سوال ثانی : زید کسی پیر صاحب کا مرید ہو گیا ہے۔زید نے زلفیں رکھ لی ہیں،داڑھی کی کوئی حد نہیں داڑھی بھی نہیں کاٹتا۔سرمہ آنکھوں میں حد سے زیادہ لگاتا ہے اور مہینہ مہینہ کپڑے نہیں بدلتا۔نہاتا بھی کم ہی ہے۔دوسرے مشائخ عظام کو گالیاں نکالتا ہے جسکی وجہ سے بھائیوں میں اختلاف پیدا ہو رہا ہے۔زید کی منگنی بھی ہو چکی ہے اور اب لڑکی والے بھی رشتہ دینے سے کترا رہے ہیں۔زید کے مرشد تک بھی رسائی نہیں ہو رہی۔زید کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رشتہ نہ ہوا تو خاندان میں بہت مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔علامہ صاحب سے گزارش ہے اس کا ممکنہ حل تجویز فرمائیں

جزاکم اللہ خیرا کثیرا.

جواب أز ابن طفيل الأزهري ( محمد علي ):

آپکا یہ سؤال کئی استفسارات کا مرکب ہے لہذا ہم بالترتیب آپکے سؤال میں ذکر کردہ ہر استفسار کا جواب سپرد قلم کرتے ہیں:

زید کی زلفوں کے بارے میں آپکے استفسار کا جواب درج ذیل ہے:

آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کی مقدار تین طرح کی تھی جیسے کہ کتب أحادیث میں مروی ہے:

پہلی مقدار:

مبارک کندھوں تک .

جیسے کہ حضرت أنس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کان یضرب شعر النبي صلى الله عليه وسلم منكبيه .

ترجمہ: حضور صلی الله علیہ وسلم کے بال مبارک کندھوں تک ہوتے تھے.

(متفق علیہ؛ صحیح البخاری ، باب الجعد ، حدیث : 5904 صحیح مسلم ، باب صفة شعر النبي صلى الله عليه وسلم ، حديث: 2338 )

دوسری مقدار:

مبارک کانوں کی لو تک.

حضرت براء ابن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجلا مربوعا بعید ما بين المنكبين عظيم الجمة إلى شحمة أذنيه عليه حلة حمراء ، ما رأيت شيأ قط أحسن منه صلى الله عليه وسلم.

ترجمہ: حضور صلی الله علیہ وسلم ایک خوبصورت قد کی مالک شخصیت تھے ،دونوں کندھوں مبارک کے درمیان کشادگی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کانوں کی لو تک تھے ،آپ پر سرخ رنگ کا کپڑا مبارک تھا مینے آپ سے بڑھ کر کسی کو حسین نہیں پایا۔

(متفق علیہ؛ صحیح بخاری ، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث : 3551 ، صحیح مسلم ، باب فی صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔الخ ، حدیث: 2337 ، لفظ المسلم۔)

دوسری حدیث میں ہے کہ

حضرت أنس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أنصاف أذنيه .

ترجمہ: حضور صلی الله علیہ وسلم کے بال مبارک دونوں کان مبارک کے درمیان تک تھے

( صحیح مسلم ، باب شعر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 2338 )

تیسری مقداری:

مبارک کانوں کی لو سے لڑکتی ہوئیں مبارک زلفیں.

حضرت أنس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا ليس بالسبط ولا الجعد بين أذنيه وعاتقه.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک درمیانے ہوتے دونوں کانوں أور عاتق ( کندھے و گردن مبارک) کے درمیان تک ہوتے تھے .

( متفق علیہ ؛صحیح البخاری ، باب الجعد ، حدیث : 5905 ، صحیح مسلم ، باب صفة شعر النبي صلى الله عليه وسلم ، حديث: 2338 )

أحادیث مبارکہ میں ان مقداروں کے لیے لفظ ( لمة ، جمة ،وفرة ) کے الفاظ آئے ہیں ملاحظہ فرمائیں: جمع الوسائل شرح الشمائل ، لملا علی قاری ، باب ماجاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم .

جیسے کہ إمام نووی فرماتے ہیں:

فالجمة الشعر الذي نزل إلى المنكبين ، والوفرة ما نزل إلى شحمة الأذنين ، واللمة التي ألمت بالمنكبين.

ترجمہ:

جمہ وہ بال جو کندھوں تک آئیں ، وفرہ وہ بال ہیں جو کانوں کی لو تک آئیں ، أور لمہ وہ بال ہیں جو کندھوں کے درمیان تک آئیں.

( شرح صحیح مسلم للنووی ، 15/90 )

لیکن زید نے أگر تینوں مقداروں سے زیادہ بال رکھے ہوئے ہیں تو وہ سنن زوائد ( زلفوں والی سنت) پہ عمل پیرا نہیں، أسکو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زلفوں مبارک کی مقدار کے بارے میں بتایا جائے ، بالوں کو صاف ستھرا رکھنا بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے حتی کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جب بال بڑے دیکھتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم أن بالوں کی صفائی و ستھرائی و کٹنگ کا حکم فرماتے جیسے کہ درج ذیل احادیث مبارکہ میں ہے:

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أتيت النبي صلى الله عليه وسلم ولي شعر طويل، فلما رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال” ذباب ذباب” قال: فرجعت فجزرته ، ثم أتيته من الغد ، فقال: ” إني لم أعنك وهذا أحسن.

ترجمه:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو میرے لمبے بال تھے۔ فرمایا : مصیبت، مصیبت۔ میں گیا اور کچھ بال کاٹ دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا، تو فرمایا : میری یہ مراد نہیں تھی، بہر حال یہ بہتر ہے۔

(سنن أبي داود ، باب في تطويل الجمة ، حديث : ٤١٩٠، صحیحٌ)

سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ نے صحابی رسول سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کچھ ایسا بتائیں، جو ہمیں فائدہ دے تو، فرمایا :

قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ‘نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَیْمٌ الْـأَسَدِيُّ، لَوْلَا طُولُ جُمَّتِه وَإِسْبَالُ إِزَارِہٖ’، فَبَلَغَ ذٰلِکَ خُرَیْمًا، فَعَجِلَ، فَأَخَذَ شَفْرَۃً، فَقَطَعَ بِھَا جُمَّتَه، إِلٰی أُذُنَیه وَرَفَعَ إِزَارَہ، إِلٰی أَنْصَافِ سَاقَیه .

ترجمه:

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خریم اسدی بھی کیا خوب ہیں، اگر ان کے بال زیادہ لمبے نہ ہوں اور شلوار ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔ یہ بات خریم اسدی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے جلدی سے قینچی لی، بال کانوں تک کاٹ دئیے اور شلوار نصف پنڈلی تک اٹھا لی.

(سنن أبي داود ، باب ما جاء في إسبال الازار ، حديث : ٤٠٨٩ ، إسناد تحسين كا احتمال رکھتی ہے ؛ تحقیق مسند ، طبع رسالہ ، حدیث: 17622 )

لہذا بغیر صفائی و ستھرائی و کٹنگ کے بال رکھنا حضور صلی الله علیہ وسلم کو پسند نہیں تھے جیسے کہ أوپر دو واقعات میں گزر چکا ہے لہذا زید کو حضور صلی الله علیہ وسلم کا پسندیدہ فعل بتایا جائے ،

أور أگر وہ واقعی ہی حضور صلی الله علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے تو وہ أپنی زلفوں کی سیٹنگ و تہذیب ضرور کروائے گا.