پیر افضل قادری صاحب کے استعفے سے متعلق بر وقت زبردست تحریر )

(رائیٹر کے شکریہ کے ساتھ) 

سالم فياض احمد

ایک عہد جو تمام ہوا

عاصیہ ملعونہ رہائی دھرنوں کے بعد ہونے والے ملک گیر آپریشن میں تحریک کی مرکزی قیادت سے لے کر یونین کونسل لیول کی قیادت اور کارکنان کو جب پابند سلاسل کیا گیا تو پیر افضل قادری صاحب پر اپنے بیگانوں سب نے تنقید کے نشتر برسائے حالانکہ تحریک کی مرکزی قیادت اور مقتدر کارکنان پیر صاحب کیساتھ آج تک کھڑے ہیں لیکن کچھ ڈپلائی کئے گئے فسادیوں نے ملک گیر آپریشن اور مہینوں بلاوجہ قید و بند کو پیر صاحب کی ایک تقریر سے جوڑا، جنہوں نے پیر صاحب کے موقف کو شرعی طور پر درست بھی قرار دیا انہوں نے بھی انکے فعل کو غیر ضروری قرار دیا اور اس طرح کے کام کو حکمت سے عاری کام قرار دیا 

خیر، پیر صاحب اور انکے احباء پچھلے 6 مہینوں سے سخت پریشر میں رہے، بالآخیر ہزاروں کارکنان اور مرکزی قیادت کی گرفتاری کی ذمہ داری کا اخلاق بھار آج پیر صاحب نے اتار پھینکا، تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے بانیان میں سے ایک بڑا نام پیر افضل قادری صاحب دوران قید شدید علالت کی وجہ سے ہسپتال داخل ہیں ظاہراً انہوں نے دل اور گردہ کے مستقل عارضہ اور ان کنٹرولڈ بلڈ پریشر کی وجہ سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے تحریک کی عملی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کرکے طاقتور حلقوں کو مجبور کردیا کہ اب تحریک لبیک کیساتھ بھی قانونی رویہ اپنایا جائے کیونکہ طاقتور حلقے اور انکے مسند حکومت پر بٹھائے گئے لوگ تحریک لبیک کے خلاف بلاجواز آپریشن کے جواز کیلئے بطور شیلڈ جس پیر افضل قادری کے بیان کو استعمال کرتے رہے وہ پیر افضل قادری اعلانیہ طور پر اب تحریک سے نہ صرف لاتعلق ہوچکے ہیں بلکہ انہوں نے آرمی اور عدلیہ کے بارے میں اپنے بیان پر معذرت کرکے اس بدنامی کا بھار بھی اپنے کاندھوں پر لے لیا کہ اب جو لوگ انکے اس بیان کو غیر ضروری کہتے تھے وہ بھی کہیں گے کہ جب معذرت ہی کرنی تھی تو بیان دیا ہی کیوں تھا 

تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کی قیادت پہلے بھی شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی ہی کررہے تھے لیکن ان کے ایک دلیر اور دیرینہ ساتھی کو حالات کے جبر نے ان سے الگ کردیا ہے ، علامہ رضوی کو جن دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے انہیں دفعات پر قید ان کے ساتھی ہفتوں پہلے ضمانت کرواچکے ہیں، جب کہ علامہ کی درخواستِ ضمانت کی سماعت کی جب تاریخ آتی ہے تو کبھی بلاوجہ چھٹی ہوجاتی ہے، کبھی بینچ ٹوٹ جاتا ہے اور کبھی سنے بغیر تاریخ دےدی جاتی ہے، ممکن ہے کہ وہ پیر صاحب کو جھکانے سے پہلے علامہ رضوی کو طاقتور حلقے چھوڑنا نہیں چاہتے تھے اور علامہ رضوی کی ظاہری معذوری کے ساتھ قید،انکی بگڑتی صحت، عدالتوں میں مسلسل اور واشگاف نا انصافی، اسیر کارکنان کے ورثاء کی اموات کی خبروں، پیر صاحب کے سوشل میڈیا ٹرائل کے ذریعے انہیں اس سب کا ذمہ دار قرار دینا شاید پیر صاحب کو جھکانے کیلئے بطورِ ہتھیار استعمال ہوئے ہیں

میرے سمیت تحریک لبیک کے لاکھوں کےسیاسی مرشد علامہ خادم حسین رضوی صاحب تھے ہیں اور رہیں گے پیر افضل قادری صاحب نے علالت کے باعث تحریک کی عملی جدوجہد علیحدگی کا اعلان کیا ہے نا کہ تحریک لبیک کو خیر آباد کہا ہے

مصلحت کا تقاضہ بھی یہ ہی تھا پیر افضل قادری صاحب تحریک کی عملی جدوجہد سے علیحدہ ہو جائیں

سیاسی لحاظ سے پیر صاحب کے استعفیٰ کی مصلحت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اغیار کی وجہ سے آپس میں الجھا جائے 

پیر صاحب نے تیر کمان سے بلکل مناسب وقت پر اور نشانے پر چھوڑا ہے

اور جو مخالفین آج پیر صاحب کے استعفیٰ پر خوش ہورہے ہیں آنے والے وقت میں ان کی چیخیں مریخ تک سنائی دیں گی 

رہی بات ہماری TLP کی تو یہ امیر المجاہدین کی تھی ہے اور رہے گی مخالفین جتنا مرضی پراپگینڈہ کر لیں ہم نے پہلے کبھی ختم نبوت و ناموس رسالت پر سمجھوتا کیا ہے نا اب کریں گے کیونکہ یہ ہماری سیاست کا نہیں ایمان کا مسئلہ ہے

غیر مصدقہ اطلاعات کچھ یوں بھی ہیں کہ یہ پیپر پیر افضل قادری کو پڑھنے کے لیے دیا گیا تھا جب پیر افضل قادری پڑھ رہے تھے تو ویڈیو بنا لی گئی اور فیس بک پر اپ لوڈ کردی گئی لہذا پیر افضل قادری اپنے موقف پر اڑے ہوئے ہیں

اطلاعات کے مطابق مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس جاری ہے اس کے بعد اصل صورت حال۔واضح ہوگی۔

لبیک والو پیر صاحب اس وقت جن کے قبضے میں ہیں انکی صلاحیتوں کی تعریف پوری دنیا کرتی ہے جو ذیشان کو اک تصویر کی بنیاد پہ دہشگرد ثابت کرسکتے ہیں اور ابھی نندن کو رہا بھی کرسکتے ہیں کیوں کہ انکی لاٹھی اور انکی بھینس ہے اس وقت۔ اب آپ خود سوچیں یہی بیان اگر دینا ہوتا تو پیر صاحب 5 ماہ سے زیادہ تکلیف کیوں برداشت کرتے بھائیو ہماری ایجنسیاں نمبر ون ہیں الحمداللہ

لیکن افسوس اس وقت ہمارے ہی خلاف بلکہ اسلام ناموس رسالت اور ختم نبوت کے خلاف استعمال ہورہی ہیں۔۔۔جو کلبھوشن سے بھارت کے خلاف بیان دلوا دیں وہ پیر صاحب سے کیا کیا نہیں کہلوا سکتے۔۔کوئی پتا نہیں پیر صاحب کو جب ہوش آئے تو انہیں خود نا پتا ہو کہ انہوں نے کیا بیان دیا۔۔۔