اِنَّ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِ   وَ  اخْتِلَافِ  الَّیْلِ  وَ  النَّهَارِ  لَاٰیٰتٍ  لِّاُولِی  الْاَلْبَابِۚۙ(۱۹۰)

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لیے (ف۳۷۶)

(ف375)

صانع قدیم علیم حکیم قادر کے وجود پر دلالت کرنے والی۔

(ف376)

جن کی عقل کدورت سے پاک ہو اورمخلوقات کے عجائب و غرائب کو اعتبار و استدلال کی نظر سے دیکھتے ہوں۔

الَّذِیْنَ  یَذْكُرُوْنَ  اللّٰهَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰى  جُنُوْبِهِمْ  وَ  یَتَفَكَّرُوْنَ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  هٰذَا  بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ  فَقِنَا  عَذَابَ  النَّارِ(۱۹۱)

جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے

(ف377)

یعنی تمام احوال میں مسلم شریف میں مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام احیان میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے بندہ کاکوئی حال یا دِالٰہی سے خالی نہ ہونا چاہئے حدیث شریف میں ہے جو بہشتی باغوں کی خوشہ چینی پسند کرے اسے چاہئے کہ ذکر الٰہی کی کثرت کرے۔

(ف378)

اور اس سے ان کے صانع کی قدرت و حکمت پر استدلال کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ۔

(ف379)

بلکہ اپنی معرفت کی دلیل بنایا۔

رَبَّنَاۤ  اِنَّكَ  مَنْ  تُدْخِلِ  النَّارَ  فَقَدْ  اَخْزَیْتَهٗؕ-وَ  مَا  لِلظّٰلِمِیْنَ  مِنْ  اَنْصَارٍ(۱۹۲)

اے رب ہمارے بے شک جسے تو دوزخ میں لے جائے اُسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

رَبَّنَاۤ  اِنَّنَا  سَمِعْنَا  مُنَادِیًا  یُّنَادِیْ  لِلْاِیْمَانِ  اَنْ  اٰمِنُوْا  بِرَبِّكُمْ  فَاٰمَنَّا  ﳓ  رَبَّنَا  فَاغْفِرْ  لَنَا  ذُنُوْبَنَا  وَ  كَفِّرْ  عَنَّا  سَیِّاٰتِنَا  وَ  تَوَفَّنَا  مَعَ  الْاَبْرَارِۚ(۱۹۳)

اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لیے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے توہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱)

(ف380)

اس منادی سے مراد یا سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کی شان میں ” دَ اعِیاً اِلیَ اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ ” وارد ہے یا قرآن کریم۔

(ف381)

انبیاء و صالحین کے کہ ہم ان کے فرماں برداروں میں داخل کئے جائیں۔

رَبَّنَا  وَ  اٰتِنَا  مَا  وَعَدْتَّنَا  عَلٰى  رُسُلِكَ  وَ  لَا  تُخْزِنَا  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّكَ  لَا  تُخْلِفُ  الْمِیْعَادَ(۱۹۴)

اے رب ہمارے اور ہمیں دے وہ (۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوںکی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر بے شک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا

(ف382)

وہ فضل و رحمت۔

فَاسْتَجَابَ  لَهُمْ  رَبُّهُمْ  اَنِّیْ  لَاۤ  اُضِیْعُ  عَمَلَ  عَامِلٍ  مِّنْكُمْ  مِّنْ  ذَكَرٍ  اَوْ  اُنْثٰىۚ-بَعْضُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْضٍۚ-فَالَّذِیْنَ  هَاجَرُوْا  وَ  اُخْرِجُوْا  مِنْ  دِیَارِهِمْ  وَ  اُوْذُوْا  فِیْ  سَبِیْلِیْ  وَ  قٰتَلُوْا  وَ  قُتِلُوْا  لَاُكَفِّرَنَّ  عَنْهُمْ  سَیِّاٰتِهِمْ  وَ  لَاُدْخِلَنَّهُمْ  جَنّٰتٍ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا  مِّنْ  عِنْدِ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عِنْدَهٗ  حُسْنُ  الثَّوَابِ(۱۹۵)

تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے

(ف383)

اور جزائے اعمال میں عورت و مرد کے درمیا ن کوئی فرق نہیں۔

شانِ نزول:ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہجرت میں عورتوں کاکچھ ذکر ہی نہیں سنتی یعنی مردوں کے فضائل تو معلوم ہوئے لیکن یہ بھی معلوم ہو کہ عورتوں کو بھی ہجرت کاکچھ ثواب ملے گااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انکی تسکین فرمادی گئی کہ ثواب عمل پر مرتب ہے عورت کاہویا مردکا۔

(ف384)

یہ سب اللہ کافضل وکرم ہے۔

لَا  یَغُرَّنَّكَ  تَقَلُّبُ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْا  فِی  الْبِلَادِؕ(۱۹۶)

اے سننے والے کافروں کاشہروں میں اہلے گہلے(اتراتے) پھرنا ہر گز تجھے دھوکا نہ دے(ف۳۸۵)

(ف385)

شانِ نزول: مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ کے دشمن تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی و مشقت میں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیاکہ کفّار کا یہ عیش متاع قلیل ہے اور انجام خراب۔

مَتَاعٌ  قَلِیْلٌ- ثُمَّ  مَاْوٰىهُمْ  جَهَنَّمُؕ-وَ  بِئْسَ   الْمِهَادُ(۱۹۷)

تھوڑا برتناہے پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھونا

لٰكِنِ  الَّذِیْنَ  اتَّقَوْا  رَبَّهُمْ  لَهُمْ  جَنّٰتٌ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُ  خٰلِدِیْنَ  فِیْهَا  نُزُلًا  مِّنْ  عِنْدِ  اللّٰهِؕ-وَ  مَا  عِنْدَ  اللّٰهِ  خَیْرٌ  لِّلْاَبْرَارِ(۱۹۸)

لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچی نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی مہمانی اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکیوں کے لیے سب سے بھلا (۳۸۶)

(ف386)

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے اقد س میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سلطان کونین ایک بوریئے پر آرام فرماہیں چمڑہ کا تکیہ جس میں ناریل کے ریشے بھرے ہوئے ہیں زیر سر مبارک ہے جسم اقدس میں بوریئے کے نقش ہو گئے ہیں یہ حال دیکھ کر حضرت فاروق رو پڑے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبب گریہ دریافت کیاتو عرض کیا کہ یارسول اللہ قیصر و کسرٰی تو عیش و راحت میں ہوں اور آپ رسول خدا ہو کر اس حالت میں ۔فرمایا کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ۔

وَ  اِنَّ  مِنْ  اَهْلِ  الْكِتٰبِ  لَمَنْ  یُّؤْمِنُ  بِاللّٰهِ  وَ  مَاۤ  اُنْزِلَ  اِلَیْكُمْ  وَ  مَاۤ  اُنْزِلَ  اِلَیْهِمْ  خٰشِعِیْنَ  لِلّٰهِۙ-لَا  یَشْتَرُوْنَ  بِاٰیٰتِ  اللّٰهِ  ثَمَنًا  قَلِیْلًاؕ-اُولٰٓىٕكَ  لَهُمْ  اَجْرُهُمْ  عِنْدَ  رَبِّهِمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  سَرِیْعُ  الْحِسَابِ(۱۹۹)

اور بے شک کچھ کتابی ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) اُن کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے

(ف387)

شانِ نزول: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت نجاشی بادشاہِ حبشہ کے باب میں نازل ہوئی ان کی وفات کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا چلو اور اپنے بھائی کی نماز پڑھو جس نے دوسرے ملک میں وفات پائی ہے حضور بقیع شریف میں تشریف لے گئے اور زمین حبشہ آپ کے سامنے کی گئی اور نجاشی بادشاہ کاجنازہ پیش نظر ہوا اس پر آپ نے چار تکبیروں کے ساتھ نماز پڑھی اور اس کے لئے استغفار فرمایا۔ سبحان اللہ ۔ کیا نظر ہے کیا شان ہے سرزمین حبشہ حجاز میں سامنے پیش کردی جاتی ہے منافقین نے اس پر طعن کیا اور کہا دیکھو حبشہ کے نصرانی پر نماز پڑھتے ہیں جس کو آپ نے کبھی دیکھابھی نہیں اور وہ آپ کے دین پر بھی نہ تھااس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔

(ف388)

عجزو انکسار اور تواضع و اخلاص کے ساتھ۔

(ف389)

جیسا کہ یہود کے رؤساء لیتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اصْبِرُوْا  وَ  صَابِرُوْا  وَ  رَابِطُوْا-وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

اے ایمان والو صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہواس امید پر کہ کامیاب ہو

(ف390)

اپنےدین پر اور اس کو کسی شدت و تکلیف وغیرہ کی وجہ سے نہ چھوڑو صبر کے معنٰی میں حضرت جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ صبر نفس کو ناگوار امر پر روکناہے بغیر جزع کے بعض حکماء نے کہا،صبر کی تین قسمیں ہیں۔

(۱) ترک شکایت (۲) قبول قضا(۳) صدوق رضا