امام عبداللہ بن مبارک

نام و نسب:۔ نام، عبداللہ ۔ والد کا نام مبارک۔ کنیت، ابو عبد الرحمن ہے ۔ حنظلی تمیمی ہیں ، آپکے والد ترکی النسل تھے، اور قبیلہ نبو حنظلہ جو اہل ہمدان سے تعلق رکھتا تھا اسکے آزاد کر دہ غلام، آپ کی والدہ خوارزمیہ تھیں۔والد محترم نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور اس میدان میں خوب شہرت حاصل کی۔

ولا دت و تعلیم:۔ آپ کی ولادت ۱۱۸ ھ مرو میں ہوئی ، والدین نے اپنے اس ہونہارفرزند کی بڑے اہتمام سے تعلیم و تربیت کی ۔

سب سے پہلے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ قدس سرہ کے حلقۂ درس میں شامل ہوئے اور فقہ میں عبور حاصل کیا ۔۔

اس کے بعد طلب علم حدیث میں دور دراز مقامات کی سیر کی اور بے شمار ائمہ حدیث سے اکتساب علم کیا۔ آپ کے ذوق علمی میں یہ واقعہ مشہو ر ہے۔

ایک مرتبہ والد ماجد نے آپ کو پچاس ہزار درہم تجارت کے لئے دئیے تو تمام رقم طلب حدیث میں خرچ کر کے واپس آئے، والد ماجد نے درہموں کی بابت دریافت کیا تو آپ نے جس قدر حدیث کے دفتر لکھے تھے والد کے حضور پیش کر دئیے اور عرض کیا: میں نے ایسی تجارت کی ہے جس سے ہم دونوں کو دونوں جہان کا نفع حاصل ہوگا۔ والد ماجد بہت خوش ہوئے، تیس ہزار درہم اور عنایت کر کے فرمایا: جاؤ علم حدیث اور فقہ کی طلب میں خرچ کر کے اپنی تجارت کامل کر لو۔

علم و فضل :۔ ایک مرتبہ بزرگوں کی ایک جماعت کسی مقام پر اکٹھی ہوئی ، کسی نے کہا: آؤحضرت عبد اللہ بن مبارک کے کمالات شمار کریں ، انہوں نے جواب دیا: بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔علم فقہ، حدیث، ادب نحو، میں ید طولی رکھتے تھے۔ زہد و شجاعت میں لاجواب تھے، نعت گو شاعر اور ادیب تھے۔ شب بیداری، عبادت، حج، جہاد، اور شہسواری میں اپنی نظیر آپ تھے۔ لا یعنی باتوں سے اپنا وقت ضائع نہیں کر تے تھے، نہایت منصف مزاج اور رحم دل تھے۔

امام سفیان ثوری فرماتے ہیں :۔

میں کتنی ہی کوشش کروں کہ سال بھر میں ایک دن حضرت عبد اللہ بن مبارک کی طرح گزاروں تو نہیں گزار سکتا۔

شعیب بن حرب کہتے ہیں :۔

ایک سال یا تین دن بھی پورے سال میں حضرت عبد اللہ کی طرح نہیں گزار سکتا۔

نیز فرماتے ہیں :۔

ابن مبارک جس سے بھی ملے اس سے افضل ہی ثابت ہوئے۔

امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں :۔

صحابہ کرام کو بلا شبہ فضل صحابیت حاصل تھا ورنہ دوسرے خصائل میں آپ کا مقام نہایت بلند ہے۔

سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں :۔

مشرق میں ان جیسا پھر کوئی نظر نہ آیا۔

امام ابن معین فرماتے ہیں :۔

آپ احادیث صحاح کے حاظ تھے، بیس ہزار یا اکیس ہزار حدیث کی کتابوں سے آپ احادیث روایت فرماتے ہیں۔

اسمعیل بن عیاش کہتے ہیں :۔

ابن مبارک جیسا روئے زمین پر کوئی دوسرا نہیں ، اللہ تعالیٰ کی پیدا کر دہ ہر خوبی کے جامع تھے، فقراء پر جب خرچ فرماتے تو ایک سال میں ایک لاکھ درہم تک خرچ کر دیتے تھے۔

ایک مرتبہ حج کے لئے تشریف لئے جا رہے تھے، قافلہ والوں کا ایک پرند مر گیا ، ایک بستی کے کو ڑا خانہ میں لوگوں نے اسے پھینک دیا پھر قافلہ تو آگے بڑھ گیا ۔ آپ کچھ دیر سے چلے ، دیکھا کہ ایک لڑکی اس مردار پرند کو اٹھا کر لے گئی اور تیز قدم چل کر ایک مکان میں داخل ہو گئی ۔ آپ اس کے گھر کی طرف تشریف لے گئے، حال معلوم ہوا اور مردار پرند کو لانے کا سبب پوچھا، اس لڑکی نے کہا : میں اور میرا بھائی یہاں رہتے ہیں ، ہمارے پاس کچھ نہیں فقط ستر پوشی کے لئے یہ تہبند ہے ، اور اب ہماری خوراک صرف یہ ہی رہ گئی ہے کہ ان گھوروں سے جو چیز بھی مل جائے۔ ہمارے لئے ان حالات میں یہ مردار بقدر ضرورت حلال ہے، ہمارے والد مالدار تھے، ان پر ظلم ہوا اور قتل کر دئیے گئے اور سارا مال ظالم لے گئے۔

امام ابن مبارک یہ سن کر نہایت متاثر ہوئے ، اپنے خازن سے فرمایا: فی الحال زاد راہ میں کیا باقی رہا ہے، اس نے عرض کیا: ایک ہزار دینار۔ آپ نے فرمایا: بیس دینار لے لو کہ اپنے وطن مرو تک پہونچنے کے لئے کافی ہیں اور باقی ۹۸۰ دینار اس مظلومہ کو دو۔ اس سال ہمیں حج کے مقابلہ میں یہ اعانت و امداد بہتر ہے اور وہیں سے واپس وطن تشریف لے آئے۔

جب حج کا موسم آتا تو اپنے ساتھیوں سے کہتے: تم میں امسال کون حج کو جانا چاہتا

ہے ، جو ارادہ رکھتا ہو وہ اپنا زاد راہ میرے پاس لا کر جمع کر لے تاکہ میں راستہ میں اس پر خرچ کر تا چلوں، لہذا سب سے دراہم و دنانیر کی تھیلیاں جمع کر تے ، ہر تھیلی پر اسکا نام لکھتے اور ایک صندوق میں رکھتے جاتے۔

پھر سب کو ساتھ لیکر نکلتے اور ا نکے زاد راہ کی نسبت زیادہ خرچ کر تے ہوئے انکو ساتھ لیجاتے، جب حج بیت اللہ سے فارغ ہوتے تو پوچھتے: تمہارے گھر والوں نے کچھ یہاں کے تحائف کی فرمائیش کی ہے ، جسکو جیسی خواہش ہوتی انکو مکی اور یمنی تحائف دلواتے، پھر مدینہ منورہ حاضری دیتے اور وہاں بھی ایسا ہی کر تے۔

جب تمام حجاج کرام واپس ہو تے تو انکو انکے گھر واپس فرماتے اور خود اپنے گھر پہونچ کر سب کی دعوت کرتے ، جب دعوت سے فارغ ہوتے تو وہ صندوق منگا تے اور سب کو انکی تھیلیاں واپس فرماتے، یہ لوگ گھروں کو اس حال میں واپس ہو تے کہ سب کی زبانوں پر ہدیہ تشکر ہو تا اور ہمیشہ آپ کے مدح خواں رہتے ۔

آپ کی نوازشات کا یہ عالم ہوتا ، طرح طرح کے لذیذ کھانے اور حلوے ساتھ رہتے لیکن خود تیز دھوپ اور شدید گرمی میں روزہ دار ہوتے اور لوگوں کو کھلا تے پلاتے ساتھ لیجاتے تھے۔

خلوص نیت پر بہت زور دیتے تھے، آپ کے محامد و محاسن سے کتابیں بھری پڑی ہیں ۔

۱۸۱ ھ میں آپ جہاد کے لئے روانہ ہوئے، فتح و کامرانی کے بعد واپس آ رہے تھے کہ قصبہ سوس میں آکر علیل ہو گئے اور چند ایام کی علالت کے بعدوصال ہو گیا۔

دریائے فرات کے کنارے ایک گاؤں ’’ہیت ‘‘ میں مدفون ہوئے ، آپ کا مزار مرجع انام ہے۔

اساتذہ:۔ آپ کے اساتذہ کی فہرست نہایت طویل ہے ، ان میں سے چند مشاہیر یہ ہیں ۔

امام اعظم ابو حنیفہ، سلیمان تیمی، حمید الطویل ، یحیی بن سعید انصاری، سعد بن سعید انصاری، ابراہیم بن علیہ، خالد بن دینار، عاصم الاحول، ا بن عون، عیسی بن طہمان، ہشام بن عروہ، سلیمان اعمش، سفیان ثوری، شعبہ بن الحجاج، اوزاعی، ابن جریح، امام مالک، لیث بن سعد، حیوہ بن شریح، خالد بن سعید اموی، سعید بن عروبہ ، سعید بن ابی ایوب، عمرو بن میمون،معمر بن راشد، وغیرہم۔

تلامذہ:۔ سفیان ثوری، معمر بن راشد، ابو اسحاق فزاری، جعفر بن سلیمان ضبعی،، بقیہ بن ولید، داؤد بن عبد الرحمن عطار، سفیان بن عیینہ ، ابو الاحوص، فضیل بن عیاض، معتمر بن سلیمان، ولید بن مسلم، ابو بکر بن عیاش، مسلم بن ابراہیم، ابو اسامہ، نعیم بن حماد، ابن مہدی، قطان، اسحاق بن راہویہ، یحیی بن معین، ابراہیم بن اسحاق طالقانی، احمد بن محمد مردویہ، اسمعیل بن ابان وراق، بشر بن محمد سختیانی، حبان بن موسی، حکم بن موسی، سعید بن سلیمان،سلمہ بن سلیمان مروزی۔(تہذیب التہذیب لا بن حجر۔ البدایہ والنہایہ لا بن کثیر۔ انوار امام اعظم)