باب الحیض

حیض کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ غسل مسنون کے بعدفرض غسلوں کاذکرفرمارہے ہیں۔حیض اورحوض کے لغوی معنی بہناہیں۔شریعت میں عورتوں کے ماہواری خون کوجورحم سے آئے حیض کہاجاتاہے۔ولادت کے بعد آنے والا خون نفاس کہلاتا ہے۔بیماری کا خون استحاضہ۔حیض کی مدت کم از کم تین دن رات اور زیادہ سے زیادہ دس دن و رات۔نفاس کی کم مدت ایک ساعت اورزیادہ چالیس دن ہے،استحاضہ کی کوئی مدت نہیں۔حیض و نفاس کے احکام جنابت کی طرح ہیں کہ اس میں نمازوروزہ،قرآن شریف پڑھنا،چھونا،مسجدمیں جاناسب حرام ہے۔

حدیث نمبر :511

روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ یہودی ۱؎ جب ان میں عورت حائضہ ہوتی تو نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ انہیں گھروں میں ساتھ رکھتے۲؎ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے یہ مسئلہ حضورسے پوچھاتو اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری “لوگ آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں”الخ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صحبت کے سوا سب کچھ کرسکتے ہو۳؎ یہ خبریہودکوپہنچی توبولے کہ یہ صاحب ہمارے دینی کاموں میں سے کوئی چیز بغیر مخالفت کے نہیں چھوڑتے۴؎ پھرحضرت اسیدابن حضیر۵؎ اورعبادابن بشر۶؎ حاضرہوئے بولے یارسول اﷲ!یہودایساایسا کہتے ہیں توکیاہم حائضہ سے صحبت بھی نہ کرلیا کریں ۷؎ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انورغصہ میں بدل گیاحتی کہ ہم سمجھے کہ آپ ان پر ناراض ہوگئے ۸؎ وہ دونوں چلے گئے ان کے پیچھے حضورکی بارگاہ میں دودھ کاہدیہ آیا توحضورنے ان کے پیچھے آدمی بھیجا(بلانے کے لیئے)پھرانہیں دودھ پلایا تب سمجھے کہ حضوران پرناراض نہ ہوئے۔(مسلم)

شرح

۱؎ یعقوب علیہ السلام کی اولادیہودی کہلاتی ہے،اس لئے کہ انکے بڑے بیٹے کا نام یہوداتھایا اس لئے کہ انہوں نے بچھڑے کی پرستش سے اعلٰی درجے کی توبہ کی۔قرآن کریم میں ہے “اِنَّا ہُدْنَاۤ اِلَیۡکَ”غرض کہ ان کی نسبت یا اپنے جد کی طرف ہے یااس نیک عمل کی طرف۔

۲؎ اکثرہندوقبیلوں میں یہ رواج اب بھی ہے مگر یہ عمل اکثر بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

۳؎ یعنی حائضہ کے ساتھ رہنا،بسنا،اس کے ہاتھ کی چیزکھانا،اس کے ساتھ لیٹنا،بیٹھنا،بلکہ معانقہ وغیرہ سب حلال،ہاں اس سے صحبت حرام قطعی ہے جس کا منکرکافرہے۔

۴؎ یعنی انکے دین کادارومدارہماری مخالفت پرہے کہ جسے ہم براجانیں اسے یہ جائزکہہ دیتے ہیں۔یہودکی یہ بکواس اسلام اورپیغمبراسلام پربہتان تھی،اسلام نےکسی کی ضدمیں اچھی چیزکو برا اور بری چیزکو اچھا نہ کہا۔

۵؎ آپ انصاری ہیں،اوسی ہیں،حضرت مصعب ابن عمیر کے ہاتھ پر سعد ابن معاذ سے پہلے اسلام لائے،دوسری بیعت عقبہ میں شریک تھے،بدر اور تمام غزوات میں حضور کیساتھ رہے۔

۶؎ آپ انصاری ہیں،قبیلۂ بنی عبدالاشہل سے ہیں،حضور کی ہجرت سے پہلے مصعب کے ہاتھ پر اسلام لائے،تمام غزوات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

۷؎ تاکہ یہودکی پوری مخالفت ہوجائے۔اس سے معلوم ہواکہ صحابہ کرام کے دلوں میں کفار سے نفرت کمال درجہ کی تھی اوریہ نفرت کمال ایمان کی علامت ہے۔

۸؎ حضورکایہ اظہارغضب بڑی مصلحت پرمبنی تھاوہ یہ کہ منصوص احکام کسی قوم کی مخالفت کے لئے نہیں بدلے جا سکتے،داڑھی رکھنااورمونچھیں کٹانا اسلام کا حکم ہے،لیکن اب سکھوں کی مخالفت کے لئے داڑھی منڈائی نہ جائے گی۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض احکام صراحۃً دیئے جاتے ہیں،بعض اشارۃً۔