آئن سٹائن بمقابلہ امام احمد رضا بریلوی ر حمتہ اللہ علیہ

کل ایک صاحب کہنے لگے آئن سٹائن اگرچہ مسلمان نہیں تھا لیکن وہ علم کے لحاظ سے سب مسلمان سائنسدانوں پہ بھاری تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ لاکھوں سلام ہوں بریلی کے شاہ تجھ پر تو نے اس زمانے میں اس کا رد کیا جب ساری دنیا سمیت مسلمانوں کے اس کی قائل ہو چکی تھی

“زمین سورج کے گرد گھومتی ہے”

آئن سٹائن نے جب یہ بات چند دلائل سے کی تو ہر طرف کہرام مچ گیا امام صاحب کے ایک شاگرد نے خط لکھا کہ سائنس کہتی ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اب آپ قرآن سے یہ بات ثابت کریں تا کہ ہم کہ سکیں کہ جو تم آج ثابت کر رہے قرآن میں پہلے سے موجودہے

پھر دنیا نے دیکھا جب مسلمانوں کے بڑے بڑے سائنسدان مان رہے تھے مسلمانوں کے ایک رہنما نے انکار کر دیا اور فتاوی رضویہ میں قرآن و حدیث سے دلائل دیئے کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی

جب علماء نے قرآن و حدیث کے دلائل پڑھے تو سر جھکا لیا

اب مسئلہ غیر مسلم سائنسدانوں کو مطمئن کرنے کا تھا

امام صاحب نے اس زمانے میں ایک کتاب لکھی جس کا نام “الفوز المبین” ہے اور آئن سٹائن کے چند دلائل کے جواب میں 105 ناقابل تسخیر سائینٹیفک دلائل دے کر ثابت کیا کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی

وقت گزرا مجدد وقت وصال فرما گئے ان کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ان کی وفات کے دس سال بعد اس کتاب کو جرمنی بھیجا گیا وہاں کے 100 سائنسدانوں نے جب ان دلائل کا مطالعہ کیا تو آئن سٹائن کا رد کرتے ہوئے ایک کتاب لکھی

“100 Authors Against Einstein”

کچھ عرصہ قبل گلیکسو کے ایک سائنسدان نے بھی کتاب لکھی جس میں کہا کہ سائنس کو اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے

میں بذات خود سائنس کا سٹوڈنٹ ہوں میرے پاس امام صاحب کی کتاب موجود ہے ان کے دلائل کا کسی طرح رد نہیں کیا جا سکتا

105 دلائل تو دور کی بات ہے 1 دلیل بھی ایسی نہیں جس کا رد کیا جا سکے

پاکستان کے مانے جانے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جنگ نیوز میں کالم چھپا تھا جہاں پر انہوں نے امام صاحب کی تحقیق کی تعریف کی

سائنس تو نہ جانے کتنے سال لگا دے تب جا کے ثابت ہو کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی پر مسلمانوں کا امام ایک کچے مکان میں بیٹھ کر یہ بتا گیا کہ زمین سورج کے گرد نہیں گھومتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کہتی ہے بلبل باغ جناح

کہ رضا کی طرح کوئ سحر بیاں

نہیں ہند میں واصف شاہ خدا

مجھے شوخی تبع رضا کی قسم

copied