سؤال:

کیا سونے والے أور جاگنے والے کے أحکام میں فرق ہے ؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

سونے والے أور جاگنے والے کے أحکام میں فرق ہوتا ہے

لیکن کچھ مسائل میں فرق نہیں جیسے

ابن نجیم الحنفی فرماتے ہیں :

الولوالجی أپنے فتاوی کے آخر میں فرماتے ہیں:

25 مسائل میں سونے والے کا حکم جاگنے والے کی طرح ہے:

نمبر 1 :

سونے والا سیدھا ہوکر سویا ہوا ہے ، أور منہ أسکا کھلا ہے أگر اس حالت میں أسکے منہ میں بارش کے پانی کا قطرہ یا کوئی أسکے منہ میں پانی کا قطرہ ڈال دے أور وہ جوف تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا.

نمبر 2 :

أگر کوئی أپنی سوئی ہوئی بیوی سے جماع کرلے تو بیوی کا روزہ ٹوٹ جائے گا.

نمبر 3 :

أگر أسکی بیوی حالت إحرام میں سوئی ہوئی ہو أور وہ أسکے ساتھ جماع کرلے تو بیوی پر کفارہ لازم آئے گا.

نمبر 4 :

أگر محرم ( حالت إحرام میں) سو رہا تھا أور کسی نے أسکے سر کا حلق کردیا تو أس پر جزاء واجب ہوگی.

نمبر 5 :

أگر سویا ہوا محرم ( إحرام کی حالت میں) أور وہ کسی پرندہ وغیرہ پر کرگیا أور أس کے گرنے سے وہ پرندہ مر گیا تو جزاء واجب ہوگی.

نمبر 6 :

أگر محرم یعنی جو حالت إحرام میں ہے وہ سواری پر سوار ہوکر سوئے ہوئے عرفات میں داخل ہوگیا تو أس نے حج کو پالیا ( یعنی وقوف عرفہ صحیح ہوا).

نمبر 7 :

أگر إحرام میں سوئے ہوئے شخص کے پاس کوئی أیسا پرندہ گرا جسکا شکار کیا گیا ہو أور وہ أس سے مرگیا تو سونے والے پہ أسکا کھانا حرام ہے جیسے جاگنے والے پہ ہوتا ہے.

نمبر 8 :

أگر سونے والا کسی کے سامان پہ گرا أور أس نے أس سامان کو توڑ دیا ( نقصان پہنچایا) تو وہ ضمان دے گا ( نقصان پورا کرے گا).

نمبر 9 :

أگر والد دیوار کے نیچے سویا ہوا تھا ، أور چھت پہ أسکا بیٹا سویا ہوا تھا أور وہ والد پہ گرا أور والد فوت ہوگیا تو بیٹا میراث سے محروم ہوجائے گا یہی قول صحیح ہے.

نمبر 10 :

جس نے سوئے ہوئے شخص کو اٹھایا أور دیوار کے نیچے ( دیوار کے ساتھ) رکھا أور أس پہ دیوار گر گئی أور وہ فوت ہوگیا تو وہ ضامن نہیں ہوگا.

نمبر 11 :

شخص نے أپنی بیوی سے خلوت کی أور وہاں کوئی أجنبی شخص سویا ہوا تھا تو خلوت صحیح نہیں ہوگی.

نمبر 12 :

ایک شخص أپنے گھر میں سویا ہوا تھا پس أسکی بیوی اسکے پاس آئی أور کچھ دیر وہاں ٹھری تو خلوت صحیح ہوگی.

نمبر 13 :

إسی طرح أگر بیوی سوئی ہوئی تھی أور أسکا خاوند أسکے پاس آکر کچھ دیر ٹھرا تو خلوت صحیح ہوگی.

نمبر 14 :

عورت سوئی ہوئی تھی أسی حالت میں کسی کے بچے نے دودھ پی لیا أسکا تو أسکی رضاعت ثابت ہوجائے گی.

نمبر 15 :

أگر تیمم والا شخص سونے کی حالت میں أسکی سواری پانی پر سے گذری أور أسکا استعمال بھی ممکن تھا تو أسکا تیمم ٹوٹ جائے گا .

(حموی تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: مصنف نے بحر میں تیمم نہ ٹوٹنے پر اتفاق ذکر کیا ہے . مزید تعلیق کے لیے غمز عیون البصائر کا مطالعہ فرمائیں)

نمبر 16 :

نماز کی حالت میں سویا ہوا شخص أگر کلام کردے تو نماز باطل ہو جائے گی.

نمبر 17 :

سویا ہوا نمازی أگر قیام میں قراءت کرے تو وہ أسکی قراءت شمار ہوگی.

( حموی تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: کبری میں ہے کہ مختار قول کے مطابق وہ قراءت نہیں ہوگی کیونکہ اختیار عبادت میں شرط ہے أور وہ موجود نہیں. غمز عیون البصائر)

نمبر 18:

سونے والے شخص نے حالت نوم میں آیت سجدہ تلاوت کی تو سننے والے پہ سجدہ تلاوت کرنا لازم ہوگا.

نمبر 19 :

أگر یہ سوئے ہوئے شخص کو کوئی بتادے کہ تونے آیت سجدہ تلاوت کی تھی تو بعض اقوال میں ہے کہ أس پر بھی سجدہ تلاوت واجب ہوجائے گا ، إسی طرح کوئی أور شخص سوئے ہوئے شخص کے پاس آیت سجدہ تلاوت کرے تو وہ منتبہ ہوجائے أور أسکو خبر دے تو أسکا بھی یہی حکم ہوگا ( سجدہ تلاوت کرے گا)

( حموی تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: بعض اقوال میں جو سجدہ تلاوت واجب کہا گیا ہے وہی صحیح ہے میرے نزدیک احتیاطا . غمز عیون البصائر ).

نمبر 20 :

ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ میں فلاں شخص سے کلام نہیں کرونگا تو وہ فلاں شخص سو رہا تھا ، أور أس نے آکر اس کے پاس کلام کیا أور أس سے کہا: أٹھو أور وہ نہیں أٹھا تو بعض کہتے ہیں قسم نہیں ٹوٹے گی ، أور أصح یہ ہے کہ قسم ٹوٹ جائے گی.

نمبر 21 :

شخص نے أپنی بیوی کو طلاق رجعی دی ہوئی تھی تو جب وہ سوئی ہوئی تھی تو أسکے پاس آیا أور أسکو شھوت کے ساتھ مس کیا تو رجوع ہوجائے گا.

نمبر 22 :

إسی طرح أگر عورت أسکے پاس آئی أور شہوت کے ساتھ بوسہ لیا تو بھی رجوع ہوجائے گا حضرت أبو یوسف کے ہاں ، إمام محمد کے ہاں نہیں ہوگا.

نمبر 23 :

أگر مرد سویا ہوا تھا أور کوئی عورت آئی ، أس نے أپنی شرمگاہ کو أس شخص کی شرمگاہ میں داخل کردیا أور أس شخص کو علم تھا تو مصاہرت ثابت ہوجائے گی.

نمبر 24 :

إسی طرح کوئی عورت سونے والے شخص کے پاس آئی أور أس عورت نے شہوت کے ساتھ بوسہ لے لیا ، أور دونوں کا اتفاق اس بات پہ ہوا کہ بوسہ شہوت کے ساتھ تھا تو حرمت ثابت ہوجائے گی.

نمبر 25 :

نمازی نماز میں سویا ہوا تھا تو احتلام ہوگیا تو غسل واجب ہوجائے گا. لہذا نماز کی بناء ممکن نہ ہوگی ، أور إسی طرح أگر وہ ایک دن رات یا دو دن دو راتیں سویا رہا تو نماز أسکے ذمہ قرض ہوگی..

( الأشباہ والنظائر لابن نجیم مع غمز عیون البصائر للحموی ، الفن الثالث ، النائم کالمستیقظ ، 3/369 )