہ وہ شخص نشہ آور مشروب کی قلیل مقدار کو پی رہا ہے ‘ بلکہ یہ کہا جائے گا کہ وہ شخص ایک چمچہ دوا پی رہا ہے جس میں ایک دو قطرے الکوحل کے شامل ہیں اور جس طرح حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کہ خمر بعینہ حرام ہے اور ہر مشروب میں سے نشہ آور مقدار حرام ہے اور جس طرح احادیث سے ثابت ہے کہ تیز اور تلخ مشروب میں پانی ملا دیا جائے تو وہ حلال ہے ‘ سو اگر الکوحل بالفرض تیز اور تلخ بھی ہو تو دوسری دوائیں اور کیمیکلز ملنے کے بعد اس کی تیزی اور تلخی جاتی رہتی ہے ‘ اور جس طرح علامہ عینی نے کہا ہے کہ خمر کے حرام ہونے کی علت اس کا نماز اور اللہ کے ذکر سے روکنا ہے ‘ اور مسلمانوں میں بغض اور عداوت کا پیدا کرنا ہے اور دوا کی ایک خوراک جو ایک یا دو چمچے ہوتی ہے ‘ اور اس میں جو نہایت قلیل مقدار میں الکوحل ہوتی ہے ‘ وہ الکوحل نہ تو خمر ہے نہ نماز ‘ اور نہ اللہ کے ذکر سے روکتی ہے اور نہ بعض اور عداوت پیدا کرتی ہے۔ سو ان دلائل کے اعتبار سے دواؤں میں جو نہایت قلیل میں الکوحل ہوتی ہے ‘ وہ حرام نہیں ہے اور یہ مائع دوائیں حلال ہیں اور کسی بیماری کے علاج کے لیے یا طاقت حاصل کرنے کے لیے ان دواؤں کو پینا جائز اور حلال ہے۔ اسی طرح پر فیوم میں جو سپرٹ اور الکوحل شامل ہوتی ہے ‘ وہ بھی ان دلائل کے اعتبار سے جائز اور پاک ہے۔ 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٣٨٦ ھ انگریزی دواؤں کے متعلق لکھتے ہیں : 

(١) اگر اسپرٹ خمر سے تیار ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سوال میں ظاہر کیا گیا ہے تو یہ مطلقا حرام ہے ‘ اس سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں ‘ مگر بوقت اضطرار کہ وہ بنص ” الا ما اضطررتم الیہ “ اس حکم سے مستثنی ہے۔ پس اس کی بیع وشراء بھی جائز نہیں اور اس کا بذریعہ بھپکے کے مقطر کرنا اس کی حرمت کو زائل نہیں کرتا۔ ہدایہ شریف میں ہے : ” والتاسع ان الطبخ لا یوثر فیھا لانہ للمنع من ثبوت الحرمۃ لالرفعھا بعد ثبوتھا۔ انتھی “ لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا ‘ یہی معلوم ہوا کہ یہ اس شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے ‘ بلکہ یہ ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے۔ پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے ‘ یہی حکم اس تقدیر پر ہے جب کہ باذق یا مصنف یا نقیع زبیب وتمر سے بنائی گئی ہو ‘ اس لیے کہ اس میں جوش دے دیا گیا ہے۔ لہذا عامہ علماء کے نزدیک اس کا قلیل مطلقا حرام نہیں۔ کما صرحت من قبل “ اور اگر اس میں شک ہے کہ یہ شراب سے بنائی گئی ہے ‘ یا نہیں یا یہ تو معلوم ہے کہ یہ شراب سے بنی ہے ‘ لیکن یہ نہیں معلوم کہ کون سی شراب سے بنی ہے ‘ تب بھی یہی حکم ہے۔ 

کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو اور وہ اپنی دبر میں حرکت محسوس کرے اور اس کو یہ اشکال ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے یا نہیں ٹوٹا ‘ تو وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک کہ آواز نہ سنے یا بدبو نہ محسوس کرے۔ اس حدیث کو امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور فقہاء نے کہا ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا اور اصل اشیاء میں حلت اور طہارت ہے۔ 

(٢) جن صورتوں میں اس کی بیع جائز ہے ‘ ان ہی صورتوں میں اس کی خرید بھی جائز ہے۔ فقط۔ 

(٣) اگر اسپرٹ علاوہ خمر کے کسی دوسری شراب سے بنائی گئی ‘ جیسا کہ بعض ڈاکٹروں کا بیان ہے تو اس کی خریدو فروخت جائز ‘ لیکن مکروہ ہے۔ علامہ شامی نے کہا ہے کہ غیر خمر کی بیع ہرچند کہ صحیح ہے ‘ لیکن مکروہ ہے ‘ جیسا کہ غایہ میں مذکور ہے۔ پس اس کا ترک اولی ہے۔ فقط۔ 

(٤) جب ادویہ میں اسپرٹ شامل ہے تو جو حکم اسپرٹ کا ہے وہی ان ادویات کا بھی ہے، پس اگر اسپرٹ یقینا خمر سے تیار ہوئی ہے ‘ تو دیکھا جائے کہ اس سے شفا کا صرف احتمال ہی ہے یا ظن غالب ‘ اگر صرف احتمال ہے تو جائز نہیں اور اگر ظن غالب ہے ‘ تو اگر دوسری جائز دوا اس مرض کے لیے پائی جاتی ہے تب بھی ناجائز ہے ‘ ورنہ اختلاف ہے۔ درمختار میں ہے : 

حرام دوا کے ساتھ علاج میں اختلاف ہے اور ظاہر مذہب میں یہ ممنوع ہے ‘ جیسا کہ البحر الرائق کی کتاب الرضاع میں مذکور ہے۔ لیکن مصنف نے وہاں اور یہاں الحاوی سے نقل کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ جب حرام دوا سے شفاء کا یقین ہو اور کسی دوسری دوا کا علم نہ ہو ‘ تو اس کے ساتھ علاج کی رخصت دی جائے گی ‘ جیسا کہ پیاسے کو خمر (شراب) پینے کی رخصت دی جاتی ہے۔ 

پس اس صورت میں اگر اس کو بطور دوا استعمال کیا جائے تو گنجائش ہے ‘ لیکن اولی یہی ہے کہ اس سے بچا جائے ‘ اور اگر اس کی ساخت بطریق تقطیر سوائے شراب کے دوسری اشربہ سے ہے ‘ تب بھی بہتر تو یہی ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جس چیز میں شک ہو اس کو چھوڑ کر اس کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو ‘ لیکن اگر زیادہ ضرورت دیکھی جائے تو اس کے استعمال میں بھی گنجائش ہے۔ ” للاختلاف ولعموم البلوی “ چناچہ علامہ شامی نے احکام افیون کے بارے میں فرمایا : 

خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز نشہ آور ہو اس کی کثیر مقدار کو استعمال کرنا تو مطلقا حرام ہے ‘ اور قلیل مقدار اگر بطور لہو ولعب ہو تب بھی حرام ہے اور اگر علاج کے لیے ہو تو پھر حرام نہیں ہے۔ 

لیکن یہ حکم جب ہے کہ قلیل استعمال کیا جائے ‘ ورنہ قدر مسکربجز اضطرار کے بطور دوا بھی جائز نہیں۔ ’ کماقالہ العلماء والشامی مفتی مظہر اللہ دہلوی نے حدیث اور فقہ کی صرف عربی عبارات ذکر کی تھیں ‘ ہم نے ان عبارات کا اردو ترجمہ ذکر کیا ہے۔ سعیدی غفرلہ (فتاوی ‘ مظہری ‘ ص (٢٩٠۔ ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی ‘ کراچی) 

شراب نوشی پر وعید کی احادیث : 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت زانی زنا کرتا ہے ‘ وہ مومن نہیں ہوتا اور جس وقت شراب پینے والا خمر (شراب) پیتا ہے ‘ وہ مومن نہیں ہوتا اور جس وقت چور چوری کرتا ہے ‘ وہ مومن نہیں ہوتا اور جس وقت لٹیرا لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے ‘ وہ مومن نہیں ہوتا۔ (سنن النسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٧٥‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٧٥‘ صحیح مسلم الایمان ‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٢۔ ١٠١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٣٦) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص نشہ کرے تو اس کو کوڑے مارو ‘ پھر اگر نشہ کرے تو پھر کوڑے مارو ‘ پھر اگر نشہ کرے تو پھر کوڑے مارو ‘ اور چوتھی بار فرمایا اس کی گردن اڑا دو ۔ (سنن النسائی : ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٧٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٤٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٧٢) 

عروہ بن رویم بیان کرتے ہیں کہ ابن الدیلمی سوار ہو کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی تلاش میں گئے ‘ جب ان کے پاس پہنچے تو کہا : اے عبداللہ بن عمرو ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خمر (انگور کی شراب) کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص میری امت میں سے خمرپئے گا ‘ اللہ اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں فرمائے گا۔ (سنن النسائی : ج ٨‘ رقم الحدیث : ٥٦٨٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٣٧٧) 

حضرت عثمان نے فرمایا خمر سے اجتناب کرو ‘ یہ تمام گناہوں کی اصل ہے ‘ تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص عبادت گزار تھا اس پر ایک بدکار عورت فریفتہ ہوگئی ‘ اس نے اپنی باندی بھیج کر اس کو گواہی کے بہانے سے بلایا۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو دروازہ بند کردیا ‘ اس نے دیکھا وہاں ایک حسین عورت ہے ‘ ایک غلام ہے اور ایک شراب کا برتن ہے۔ اس عورت نے کہا خدا کی قسم ! میں نے تم کو گواہی کے لیے نہیں بلایا ‘ لیکن میں نے تم کو اس لیے بلایا ہے کہ تم میری خواہش نفس پوری کرو۔ یا اس شراب سے ایک پیالہ پیو یا اس غلام کو قتل کردو۔ اس عابد نے کہا مجھے اس شراب سے ایک پیالہ پلادو ‘ اس نے اس کو ایک پیالہ شراب پلائی ‘ اس نے کہا اور پلاؤ‘ پھر اس نے اس عورت سے بدکاری کی اور اس غلام کو قتل بھی کردیا۔ سو تم خمر سے اجتناب کرو ‘ کیونکہ خدا کی قسم ! دائماشراب نوشی کے ساتھ ایمان باقی نہیں رہتا۔ (سنن النسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٥٦٨٢) 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے خمر کو پیا ‘ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی ‘ پھر اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے ‘ پھر اگر دوبارہ شراب پئے تو اللہ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ‘ پھر اگر توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے ‘ پھر اگر دوبارہ شراب پئے تو اللہ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ‘ پھر اگر توبہ کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے ‘ پھر اگر وہ شراب پئے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کو دوزخیوں کی پیپ پلائے۔ (سنن النسائی : ج ٨‘ رقم الحدیث : ٥٦٨٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٣٧٧) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں شراب پی پھر اس سے توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں شراب (طہور) سے محروم رہے گا۔ (سنن النسائی ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٨٧‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٧٥‘ صحیح مسلم ‘ الاشربہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٧۔ ٧٦) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول نبی (رض) نے فرمایا احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ‘ نہ ماں باپ کا نافرمان اور نہ دائمی شراب نوش۔ (سنن النسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٨٨) 

خمر کی حد کا بیان : 

خمر پینے والے پر حد لگائی جائے گی ‘ خواہ وہ ایک قطرہ خمر پئے اور خواہ اس کو نشہ نہ ہو ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے جو شخص خمر پئے ‘ اس کو کوڑے مارو ‘ اگر دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو ‘ اگر سہ بارہ پئے تو پھر کوڑے مارو ‘ اور اگر چوتھی بار خمر پئے تو اس کو قتل کردو۔ (ترمذی وا بوداؤد) البتہ قتل کرنے کا حکم منسوخ ہوگیا ہے اور کوڑے مارنے کا حکم باقی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہے۔ قتل کے بدلہ میں قتل کیا جائے یا شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے یا جو شخص مرتد ہو کر دین بدل لے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوجائے۔ (مسلم) اور جو شخص خمر کے علاوہ اور کوئی نشہ آور مشروب پئے تو اس پر اس وقت حد واجب ہے جب اس کو نشہ ہوجائے اور خمر کی حد اجماع صحابہ سے اسی کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ نیز شراب کے نشہ میں انسان پاک دامن مسلمان کو تہمت لگا دیتا ہے اور تہمت لگا دیتا ہے اور تہمت لگانے کی سزا قرآن مجید نے اسی کوڑے مقرر کی ہے۔ 

بھنگ اور افیون کا شرعی حکم : 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

البحرالرائق کی کتاب الطلاق میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص لہو ولعب کے قصد سے بھنگ پئے یا افیون کھائے اور اس کی عقل ماؤف ہوجائے ‘ تو اس کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجائے گی ‘ کیونکہ یہ معصیت ہے ‘ اور اگر اس نے علاج کی غرض سے بھنگ پی تھی یا افیون کھائی تھی تو اس کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ‘ کیونکہ اب اس کا کھانا اور پینا معصیت نہیں ہے۔ فتح القدیر میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔ اس عبارت میں یہ تصریح ہے کہ بغیر غرض علاج کے بھنگ پینا یا افیون کھانا حرام ہے۔ اور بزازیہ میں لکھا ہے کہ اس علت سے معلوم ہوا کہ علاج کی غرض سے بھنگ اور افیون کا استعمال جائز ہے۔ النہر الفائق میں بھی اس تفصیل کو لکھنے کے بعد اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ‘ ٢٩٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

سکون آور دواؤں کا شرعی حکم : 

سکون آور ادویہ مثلا اے۔ ٹی ون ‘ ڈائزوپام ‘ والیم ‘ لبریم اور تفرانیل وغیرہ کو بھی انسومینیا ‘ دل گرفتگی (ڈپریشن) اور مالیخولیا ایسے امراض میں ماہر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا جائز ہے ‘ لیکن ان دواؤں کو بطور عادت یا نشہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے ‘ یہ تمام دوائیں وقتی طور پر اعصابی تشنج (ٹینشن) کو دور کرتی ہیں ‘ لیکن ان کے مابعد اثرات زندگی اور صحت کے لیے بہت مضر ہیں ‘ ان دواؤں کو بہ کثرت استعمال کرنے سے اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں اور اخیر عمر میں رعشہ طاری ہوجاتا ہے۔ 

تمباکو نوشی کا شرعی حکم : 

اگر کبھی کبھی تمبا کو پی لے تو یہ مباح ہے ‘ لیکن تمباکو نوشی کو عادت بنا لینا اور مستقل تمباکو پینا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اب جدید میڈیکل سائنس کی اس تحقیق کو تمام دنیا میں تسلیم کرلیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے مضر ہے ‘ تمباکو پینے سے بالعموم لوگوں کو کھانسی ہوجاتی ہے۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ‘ تمباکو سے پھپھڑوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ‘ خون کی شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں ‘ بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے ‘ کینسر ہوجاتا ہے اور بہت امراض پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس یہ جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ‘ ہمیں اس جسم کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق نہیں ہے اور ہر وہ چیز جس سے اس جسم کو نقصان پہنچے اس سے احتراز لازم ہے اور اس کا ارتکاب کرنا ممنوع ہے۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جو چیزیں نقصان دہ ہوں ‘ ان کا کھانا جائز نہیں ہے۔ مثلا زہر ‘ شیشہ مٹی اور پتھر اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : 

ترجمہ : ” اپنے آپ کو قتل نہ کرو “ اور یہ ارشاد ہے ” اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو “ اور ان چیزوں کا کھانا ہلاکت ہے ‘ اس لیے ان کا حلال نہ ہونا واجب ہے۔ (شرح المہذب ‘ ج ٩‘ ص ٤٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

جوئے کی تعریف اور اس کے حرام ہونے کا بیان : 

اس آیت میں جوا کھیلنے کو بھی حرام قرار دیا ہے ‘ لوئیس معلوف قمار کا معنی لکھتے ہیں : 

ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط لگائی جائے کہ غالب ‘ مغلوب سے کوئی چیز لے لے گا ‘ خواہ وہ چاندی ہو یا کوئی اور چیز۔ (المنجد ‘ ص ٧٦٥٣‘ مطبوعہ المطبعہ الکاثولی کہ ‘ بیروت ‘ ١٩٢٧ ھ) 

علامہ میرسید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں 

ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کہ مغلوب کی کوئی چیز غالب کو دی جائے گی ‘ قمار ہے۔ (التعریفات ‘ ص ٧٧‘ مطبوعہ المطبعہ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

قمار ‘ قمر سے ماخوذ ہے۔ جو کبھی کم ہوتا ہے اور کبھی زیادہ ‘ اور جوئے کو قمار اس لیے کہتے ہیں کہ جوا کھیلنے والوں میں سے ہر ایک اپنا مال اپنے ساتھی کو دینے اور اپنے ساتھی کا مال لینے کو (شرط کے ساتھ) جائز سمجھتا ہے۔ اور یہ نص قرآن سے حرام ہے اور اگر صرف ایک جانب سے شرط لگائی جائے تو جائز ہے۔ (رد المختار ج ٥ ص ‘ ٢٥٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

اہل علم کا جوئے کے ناجائز ہونے کوئی اختلاف نہیں ہے اور باہم شرط لگانا بھی جوا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا آپس میں شرط لگانا جوا ہے ‘ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے مال اور بیوی کی شرط لگاتے تھے۔ پہلے یہ مباح تھا ‘ بعد میں اس کی تحریم نازل ہوگئی ‘ جب سورة روم نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے رومیوں کے ایرانیوں سے غالب ہونے پر مشرکین سے شرط لگائی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شرط میں زیادتی کرو اور مدت بڑھا دو ‘ پھر بعد میں اس سے منع فرما دیا اور جوئے کی حرمت نازل ہوگئی۔ اس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ شتر سواری ‘ گھوڑے سواری اور نیزہ بازی میں سابقیت کی شرط لگانے کی رخصت ہے ‘ یعنی سب سے آگے نکلنے والے کو انعام دیا جائے اور پیچھے رہنے والے کو انعام نہ دیاجائے۔ (یہ انعام کوئی تیسرا شخص یا مقابلہ کرانے والا دے گا) اور اگر یہ شرط لگائی جائے کہ دونوں میں سے جو آگے نکل جائے گا ‘ وہ لے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ دے گا تو یہ شرط ناجائز ہے ‘ اور اگر وہ کسی تیسرے شخص کو داخل کردیں تو یہ جائز ہے اور اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محلل فرمایا ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٣٢٩ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

معمہ ‘ لاٹری اور سٹہ کا شرعی حکم : 

ہمارے زمانہ میں معمہ اور لاٹری کا رواج ہے۔ معمہ میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مقررہ فیس ادا کرکے لوگ اس معمے کو حل کرکے صاحب معمہ کے پاس قسمت آزمائی کے لیے بھیج دیتے ہیں ‘ اور لاکھوں شرکاء کی فیسوں کے ذریعہ جو رقوم جمع ہوتی ہے اس میں سے تین چار انعام مقرر کیے جاتے ہیں۔ علمی حیثیت سے تو اس معمے کے بہت سے حل صحیح ہوسکتے ہیں ‘ لیکن انعام اس شخص کو ملتا ہے جس کا حل کسی معقول کوشش کی بناء پر نہیں ‘ بلکہ محض اتفاق سے کمپائلر کے مطابق ہو۔ چونکہ معمے میں بھی تملیک کا مدار خطرہ (Risk) پر ہے اس لیے یہ بھی میسر اور قمار ہے ‘ اور شرعا ناجائز ہے اور حرام ہے۔ 

اسی طرح لاٹری بھی جوا ہے لاٹری میں بڑے بڑے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ فروخت کیے جاتے ہیں اور ٹکٹوں کے ذریعہ جو رقوم جمع ہوتی ہیں ‘ اس میں سے قرعہ اندازی کے ذریعہ چندلاکھ روپے تقسیم کردیئے جاتے ہیں۔ ہمارے زمانہ میں ہلال احمر اور فاطمید فاؤنڈیشن کے ریفل ٹکٹ کا کاروبار عام ہے ‘ یہ کاروبار خالص جوا ہے اگر کوئی شخص تپ دق کے مریضوں کی مدد اور غریب بیماروں کے لیے خون مہیا کرتا ہے تو سیدھے اور صاف طریقہ سے آکر ان اداروں میں عطیات جمع کرائے ‘ لاٹری کے ٹکٹ خرید کر قسمت آزمائی کے راستہ سے غریب اور نادار مریضوں کے لیے جوئے کی رقم مہیا نہ کرے ‘ اسی طرح وہ سارے کھیل اور کام جوئے میں داخل ہیں جن میں اشیاء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کے بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے۔ گھوڑ دوڑ کے مقابلوں میں اور بین الاقوامی کھیلوں میں ہار جیت پر جانبین سے شرط لگانا ‘ اسی طرح بارش ہونے یا نہ ہونے پر ‘ یا کسی بھی اتفاقی امر پر جانبین سے شرط لگانا صراحتا ‘ سٹہ اور جوا ہے اور ناجائز اور حرام ہے۔ 

کھیل اور ورزش کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر : 

جسمانی ورزش اور باہمی دلچسپی کے لیے جو کھیل کھیلے جاتے ہیں ان کے کھیلنے سے اگر کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ ہوتا ہو اور کوئی عبادت ضائع نہ ہوتی ہو ‘ تو ان کا کھیلنا جائز ہے۔ مثلا بعض کھیل ایسے ہیں جن میں کھلاڑی گھٹنوں سے اونچا نیکر پہنتے ہیں ‘ بعض کھیل ایسے ہیں جو صبح سے شام تک جاری رہتے ہیں اور ظہر کی نماز کا وقت کھیل کے دوران آکر نکل جاتا ہے ‘ اور کھلاڑی اور کھیل دیکھنے والے نماز کا کوئی خیال نہیں کرتے ‘ کھانے اور چائے کا وقفہ کیا جاتا ہے ‘ لیکن نماز کا کوئی وقفہ نہیں ہوتا ‘ بعض دفعہ کسی کھیل میں ہارجیت ‘ پر کوئی شرط رکھی جاتی ہے۔ یہ سب امور ناجائز ہیں۔ 

انسان کی صحت اور جسم کو چاق وچوبند رکھنے کے لیے کھیل اور ورزش دونوں بہت ضروری ہیں۔ بعض لوگ میز کرسی پر بیٹھ کر دن رات پڑھنے کا کام کرتے ہیں ‘ ان کو اپنے کام کی وجہ سے زیادہ چلنے پھرنے اور جسمانی مشقت کا موقع نہیں ملتا اس کی وجہ سے ان لوگوں کی توند نکل آتی ہے اور خون میں گلیسڑول کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے ‘ اور یہ لوگ ذیابیطس (خون میں شکر کا ہونا) ہائی بلڈ پریشر ‘ دل کی بیماریوں ‘ معدہ کا ضعف اور گیس کا شکار ہوجاتے ہیں ‘ ان بیماریوں سے محفوظ رہنے یا بیماری لاحق ہونے کے بعد ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے کھیلوں اور ورزشوں میں مشغول رہنا حفظان صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ 

اسلام میں مختلف کھیلوں اور ورزشوں کی بھی مناسب حد تک حوصلہ افزائی کی گئی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑ سواری کا مقابلہ کرایا ‘ پیدل دوڑ کا مقابلہ کرایا ‘ آپ نے خود بہ نفس نفیس دوڑ کے مقابلہ میں حصہ لیا ‘ اسی طرح آپ نے کشتی بھی کی ‘ اس سلسلہ میں ہم نے تمام احادیث شرح صحیح مسلم ‘ جلد سادس میں بیان کردی ہیں۔ 

جسم کو چاق وچوبند اور صحت کو قائم رکھنے کے لیے جو کھیل کھیلے جائیں اور جسمانی ورزشیں کی جائیں ‘ ان میں یہ نیت ہونی چاہیے کہ ایک صحت مند اور طاقتور جسم ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر زیادہ اچھی طرح عمل کرسکتا ہے ‘ اور حقوق العباد کی ادائیگی اور خلق خدا کی خدمت ‘ تندرست اور توانا جسم سے بہتر طور پر کی جاسکتی ہے۔ اس لیے اچھی صحت اور طاقت کے حصول کے لیے مناسب کھیلوں اور ورزشوں میں حصہ لینا چاہیے۔ 

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : 

بغیر کسی عوض کی شرط کے مقابلہ میں حصہ لینا مطلقا جائز ہے اور نہ اس میں کسی معین جنس کے مقابلے کی قید ہے۔ خواہ پیادہ دوڑ کا مقابلہ ہو ‘ کشتیوں کا ہو یا پرندوں ‘ خچروں ‘ گدھوں اور ہاتھیوں یا نیزوں کا مقابلہ ہو۔ اسی طرح کشتی لڑنا بھی جائز ہے ‘ اور طاقت آزمائی کے لیے پتھر اٹھانا بھی جائز ہے ‘ کیونکہ ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے دوڑ میں مقابلہ کیا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع نے ایک انصاری سے دوڑ میں مقابلہ کیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت رکانہ سے کشتی لڑی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس سے گزرے ‘ جو پتھر اٹھا کر طاقت آزمائی کر رہی تھی ‘ آپ نے ان کو منع نہیں فرمایا۔ (المغنی ‘ ج ٩‘ ص ٣٦٨‘ مطبوعہ بیروت) 

ان تمام احادیث اور آثار میں اس کا ثبوت ہے کہ صحت اور قوت کو برقرار رکھنے کے لیے صحت مند کھیلوں اور جسمانی ورزشوں کو اختیار کرنا چاہیے ‘ اور ان کھیلوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مقابلہ منعقد کرانا بھی جائز ہے۔ البتہ کسی بھی مقابلہ پر ہار جیت کی شرط رکھنا ناجائز ہے۔ 

چوسر اور شطرنج کے متعلق مذاہب فقہاء : 

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : 

ہر وہ کھیل جس میں قمار ہو ‘ وہ حرام ہے اور جس کھیل میں کسی بھی جانب سے کسی عوض کی شرط نہ ہو ‘ ان میں سے بعض حرام ہیں اور بعض مباح ہیں۔ حرام تو نرد شیر ہے۔ امام ابوحنیفہ اور اکثر شافعیہ کا یہی قول ہے اور بعض فقہاء نے کہا یہ مکروہ ہیں ‘ حرام نہیں ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ امام ابو داؤد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے نرد شیر (چوسر) کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور حضرت بریدہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس نے نرد شیر کو کھیلا ‘ اس نے اپنے ہاتھ خنزیر کے خون اور گوشت میں رنگ لیے اور سعید بن جبیر جب نرد شیر (چوسر) کھیلنے والوں کے پاس سے گزرتے تو ان کو سلام نہیں کرتے تھے۔ 

ان دلائل کی بناء پر جو شخص بار بار نرد شیر (چوسر) کھیلے ‘ اس کی گواہی مقبول نہیں ‘ عام ازیں کہ وہ جوئے کے ساتھ کھیلے یا بغیر جوئے کے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا بھی یہی قول ہے اور یہی امام شافعی کا ظاہر مذہب ہے ‘ شطرنج بھی چوسر کی طرح حرام ہے۔ 

البتہ چوسر کی حرمت زیادہ شدید ہے کیونکہ اس کی حرمت میں صریح نص وارد ہے اور شطرنج کو چوسر پر قیاس کرکے حرام کیا گیا ہے۔ قاضی ابو الحسین سے ذکر کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابن عباس (رض) سعید بن مسیب ‘ قاسم ‘ سالم ‘ عروہ ‘ محمد بن علی بن حسین ‘ وراق اور امام مالک کے نزدیک شطرنج حرام ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے اور امام شافعی کہتے ہیں کہ شطرنج مباح ہے۔ حضرت ابوہریرہ ‘ سعید بن مسیب اور سعید بن جبیر کا بھی یہی مذہب ہے ‘ ان کی دلیل یہ ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے اور شطرنج کی تحریم میں کوئی نص وارد نہیں ہے اور نہ ہی شطرنج اور نرد شیر میں کوئی علت مشترکہ ہے۔ لہذا یہ اپنی اصل پر مباح ہے ‘ نیز شطرنج سے جنگی چالوں کی مشق ہوتی ہے ‘ لہذا یہ نیزہ بازی ‘ تیراندازی اور گھوڑے سواری کے مشابہ ہے۔ 

علامہ ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میسر یعنی جوئے کو حرام کیا ہے۔ (المائدہ : ٩٠) اور حضرت علی (رض) نے شطرنج کو بھی میسر فرمایا اور شطرنج کھیلنے والے اس کھیل سے جنگی چالوں کے تربیت حاصل کرنے کا قصد نہیں کرتے ‘ ان کا اس سے قصد صرف کھیل یا جوا ہوتا ہے۔ نیز اس میں مشغول ہو کر انسان نمازوں اور خدا کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے امام احمد نے فرمایا کہ شطرنج کھیلنے والے کی شہادت بھی مردود ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر نے کہا کہ جو شخص شطرنج کو کھیلے تو یہ فعل حرام ہے اور اگر اس کو مباح سمجھنے والا کھیلے تو اس کی شہادت مسترد نہیں ہوگی ‘ الا یہ کہ اس کھیل کی وجہ سے وہ نمازوں سے غافل ہوجائے یا اس کھیل میں وہ جھوٹی قسمیں کھائے یا بازار میں بیٹھ کر کھیلے یا اس کی وجہ سے کوئی اور سستی اور بےوقعت حرکت ہو۔ یہ امام شافعی کا مذہب ہے ‘ سو شطرنج کا بھی وہی حکم ہے جو باقی مختلف فیہ مسائل کا حکم ہوتا ہے۔ (المغنی ج ١٠ ص ‘ ١٧٢۔ ١٧١ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ علاؤ الدین الحصکفی الحنفی لکھتے ہیں : 

نرد (چوسر) اور شطرنج کھیلنا مکروہ تحریمی ہے ‘ امام شافعی نے شطرنج کھیلنے کو مباح کہا ہے۔ امام ابو یوسف سے ایک روایت یہی ہے ‘ یہ اس وقت ہے جب اس میں شرط نہ لگائی جائے اور نہ اس کو کھیلنے کی عادت بنائی جائے اور نہ اس میں مشغولیت کی بناء پر کسی واجب کو ترک کیا جائے ورنہ شطرنج کھیلنا بالاجماع حرام ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٥ ص ٢٥٣۔ ٢٥٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

کرکٹ میچ کے متعلق امام احمد رضا کی ہدایت : 

مولانا اقبال احمد نوری لکھتے ہیں : 

عرصہ ٢٠ سال کا ہوا ‘ حاجی احمد حسین صاحب نے نجیب آباد میں اتفاقیہ ملاقات کے دوران ایک عجیب واقعہ بیان کیا کہ جب میں بریلی ہائی سکول میں پڑھ رہا تھا اور وہیں بورڈنگ ہاؤس میں رہتا تھا اور ہفتہ میں دو تین بار اعلی حضرت قبلہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ 

ایک مرتبہ میڑھ کی ایک ٹیم ہر جگہ سے جیت کر فائنل میچ کھیلنے بریلی آئی ‘ ہیڈ ماسٹر انگریز بھی ساتھ تھا۔ پہلے روز بریلی کی ٹیم کھیلی اور بیس رن بنا کر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی ‘ جس کے سبب بڑی سراسیمگی پیدا ہوگئی اور جیتنے کا کوئی امکان نہ رہا۔ اسی روز بعد مغرب میں اور غلام جیلانی (کہ ہم دونوں ہم سبق اور پیر بھائی تھے) اعلی حضرت قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری کیفیت بیان کی۔ اعلی حضرت قدس سرہ نے ارشاد فرمایا کہ میرٹھ اور بریلی ہر دو جگہ کے کھیلنے والے یہی امید لیے ہوئے ہیں ‘ کہ ہماری جیت ہو۔ پھر بریلی کے طلباء کی اگر امداد کی جائے جب کہ ہر دو فریق میں مسلم اور غیر مسلم طلباء موجود ہوں گے۔ 

عرض کیا ‘ ہاں حضور ‘ بات تو یہی ہے ‘ مگر ماسٹر قرب محمد صاحب جو سید ہیں ‘ حضور انہیں خوب جانتے ہوں گے۔ فرمایا ہاں ! عرض کیا ‘ وہ لڑکوں کو گیند بلا بھی کھلاتے ہیں اور ڈرل ماسٹر بھی ہیں ‘ ان کی تنخواہ میں پندرہ روپیہ ترقی اس شرط پر قرار پائی ہے کہ بریلی والے جیت جائیں ‘ فرمایا یہ بات قابل غور ہے۔ 

ارشاد فرمایا اگر میرٹھ والوں کے سولہ نمبر (رن) بنیں تو بریلی والوں کی جیت ہے۔ عرض کی جی حضور ‘ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ کل صبح جب بریلی کے لڑکے کھیلنے کے لیے چلیں تو انہیں جو مسلمان ہوں ‘ انہیں سکھا دیا جائے کہ بسم اللہ پڑھ کر قدم جمائیں اور سیدھے ہاتھ کی انگلیوں پر ‘ چھنگلیاں سے شروع کریں اور کھیعص یہ پانچ حروف ہیں ہر حرف پڑھتے جائیں اور ایک ایک انگلی بند کرتے جائیں ‘ پھر الٹے ہاتھ ہاتھ پر حمعسق “ یہ بھی پانچ حروف ہیں ‘ ہر ہر حرف پڑھتے جائیں اور ایک ایک انگلی بند کرتے جائیں ‘ جب دونوں مٹھیاں بند ہوجائیں تب سورة ” الم ترکیف “ پڑھیں ‘۔ جب ترمیھم “ پر پہنچیں تو اس کو دس بار پڑھیں اور ہر بار سیدھے ہاتھ کی ایک ایک انگلی کھولتے ‘ پھر الٹے ہاتھ کی یہاں تک دس بار ترمیھم پڑھنے دس انگلیاں کھل جائیں گی ‘ پھر بقیہ سورة (آیت) ” بحجارۃ من سجیل فجعلھم کعصف ماکول “۔ پڑھ کر اپنی جگہ جاکر کھڑے ہوجائیں اور جو لڑکا گیند پھینکے اسے سکھا دیں کہ ہر ہر مرتبہ حم ینصرون پڑھ کر گیند پھینکے۔ 

نتیجہ یہ ہوا کہ ١٦ رن بنا کر میرٹھ کے وہ سب لڑکے آؤٹ ہوگئے جو نہ معلوم کہاں کہاں سے جیت کر آئے تھے۔ 

یہ تھی اعلی حضرت قدس سرہ کی فن ریاضی ‘ کمال کہئے یا کرامت کہ۔۔۔۔۔ آپ نے ہمیشہ ایک ایسا عمل عطا فرما دیا کہ اس عمل کے ذریعہ ہر قسم کے مقابلوں میں فتح حاصل کی جاسکتی ہے ‘ بعض عاملین نے اس پر یہ کہا کہ کسی بھی قیمت پر میرٹھ والوں کے سولہ رن سے زیادہ بن ہی نہیں سکتے تھے ‘ کیونکہ اس عمل میں بھی ایک عجیب فلسفہ اور حکمت ہے۔ ” کھیعص “ میں پانچ حروف ہیں حمعسق میں پانچ حروف ہیں اور ترمیھم میں چھ حروف ہیں۔ اس طرح کل ملا کر سولہ حرف ہوئے ‘ پس اعلی حضرت نے اس عمل کے ذریعہ بندش کردی تھی۔ لہذا سولہ رن سے آگے بڑھنا اور اس سے کم ہونا ناممکن تھا۔ (شمع شبستان رضا ‘ حصہ سوم ‘ ص ٥٠۔ ٤٨‘ مطبوعہ رومی پبلیکیشنز ‘ لاہور) 

شراب پر زیادہ تفصیلی بحث شرح صحیح مسلم جلد سادس اور خامس میں ہے اور جوئے پر زیادہ تفصیلی گفتگو شرح صحیح مسلم ‘ جلد رابع اور خامس میں ہے۔ 

شراب اور جوائے کی دینی اور دنیاوی خرابیاں : 

اس آیت میں دس وجوہ سے شراب اور جوئے کی حرمت بیان کی گئی ہے : 

١) شراب اور جوئے کو بتوں اور فال کے تیروں کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور بت اور فال کے تیر حرام ہیں ‘ سو شراب اور جوا بھی حرام ہیں۔ 

(٢) شراب اور جوائے کو رجس یعنی ناپاک فرمایا ہے اور ناپاک چیز حرام ہے ‘ اس لیے شراب اور جوا بھی حرام ہیں۔ 

(٣) ان کو شیطان کا عمل فرمایا اور شیطان کا عمل حرام ہے۔ 

(٤) ان سے اجتناب کرنے کا حکم دیا اور جس سے اجتناب کرنا واجب ہو اس کا ارتکاب کرنا حرام ہے۔ 

(٥) ان سے اجتناب کرنے پر اخروی فوز و فلاح موقوف ہے اور ان کا ارتکاب فوز و فلاح کے منافی ہے اور جو چیز اخروی فوزی و فلاح کے منافی ہو ‘ وہ حرام ہے۔ 

(٦) ان کے ذریعہ شیطان تمہارے درمیان بغض پیدا کرتا ہے اور بغض حرام ہے۔ 

(٧) ان کے ذریعہ شیطان تمہارے درمیان عدوات پیدا کرتا ہے اور عداوت حرام ہے اور یہ دونوں اجتماعی ضرر ہیں۔ 

(٨) ان کے ذریعہ شیطان تمہیں اللہ کی یاد سے روکتا ہے اور جو اللہ کی یاد سے روکے ‘ وہ حرام ہے۔ 

(٩) ان کے ذریعہ شیطان تمہیں نماز سے روکتا ہے اور جو چیز نماز سے روکے ‘ وہ حرام ہے۔ 

(١٠) پھر فرمایا کیا تم باز آنے والے ہو ؟ سو شراب اور جوئے سے باز آنا فرض ہے ‘ اور ان میں مشغول ہونا حرام ہے۔ 

اسی وجہ سے حضرت عثمان (رض) نے فرمایا خمر (شراب) ام الخبائث ہے۔ (النسائی ج ٨‘ ص ٥٦٨٢) اور حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دائمی شرابی ‘ ماں باپ کا نافرمان اور احسان جتانے والا فردوس کی جنتوں میں داخل نہیں ہوگا۔ (مسند البزار ‘ ج ٣‘ ص ٢٩٣١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ دائمی شرابی تھا ‘ وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا جیسے بتوں کو پوچنے والا ہو۔ (مسند البراز ‘ ج ٣‘ ص ٢٩٣٤) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ خمر پر خمر کے پینے والے پر ‘ خمر پلانے والے پر ‘ انگور نچوڑنے والے پر ‘ شراب بنانے والے پر ‘ خمر اٹھانے والے پر اس پر جس کے لیے خمر لائی جائے ‘ خمر بیچنے والے پر ‘ خمر خریدنے والے پر اور خمر کی قیمت کھانے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (مسند البزار ‘ ج ٣ ص ٢٩٣٧) 

خمر انسان کی عقل زائل کردیتی ہے اور انسان نشہ کی حالت میں ایسے کام کرتا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کی نگاہوں میں اس کی عزت اور آبرو گر جاتی ہے اور اس کا وقار نہیں رہتا ‘ نیک کاموں کی قدرت جاتی رہتی ہے اور برائی سے دور نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ شراب نوشی سے اس کی صحت تباہ ہوجاتی ہے اور اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں ‘ اس کا اثر اس کی اولاد پر بھی پڑتا ہے اور اس کی اولاد کمزور پیدا ہوتی ہے اور اس میں کئی بیماریوں کی استعداد ہوتی ہے اور نشہ کی حالت میں انسان اپنی بیوی کو طلاق دے ڈالتا ہے اور اس سے اس کا گھر تباہ ہوجاتا ہے اور بچے ویران ہوجاتے ہیں۔ 

جوئے سے ایک فریق کو بغیر کسی محنت اور عمل کے بہت فائدہ ہوتا ہے اور دوسرا فریق ناگہانی طور پر بہت بڑے نقصان سے دو چار ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں ‘ اور بسا اوقات یہ دشمنی قتل اور خون ریزی کی طرف پہنچاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شراب اور جوئے میں شخصی اور اجتماعی اور دینی اور دنیاوی خرابیاں ہیں۔ 

انصاب اور ازلام کی تفسیر : 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا انصاب اور نصب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانوروں کو ذبح کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤٦١٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

ابوعبیدہ نے کہا نصب واحد ہے اور انصاف جمع ہے۔ ابن قتیبہ نے کہا یہ وہ پتھر ہیں جن کو گاڑ دیا جاتا تھا اور ان کے پاس جانوروں کو ذبح کیا جاتا تھا اور ان پر جانوروں کا خون ڈال دیا جاتا تھا اور انصاب نصب کی بھی جمع ہے ‘ اور اس کا معنی بت ہیں۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٧٨۔ ٢٧٧‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

ازلام کے متعلق حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں جن سے زمانہ جاہلیت میں مشرکین اپنی قسمت معلوم کرتے تھے۔ دوسروں نے کہا زلم اس تیر کو کہتے ہیں جس میں پر نہ ہو ‘ یہ واحد ہے اور اس کی جمع ازلام ہے۔ اور استسقام (قسمت طلب کرنا) یہ ہے کہ تیر کو گھمایا جائے۔ اگر وہ کسی کام سے منع کرے تو رک جائے ‘ اور اگر کسی کام کا حکم دے تو اس کو کرے ‘ انہوں نے تیروں پر مختلف قسم کی علامتیں بنائی ہوئی تھیں جن کے ذریعہ وہ قسمت معلوم کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤٦١٥‘ مطبوعہ بیروت) 

صحیح البخاری کی حدیث الہجرت میں مذکور ہے کہ سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کا پیچھا کیا تو میں نے تیر سے قسمت معلوم کی ‘ آیا مجھے نفع ہوگا یا نقصان تو وہی نکلا جس کو میں ناپسند کرتا تھا۔ (ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٩٠٦) امام ابن جریر نے کہا زمانہ جاہلیت میں وہ تین قسم کے تیروں پر اعتماد کرتے تھے۔ ایک پر لکھا ہوتا تھا ” کام کرو “ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ” نہ کرو “ اور تیسرا سادہ ہوتا تھا ‘۔ فرا نے کہا ایک پر لکھا ہوتا تھا ” میرے رب نے حکم دیا ہے “ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ” میرے رب نے منع کیا “۔ اور تیسرا سادہ ہوتا تھا۔ جب ان میں سے کوئی شخص کام کرنا چاہتا تو وہ تیر سے فال نکالتا۔ امام ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ قریش کا سب سے بڑا بت ھبل تھا ‘ یہ کعبہ کے درمیان میں نصب تھا ‘ اس کے پاس تیر رکھے ہوتے تھے۔ جب انہیں کوئی مہم درپیش ہوتی تو وہ ان تیروں سے فال نکالتے اور جس قسم کا تیر نکلتا اس پر عمل کرتے۔ 

میں کہتا ہوں کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ انفرادی طور پر تیروں کا نہ استعمال کرتے ہوں ‘ جس طرح سراقہ نے کیا تھا ‘ امام ابن جریر طبری نے سعید بن جریر سے روایت کیا ہے کہ ازلام سفید کنکریاں تھیں اور مجاہد سے نقل کیا ہے کہ وہ پتھر تھے ‘ جن پر کچھ لکھا ہوا تھا ‘ اور وہ اپنے ہر سفر میں خواہ وہ سفر جنگ کا ہو یا تجارت کا ‘ ان پتھرون کے ساتھ سفر کرتے تھے ‘ یہ تفسیر اس پر محمول ہے کہ وہ کعبہ والے ازلام کے علاوہ تھے۔ محدثین کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے ازلام (فال نکالنے کے تیر) تین قسم کے تھے۔ 

(١) یہ تین قسم کے تیر تھے اور یہ ہر ایک کے پاس تھے۔ 

(٢) یہ احکام کے تیر تھے اور یہی کعبہ میں تھے اور یہ عرب کے ہر حاکم اور کاہن کی دسترس میں ہوتے تھے ‘ یہ تیر سات قسم کے تھے اور ان پر قصاص اور دیت وغیرہ کے احکام لکھے ہوئے تھے اور ایسے امور جو بہ کثرت پیش آتے تھے۔ 

(٣) یہ جوئے کے تیر تھے ‘ یہ دس قسم کے تھے ‘ سات دھاری دار تھے اور تین سادہ تھے اور وہ ان تیروں کے جوا کھیلتے تھے۔ 

ابوعبیدہ نے کہا قسمت معلوم کرنے یا فال نکالنے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ تیر کو گھماتے تاکہ ان کی قسمت معلوم ہو۔ آیا وہ سفر کریں یا نہ کریں ‘ جنگ میں جائیں یا نہ جائیں اور جو کچھ لکھا ہوا نکلتا اس کے مطابق عمل کرتے۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٢٧٨۔ ٢٧٧‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

ازلام کی تفسیر میں مزید مباحث اور مسائل اسی سورت کی آیت نمبر ٣ میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 90