حدیث نمبر :512

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے حالانکہ ہم دونوں جنبی ہوتے آپ مجھے حکم دیتے،میں تہبندباندھ لیتی تو مجھ سے جسم مس کرتے حالانکہ میں حائضہ ہوتی ۱؎ اور اپنا سر مبارک بحالت اعتکاف میری طرف نکال دیتے میں دھوتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ سے مسا س جائزہے مگریہ اس کے لئے ہے جواپنے نفس پرقابو رکھتاہواگر صحبت کر لینے کا اندیشہ ہوتو نہ کرے،جیسے روزے دار کے لئے بیوی کا بوسہ کہ جوان کے لئے مکروہ،بوڑھے کے لئے جا ئز۔اپنا واقعہ اس لئے ارشاد فرمایا تاکہ معلوم ہوکہ میں سنی سنائی نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ تجربہ سے کہتی ہیں میراخودعمل رہا یہ ایک قسم کی تبلیغ ہے بے تہذیبی نہیں۔آج ڈاکٹرطبی مسائل نہایت کھلے کھلے بیان کرتے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:”لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ”اسے بدتہذیبی کہناحماقت ہے۔

۲؎ کیونکہ حضور کے حجرے کا دروازہ مسجد میں تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ معتکف مسجد سے نکل نہیں سکتا لیکن بعض اعضاءنکال سکتا ہے۔اور حائضہ اپنے خاوند کی خدمت کرسکتی ہے کہ اس کے جسم کو چھو سکتی ہے۔